پرسکون زندگی گزارنے کے 8 اصول - میاں جمشید

اللہ تعالی کی ہم سب پر بہت رحمتیں ہیں مگر ہمیں احساس نہیں ہوتا۔ ہم مشکلات پر ، ناپسندیدہ حالات و واقعات پر ایسے چیختے اور چلاتے ہیں کہ بے ادبی کی حدود پھلانگ جاتے ہیں۔ اللہ سے شکوہ و شکایت کرنا، صرف میں ہی کیوں، میرے ساتھ ہی ایسا کیوں وغیرہ جیسی باتیں کرنا آج کل بہت عام ہوتی جا رہی ہیں۔ دراصل ہمیں اپنے آس پاس کوئی اچھے سے سمجھنے والا اور سلجھانے والا نہیں ملتا۔ ہر کوئی اپنے مخصوص نظریہ کے مطابق ہمیں بتاتا تو ہے مگر پوری توجہ سے ہماری سنتا نہیں ہے۔ اوپر سے ہم خود بھی اپنی گزرتی زندگی اور اس میں درپیش حالات کا سنجیدگی کے ساتھ تجزیہ نہیں کر پاتے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ جب ہم خود اپنے آپ کو وقت نہیں دیتے، خود کو نہیں سمجھتے نہ سمجھا سکتے ہیں تو بھلا کوئی دوسرا کیسے بہتر طریقے سے ایسا کر سکتا۔

اگر غور کریں صاحبو، تو پتہ چلتا ہے کہ زندگی جیسی انمول نعمت کوگزارنا بہت ہی آسان ہے۔ ہم پر جو پریشانیاں، مشکلات، افسردگیاں آتی ہیں وہ زیادہ تر ہماری اپنی کوتاہیوں، کم علمی، رویوں اور سوچ و عمل پر قابو نہ ہونے کی وجہ سے آتی ہیں۔ یاد رکھیں کہ زندگی کو سمجھنا تا حیات عمل ہے۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے زندگی کی مکمل سمجھ بوجھ حاصل ہوگئی ہے۔ مگر ہم صرف ایسے بنیاد ی اقدامات کو ضرور اپنا سکتے ہیں جن کے اختیار کرنے سے ہماری زندگی کافی حد تک آسان ہو سکتی ہے۔ اس آرٹیکل میں میں ایسے ہی آٹھ اہم اصولوں کی آگاہی دوں گا ۔ چلیے پھر میری اگلی ترتیب کردہ باتوں کو لفظ با لفظ سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کے لیے تیار ہو جائیے۔

1۔ اچھے سے سمجھنا
ہمیں صرف بڑی اور اہم باتوں کو ہی اچھے سے جاننے اور سمجھنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ چھوٹی موٹی ہر بات کو جس سے ہمارا واسطہ پڑنا ہوتا ہے، اسے اچھے سے سمجھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ کوئی کام چاہے جتنا بھی معمولی یا عام کیوں نہ ہو، اس کو کرنے یا اپنانے سے پہلے اس کی تفصیلات کو اچھے سے جاننا سمجھنا اور پھر کرنا ضروری ہے۔ یا اگر کوئی کام فوری شروع کرنا ضروری بھی تو ساتھ ساتھ اس کو جانتے اور سمجھتے جانا جاری رکھیں۔ سر پر فوری سوار کر کے اور بغیر تیاری کے کوئی بھی کام ہمیشہ مشکل میں ہی ڈالتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ آرام اور سکون سے کام اور معاملہ کو سمجھ کر انجام دینے کی کوشش کریں ۔

2۔ اہم کاموں اور باتوں کو نوٹ کرنا
آپ نے جو کام اگلے دن یا اس کے بعد کرنا ہے تو اس کو اپنے پاس لکھ کر سامنے رکھیں۔ اگر آپ کو اپنی یادداشت پر بھروسہ ہو کہ نہیں اس کی ضرورت نہیں، تب بھی ایسا لازمی کیا کریں۔ ایسے میں ایک ترتیب قائم ہوگی۔ آپ کے سامنے ایک واضح تصویر ہوگی کہ آپ نے کب کیا کرنا ہے؟ کیسے کرنا ہے؟ وغیرہ، ایسے میں ٹال مٹول اور لٹکانے والی عادت پر بھی قابو آ جائے گا۔

3۔ ایک وقت میں ایک کام پر توجہ
ہمیں یہ بات اب اچھی طرح سے ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہمارا دماغ ایک وقت میں زیادہ کاموں میں مصروف رہنے کی وجہ سے کبھی بھی بہترین نتیجہ فراہم نہیں کر سکتا۔ اس لیے ہمیں اپنے فوکس کو ٖصرف ایک کام پہ رکھنا چاہیے، اس کے بعد ترتیب وار باقی کام۔ اگر ایسا نہ ہو تو جہاں طبیعت میں چڑچڑا پن آ جاتا ہے وہیں پر کام کا نتیجہ بھی معنی خیز نہیں ہوتا۔

