ہمیں کا فر کی مو ت ما را جائے -سدرہ سحر عمران

میں اگر اپنی نظر میں مسلمان ہوں تو یہ میری غلط فہمی ہے۔ میرے بارے میں دوسرے فرقے والوں سے پوچھو۔ وہ کہے گا یہ کا فر ہے۔اس کا دین ، مذہب ، مسلک سب مشکوک ہے۔ اس کی نماز الگ، اس کی اذان جدا، اس کی سنت الگ، اس کی حدیث جدا، اس کی قرآنی تفسیر الگ، اس کے دینی مسائل جدا۔ یہ میرے جیسی نہیں۔۔یہ میری طرح ہو ہی نہیں سکتی۔تو پھر میں خود کو مسلمان کیوں کہوں۔۔کافر کیوں نہ کہوں؟

جب خدا کے نام لیواؤں کے نزدیک لفظ مسلمان کی حرمت ہے نہ توقیر۔۔تو دنیا کی نگاہ میں اسلام کے جھنڈے لہرانے کا کیا فائدہ؟یہ چھ چھ کلمے منہ زبانی یاد کرنے والے خود کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائے آ ج تک۔ یہ مزاروں، میناروں، قبروں کے گرد ہو جما لو کرنے والے زندوں سے بے پروا ۔۔۔انہیں کیا پتا کہ اسلام کیا ہے ؟ اور اگر اسلام ایک کلمہ ہی ہے تو تم سنی ، وہابی ، دیوبندی ، شیعہ ، بریلوی کیوں ہوگئے ؟

کوئی کلمہ گو مشرک ہے ۔ کوئی کلمہ گو ملحد ۔سب نے اپنی مرضی کا خدا تراشا ہوا ہے ۔ سب کی اپنی پسند کی مسجدیں ، امام اور سجدے ہیں ۔ سب کی اپنی خواہش کے تابع دین داری ۔ تو پھر کس بات کا جھگڑا ہے ؟ کس بات کا شور شرابا ہے ؟ ہم سب اپنی جگہ کافر ہیں۔ مسلمان تو ہمیں دنیا کہتی ہے۔ عیسائی، یہو د و نصاری کہتے ہیں۔ ہمیں تو یہ ٹیگ ہی خود پر سے اتا ر لینا چاہئے ۔ اس ٹیگ نے ہمیں دنیا بھر میں رسوا کر رکھا ہے ۔ہمیں دہشت گرد ، ظالم ،خائن ،غاصب، کینہ پرور ، وحشی ، جاہل ، گنواربنا رکھا ہے ۔ جہاں ہمارے مذہب کا خانہ آ تا ہے ہماری طرف بندوقیں تان لی جاتی ہیں ۔ کبھی نظروں کی ، کبھی لہجوں کی ، کبھی باتوں کی ، کبھی مشینوں کی ،کبھی ہتھیاروں والی ۔ وہ تعویذ جو اسلام کے نام پر ہم نے اپنے اپنے گلوں میں ڈال رکھا ہے ۔ آ ج اس تعویذ نے مشرق کو نفرت اور فرقہ واریت کی جنگ میں لہولہا ن کر رکھا ہے ۔ یہی کلمہ گو اس پر تیل و بارود چھڑک رہے ہیں ۔ اس آ گ کو دہکا رہے ہیں ۔خود اپنے ہاتھوں سے خدا کے نام لیواؤں کو مو ت کے گھاٹ اتار رہے ہیں ۔ انہوں نے فرض کر لیا یہ سب کافر ہیں ۔ انہیں مارو۔۔انہیں کتنے کی موت مارو ۔

یہ بھی پڑھیں:   سنکیانگ میں کیا ہو رہا ہے؟ - شہباز رشید بہورو

ان کی جنگیں مرنے والوں کے لیے ہیں ۔یہ زندہ لوگوں کے حق میں کھڑے نہیں ہوتے ۔ یہ مردہ پرست۔ انہیں لاشیں چاہیے ۔ انہیں جنازوں سے انسیت ہے ۔ انہیں نوحوں سے لگاؤ ہے۔ انہیں مرثیوں سے محبت ہے ۔ انہیں نماز جنازہ کے علاوہ کوئی نماز نہیں چاہئے ۔ یہ خود کو مٹاکر خوش ہو تے ہیں ۔ یہ غم حسینؓ میں رونے والے ، یہ علیْ ؓ،عثمانؓ ، عمرؓ کی شہادتوں پر نعرے ایجاد کرنے والے شامیوں کے لیے ہا تھ نہیں اٹھاتے ۔ کیوں کہ ان کی لغت میں وہ بھی کافر ہیں ۔ وہ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے دہشت گرد ہیں ۔ وہ مرد و زن داعش کے نرغے میں ہیں ۔ اس لیے انہیں مرنا ہے ۔ انہیں قبریں مبارک ہوں ۔ انہیں بھوک، پیاس، فساد، مٹی ،زخم ، لہو مبارک ہو ۔

