[نظم کہانی] نشست - محمد عثمان جامعی

میں تھکن لیے جب بس میں چڑھا

تو پوری بس کو بھرا پایا

تھا لمبا سفر اور تھکن اِدھر

دل خالی سیٹ کو للچایا

سوچا کہ پیسے خرچ کروں

اور کوئی سیٹ خریدوں میں

اک پھٹے حال محنت کش کو

یہ دکھا کے سو کا نوٹ کہا

”یہ پکڑو، سیٹ مجھے دے دو

پَل چین اور راحت کے دے دو“

غصے سے اُس نے مجھے دیکھا

مِرا ہاتھ جھٹک کے کہنے لگا

”میں کوئی بکاؤ مال نہیں

میں نہیں ہوں رکن اسمبلی کا

یہ بس ہے، تم کیا سمجھے تھے

یہ نہیں ہے ایوانِ بالا“