4۔ جلد اور مکمل بھروسہ کرنے سے بچنا
ہمیشہ اپنے احساسات اور جذبات کو قابو میں رکھنا ہے۔ کسی بھی فیصلہ، کام یا کسی شخص پر بھی فوری اور مکمل اعتماد بالکل بھی اچھا نہیں ہوتا۔ کسی اور پر انحصار جہاں ہماری شخصیت کو کمزور بناتا ہے وہیں پر اکثر اوقات غلط نتیجہ کی طرف بھی لے کر جاتا ہے۔ ایسا کرنے سے پہلے اس کے مفید یا مثبت نتیجہ حاصل ہونے کے بارے میں سوچ لیا کریں۔ ویسے بھی اس دنیا میں سب سے قابلِ بھروسہ وجود صرف آپ کا اپنا آپ ہی ہے صاحب۔

5۔ فوری امید لگانے پر قابو
ایسا ہو جانا فطری بات ہے مگر اس پر قابو پانے سے بندہ بہت سلجھن میں رہتا ہے ۔ بار بار کی امید ٹوٹنے سے ہی اکثر لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ کسی سے بھی فوری اور مستقل امید لگانا لا حاصل ہوتا ہے ۔اس لیے ہر کام کو اپنی مکمل کوشش کرنے کے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینے سے زندگی سہل ہو جاتی ہے ۔

6۔ ترتیبِ ترجیجات اپنانا
آپ کو پتہ بھی ہونا چاہیے اور فرق کرنا بھی جلد سیکھ لینا چاہیے کہ کون سا کام آپ کے لیے موجودہ وقت میں بہت اہم ہے اور کون سا فی الحال کم ضروری۔ پھر اسی حساب سے اپنی قوت کام پر صرف کریں۔ ہمیشہ وہ کام پہلے کیا کر لیا کریں جو مشکل لگ رہا ہو۔ اسی حوالے سے ایک اہم ضرب المثل ہے کہ "سب سے پہلے مینڈک کھاؤ " مطلب کہ ہمیشہ پہلے وہ والا کام نبٹاؤ جس کو کرنے پر طبیعت آمادہ نہ ہو مگر کرنا بھی بہت ضروری ہو۔

7۔ نہیں کرسکتا /سکتی کہہ دینا
ہم اکثر تکلف میں، پریشر میں یا مروت میں آ کر کسی کام کوکرنے کا یا کسی کے کام آنے کا کہہ تو دیتے ہیں مگر پھر مشکل میں آ جاتے ہیں۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ آپ پہلے ہی اچھے طریقے سے " نہ " کر دیں اور ایسا کہنے میں کبھی بھی شرمائیں مت۔ شروع میں مودبانہ معذرت کر لینا زیادہ بہتر ہے، اس بات سے کہ آپ پہلے ہاں کر کے خود کو پھنسا ہوا محسوس کریں اور کام سر انجام نہ دے سکیں۔ اس لیے "ہاں" صرف تب ہی بولیں جب دلی طور پر یا کسی ضروری شرائط کے تحت کام کر سکتے ہوں ۔

8۔ موازنہ نہیں کرنا
ہمارا خوش ہونا، مسکراتے رہنا اور بااعتماد ہونا اچھی زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ ایسا سب فوری تبھی ختم ہو جاتا ہے جب ہم کسی کے ساتھ اپنا منفی موازنہ کرتے ہیں۔ اسی سے دل میں حسد اور احساسِ کمتری پیدا ہونے کا امکان ہوتا ہے جو بے سکونی کا باعث بنتا ہے۔ آپ جو بھی ہیں، جیسے بھی ہیں، اس کو اللہ کی رضا مان کر اپنی مکمل کوشش کرتے آگے بڑھتے جائیں بس۔ اپنے کام، اپنی قوت و صلاحیت پر بھرپور بھروسہ رکھیں۔ جس کمی و کوتاہی کو آپ دور کرسکتے ہیں تو اس پر پوری کوشش صرف کریں اور جو آپ کے اختیار میں نہیں ہے، اس کا موازنہ مت کرتے رہا کریں۔

تو جناب یہ وہ آٹھ بنیادی باتیں ہیں جن پر مسلسل عمل کرتے رہنے سے زندگی میں آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ سب حتمی اصول نہیں ہیں، آپ اس میں اپنے تجربے کے حساب سے کمی و بیشی کر سکتے ہیں۔

حرف ِآخر یہ ہے دوستو کہ اس نفسا نفسی، بھاگ دوڑ اور تیز رفتار زندگی میں نماز، قرآن کے ساتھ سمجھ اور شعور سے جڑے رہنے سے ہی لطف و سکون والی زندگی میسر ہوتی ہے۔

Comments

میاں جمشید

میاں جمشید

میاں جمشید، زندگی کے مشکل حالات کا مسکرا کر مقابلہ کرنے کے ساتھ رسک لینے اور ہمت سے آگے بڑھتے رہنے پر یقین رکھتے ہیں۔ کچھ نیا و منفرد کرنے اور سیکھنے و سکھانے کا شوق بھی ہمیشہ ساتھ ساتھ رہا ہے اسی لیے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مختلف معاشرتی موضوعات پر اصلاحی اور حوصلہ افزاء مضامین لکھتے ہیں۔ اسی حوالہ سے ایک کتاب "حوصلہ کا گھونسلا" کے مصنف بھی ہیں۔ان سے فیس بک پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.