ان کے اندر کا بغض ، کینہ ، فساد ، نفرت کب ختم ہو گی؟ یہ کب مسلمان ہو کر سوچیں گے ؟

انہوں نے دل اور دنیا بہلانے کے لئے داعش کو ہتھیار بنالیا۔ اپنی گلو خلاصی کروانے کے لیے یہ خارجیوں کی آڑ لینے لگے ہیں ۔انہیں ’’مسلمانوں ‘‘ کا درد نہیں ستاتا۔ یہ پہلے سرٹیفیکٹ مانگتے ہیں ۔ مرنے والے سنی ہیں یا شیعہ ؟ بریلوی ہیں یا وہابی ؟

ان کی آ نکھوں کے سامنے ، ان کی ناک کے نیچے، ان کے ہمسائے میں ، ان کے مشرقی عزاخانے میں شامیوں کی شامِ عزا جاری ہے ۔ایک لہو بھرا فرات غوطہ میں بہہ رہا ہے لیکن انہی میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اس فرات کو وضو خانہ بنالیا ۔کوئی احتجاج کے لیے ہاتھ بلند کرتا ہے تو یہ لوگ آگے بڑھ کر گریبان پکڑنے لگتے ہیں ۔ پوچھتے ہیں یمن میں خونیں یلغار جاری تھی تو تم کہاں تھے ؟ انہیں مولی گاجر کی طرح کٹتے بچوں، مرد و زن کی موت کا دکھ نہیں رلاتا. انہیں سنی ، وہابی ، دیوبندی ، شیعہ کی موت کی تخصیص چاہیے ۔انہیں فرقوں کا مو نو گرام چاہیے ۔ یہ دیکھ بھال کر غم مناتے ہیں ۔۔یہ سوچ بچار کے بعد آ نسو بہاتے ہیں ۔انہیں پوری پلاننگ کے ساتھ غم منانا ہے ۔ انہیں پوری تفصیل جاننے کے بعد تعزیت کرنی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   سنکیانگ میں کیا ہو رہا ہے؟ - شہباز رشید بہورو

اسی سوشل میڈیا پر کتنے ہی کینہ پرور ایسے ہیں جنہوں نے اہل دل و دردمند کو اپنے لفظوں کے ریشم میں پھنسا دیا۔انہیں رو نے بھی نہیں دیتے ۔ ہاتھ بھی نہیں اٹھانے دیتے ۔ طرح طرح کے لفظوں جالوں میں الجھا لیتے ہیں ۔ اپنی مرضی کی تشریحیں کرتے ہیں اور غوطہ والوں کے حق میں مغفرت کی ایک دعا بھی نہیں جانے دیتے ۔ یہ انسانیت کی شطرنج پرمذہب اور فرقے کا کھیل کھیلنے والے۔۔تم سب ان سے کہو کہ ہم کافر ہیں ۔ہم مسلمان نہیں ہیں ۔یہ اسی کے بعد تمہاری جان چھوڑیں گے ۔ ہاں۔۔ان سے ہم نے خود پر سے مسلمان ہونے کا ٹیگ ہٹا دیا ہے ۔اب ہم کا فر کی موت مریں گے ۔ کم ازکم مرنے کے بعد تو کوئی فرقہ بندی نہ رہے ۔

Comments

سدرہ سحر عمران

سدرہ سحر عمران

سدرہ سحر عمران کی شخصیت کئی رنگو ں کا امتزاج ہے۔ ان کے باغی خیالا ت مصنوعی رسم و رواج، نمائشی مذہبیت اور معاشرے کی غیر منصفانہ تقسیم سے متصادم ہیں۔ ان کی نظموں کے مزاج میں بلا کی سفاکیت، کاٹ اور شدت پسندی ہے تو ایک اسکرپٹ رائٹر کے بطور یہ رنگ جذبات و احساسات، محبت اور سماجی رویوں کے عکاس ہیں۔ ان کی نثر میں طنز و مزاح بھی ہے، برجستگی اور روانی بھی۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.