اپنا کھانا خود گرم کرلو-عائشہ غازی

لاکھوں مزدور 'عورتیں' اور مٹھی بھر موم بتی 'خواتین' ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تضاد اور منافقت ایک المیہ ہے ۔۔۔

'اپنا کھانا خود گرم کر لو ' ۔۔۔۔ یہی پوسٹر اٹھائے جب موم بتی خواتین کی حقوق کی جنگ لڑ رہی ہوتی ہیں ، عین اس وقت مزدور عورت کسی موم بتی خاتون کے گھر پر ان کے شوہر اور بچوں کے لئے کھانا بنا رہی ہوتی ہے، ان کی شتر بےمہار اولاد کی دیکھ بھال کر رہی ہوتی ہے، ان کے شوہروں کی خبیث نظروں کو برداشت کرتے ہوئے وہ گھر صاف کر رہی ہوتی ہے جو ان موم بتیوں نے صاف کرنا تھا، وہ کپڑے دھو رہی ہوتی ہے جو ان کے گھر والوں نے اتارے ہیں، وہ برتن دھو رہی ہوتی ہے جن میں ان موم بیتیوں نے کھانا کھایا ہے ۔۔۔ اور مزدور عورت یہ سب اس لئے کر رہی ہوتی ہے کہ سارا دن ان کے گھر کے کام میں اپنی جان گھلا دینے کے بعد اس نے شام کو اپنے گھر کا چولہا جلانا ہے، اپنے اولاد کو کھانا دینا ہے ۔

میں نے مزدور عورت کو اپنے بیمار بچے کے لئے سلگتے دیکھا ہے جو موم بتی عورت کے شاپنگ سے لوٹ آنے تک اپنے گھر نہ جانے کی پابند ہے ۔۔۔ میں نے مزدور عورت کو برتن دھوتے ہوئے پلٹ پلٹ کر اپنے چھوٹے بچے کو جھڑکتے دیکھا ہے جو بھاگ کر اس مشین کی طرف جاتا ہے جس میں موم بتی کی اولاد کے کپڑے دھل رہے ہیں ۔۔ میں نے مزدور عورت کو موم بتی کی اولاد کا ہر ستم سہتے دیکھا ہے جب موم بتی ٹانگیں صوفے پر رکھے ایک دوسری موم بتی سے فون پر بات کر رہی تھی ۔۔ میں نے اپنی گناہگار آنکھوں سے سات ماہ کی حاملہ مزدور عورت کو سونے سے پہلے گھنٹوں اپنی موم بتی مالکن کی ٹانگیں دباتے دیکھا ہے ۔۔ میں نے مزدور عورت کو نیند سے گھائل ہو کر بھی اس موم بتی کے گھر کا کام کرنے پر مجبور دیکھا ہےجو موم بتی فارغ بیٹھی نیند کے لئے ترستی ہے ۔۔

عورت تو پھر عورت ہے ، میں نے دس سال کی بچی کو اپنی موم بتی مالکن کے دس سالہ بچے کا یونیفارم خود سکول جانے کی حسرت کے ساتھ استری کرتے دیکھا ہے۔۔ میں نے اسی دس سالہ بچی کے ہاتھوں پر موم بتی مالکن کے تشدد کے نشان دیکھے ہیں کیونکہ اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ جب فرش صاف کرتے ہیں تو وہ اتنا صاف نہیں ہوتا کہ موم بتی کو اس میں اپنا بھیانک عکس دکھ سکے ۔۔

مزدور عورت کھیت سے لے کر اینٹوں کے بھٹے تک ، گھروں میں کام والی سے لے کر بسوں میں ہوسٹس تک بنی کھڑی اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پال رہی ہے۔۔۔ انہیں یہ آزادی نہیں چاہیئے جو موم بتی والی مانگتی ہے ،اس کا خواب وہ گھر اور گھر والا ہے جو اسے اس برابری سے نکال کر دو وقت کی روٹی گھر بیٹھے دے سکے، جو اس کا پہرے دار بھی ہو اور ولی بھی ۔ جو عزت موم بتی عورت اپنے گلے کا طوق سمجھ کر اتار اتار کر پھینک رہی ہے ، وہ عزت کسی مزدور عورت کا خواب ہے جو اسے اترن کی صورت میں بھی نہیں نصیب نہیں ۔

کچھ مزدور عورتیں وہ بھی ہیں جو خوش بخت ہیں کہ انہیں چادر اور چاردیواری کی سفید پوشی نصیب ہے جس کے بدلے ان کا دن رات ان کے خاندان کے لئے وقف ہے۔ ان پر بات پھر کبھی سہی ۔۔۔

موم بتی خواتین کی گھناونی منافقت ان پر ایسے مسلط ہے کہ ان کے لنڈا برانڈ کے میک اپ کی تہوں کے پیچھے سے بھی وحشت ٹپکتی ہے۔۔ اور وہ کسی پرانے کپڑوں میں لپٹی مزدور عورت کی حیا ، وفا اور کردار کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔۔ ان موم بتیوں سے درخواست ہے کہ جب یہ پوسٹ کارڈ اٹھائے اپنے لئے مادر پدر آزادی مانگ رہی ہوتی ہیں تو کم سےکم اپنے گھروں میں معمولی اجرت پر مقید ان مزدور عورتوں کو ان کی لا متناہی بد نصیبی سے آزاد کروا دیا کریں تاکہ ان کی منافقت ان کے چہروں اور کرداروں کو وحشتناک نہ کرے۔

Comments

عائشہ غازی

عائشہ غازی

برطانیہ میں مقیم عائشہ غازی وکیل، سماجی کارکن، ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ، اور فری لانس جرنلسٹ ہیں۔ تھر اور ڈرون متاثرین پر ڈاکومنٹری بنا چکی ہیں۔ جذبات شعر کی صورت ڈھالنے کا ہنر رکھتی ہیں، شاعری کی دو کتب شائع ہوئی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.