چڑیا نےگھر بنایا - نصرت یوسف

میز پر رکھی فائلوں اور کاغذات کو ترتیب دیتے اس کی نگاہ بےاختیار ٹیبل کلینڈر پر اٹھی، مارچ کی ایک مانوس سی تاریخ پر گلابی دائرہ بنا تھا، اس کے متحرک ہاتھ تھمے۔ آنکھیں چمکیں، ہونٹوں کے گوشے مسکرا گئے۔ بس لمحہ ہی میں یہ سب تھا، پھر وہ دوبارہ کام میں مصروف ہوگئی۔ گھنگریالے بھورے بالوں سے لٹیں نکل کر کام میں خلل ڈالنے لگیں تو چٹیا کو اس نے رول کی شکل میں لپیٹ لیا۔ اس کی زندگی میں فرصت کے لمحات وافر نہ تھے۔ آج کل وہ سست تھی، بس دو بیٹے تھے، بلا کے شرارتی، باپ کا خیال تھا یہ دو چھ برابر ہیں، چھ نہیں تو چار تو ضرور ہیں، بچے تو بچے، بچوں کے والد کو بھی زیرلب وہ چار بچے برابر ہی کہتی تھی۔گویا آٹھ بچوں کے حساب سے ہر صبح اسے اپنے کاموں کی ترتیب رکھنی ہوتی تھی۔

یہ اس کی کلی ذمہ داری نہ تھی، کتنے اور کام اس نے اپنی ذمہ داری بنا رکھے تھے، مشترکہ خاندانی نظام تھا۔ ساس سسر اور تین شادی شدہ دیور۔گھر کی پہلی بہو تھی، بقول ساس، گھرانے کی پہلی اینٹ عمدہ ہو تو باقی دیوار کی کمزوریاں نمایاں نہیں ہوتیں۔ بات صحیح تھی یا غلط ، اس نے بہرحال عمدہ اینٹ ہی رہنا چاہا۔

رب نے اس کو سوہنا بنایا تھا، اس لیے جب اس کی دیورانیاں افزائش حسن پر، لمبی موبائل کالز پر، پیچیدہ کھانوں کی تیاری پر وقت لگاتیں تو وہ اردگرد کے انسانوں کو فیض پہنچا رہی ہوتی، ساس کے ساتھ وقت، پڑوسن کا آن لائن بل جمع،گھر کی ماسیوں پر نگاہ، کسی بھی دیورانی کی بیماری میں بن کہے اس کے حصے کا کام کر دینا، نند کو اس کی پسند کا کیک بنا دینا، بچوں کے ساتھ ان کے پسند کے ٹی وی پروگرام دیکھنا۔ کبھی کچھ کبھی کچھ، بس وہ ہر وقت ہی ''عمدہ اینٹ'' بنی نظر آتی۔

ایسے میں یہ بھی ہوتا کہ سہ پہر اسے آرام کے وقفہ کی ضرورت ہوتی لیکن اس کے شرارتی بچوں نے اس کا کمرہ الٹ پلٹ کر رکھا ہوتا، وہ جو اتنی نفاست پسند تھی، سرد آہ بھر کر خاموشی سے اسی کیفیت میں آرام کا کچھ وقت گزار کر پھر کھڑی ہوجاتی۔ میاں اس کا قدردان تھا لیکن اعتراف محبت کے لیے کم گو تھا۔ ساس نند کے لیے وہ باعث سکون تھی، لیکن چھٹی بھی اسی کی بند ہوتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   حجاب :حسن نسوانیت - ڈاکٹر ساجد خاکوانی

دیورانیوں کو یہ ہی رشک رہتا کہ جٹھانی کے بچے جنک فوڈ کھا کر بھی بیمار نہیں ہوتے، ہمیں ڈاکٹروں کے کلینک سے فرصت نہیں ملتی۔ وہ یہ سن کر دھیمے سے مسکرا جاتی، کیسے راز کھول دیتی کہ ملنے والی دعائیں اس کو بہت سی زحمتوں سے محفوظ رکھ لیتی ہیں۔

کثیر افراد دن رات ایک ساتھ تھے تو ضبط کے امتحان بھی کثرت سے تھے۔ مٹی کے انسان بھی ایک دوسرے کے لیے بےحس ہوجاتے، ایک وہ تھی جس کی نگاہیں منظر سے پس منظر کو دیکھتی رہتیں، اس نے خار بونے سیکھے ہی نہ تھے اور گلاب لگاتے لگاتے اس کی آنکھیں بھیگ بھیگ جاتیں۔ وہ میاں سے دھیمے سے کہتی آنکھ بدلنے سے بہتر ہے کوچہ بدل لو لیکن میاں کو نہ جانے اس کی باتیں معمہ کیوں لگتیں، اس کا مانند پڑتا روپ اسے کیوں نہ دکھتا۔

وہ بیس برس کی بیاہ کر آئی تھی، پورے پندرہ برس میں اس نے یاد نہ رکھا تھا کہ کبھی وہ بہت عمدہ مصورہ تھی، اس نے بائیو کیمسٹری میں آنرز کیا تھا۔ اس کی آواز میں گیت رسیلے ہو کر سحر سا طاری کر دیتے۔

وہ کیا کیا تھی؟ اس فہرست کی ہر سطر میں رنگ، ہنر اور جلترنگ ہنسی تھی۔
وہ کیا کیا ہے؟ یہ ایک بالکل مختلف فہرست بن چکی تھی۔ اس فہرست میں رتبے، اعزازات، درجات اور تقدس تھا، لیکن اسے لگتا اس کی ہر سطر میں بھنور اور گرد جمع ہونے لگی ہے۔

خواہشات کو خلش نہ بنانے کا ہنر نہ جانے اس نے اپنی ماں سے سیکھا یا قدرت کی عطا تھی، جو بھی تھا وہ مچلتے جذبات تھپک ہی دیتی۔ لیکن کوئی نہ جانتا تھا کہ وہ آج بھی اپنی ماں کی وہی ننھی سرخ چڑیا ہے جو گیت گانا چاہتی ہے، ستاروں کو تکتی ہے،گلابوں کے جھنڈ میں رہنا چاہتی ہے۔ اس کے ماحول میں گھومنا پھرنا وقت اور مال کا ضیاع سمجھا جاتا تھا لیکن ہر سال مارچ میں اس کا میاں اس کی خواہش پر اسے پھولوں کی نمائش ضرور لے جاتا، وہ وہاں جاکر ایسے خوش ہوتی جیسے پھول اس سے ہم کلام ہوں۔ پتے اس کے ساتھ گیت گاتے ہوں، اس سال مارچ میں وہ نہ جا سکی۔ حالانکہ تاریخ کےگرد دائرہ بن گیا تھا لیکن پھر بھی وہ اسے جشن بہاراں نہ لے جا سکا، اس سرمئی سی شام رب نے اس کی بانہوں میں گلابی کلی اتار دی تھی۔ اس کو لگا جیسے ہر طرف جگنو چمک اٹھے ہوں، فصل گل ہسپتال کے اس کمرے میں اگ آئی ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   حجاب :حسن نسوانیت - ڈاکٹر ساجد خاکوانی

اس کی ماں نے بیٹی کی وارفتگی دیکھی اور اس کی آنکھیں ڈبڈبا سی گئیں، وہ جانتی تھی اس کی بیٹی نے کیا کچھ اپنے اندر سمیٹ رکھا ہے، اس کی سرخ چڑیا کی چونچ میں دبی سرخ بیری جب بھی زرد سی لگتی ہے، وہ بیری کا رخ بدل لیتی ہے ، ایسے جیسے اس کی چونچ میں ہر وقت مہکتا پھل ہو۔
بھیگی پلکوں سے ماں نے داماد کو قریب آتے دیکھا اور ہونٹ مسکرا اٹھے۔

''مبارک ہو، بیٹی بھی اور اپناگھر بھی''۔گلابی کلی کو چومتے باپ کی آنکھوں میں بیوی سے بات کرتے روشنیاں جکمگا رہی تھیں، کھڑکی سے سامنے نظر آتا آسمان ستاروں سے بھرا تھا۔
وہ ہنس پڑی۔ اس کے زرد ہوئے عارضوں میں لگتا تھا رنگ اتر آئے۔ ماند پڑتی آنکھوں میں دیے جل اٹھے۔

ماں نے ایک گہری سانس لی۔ پندرہ سال میں چڑیا کی صبر کی دال اور چڑے کی متانت کے چاول نے بلآخر روح میں اتری اداسیوں کے لیے ساز چھیڑ ہی دیا تھا۔

Comments

نصرت یوسف

نصرت یوسف

نصرت یوسف جامعہ کراچی سے فارغ التحصیل ہیں. تنقیدی اور تجزیاتی ذہن پایا ہے. سماج کو آئینہ دکھانے کے لیے فکشن لکھتی ہیں مگر حقیقت سے قریب تر. ادب اور صحافت کی تربیت کے لیے قائم ادارے پرورش لوح قلم کی جنرل سیکریٹری ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.