مکتبِ فراہی میں الفاظِ قرآن کی حاکمیت کا مسئلہ - سید متین احمد شاہ

فکرِ فراہی سےواقفیت رکھنے والے اہلِ علم قرآنیات کے باب میں اس کے اس بنیادی اصول سے واقف ہیں کہ الفاظِ قرآن کی حاکمیت کو ہرصورت باقی رکھا جائے گا اور اس کو روایات کی وجہ سے ترک نہیں کیا جائے گا۔ چناں چہ اس مسئلے کو فروری 2018ء کے ماہنامہ "اشراق" میں محترم جاوید احمد غامدی صاحب کے فاضل شاگرد جناب ساجد حمید صاحب نے ایک علمی وتحقیقی مقالے "مدعاے متکلم اور الفاظ کی اہمیت" کے ضمن میں علمی انداز میں شرح و بسط سے بیان کیا ہے۔

اس باب میں ماضی میں مسلم فکر سے، خصوصا فقہی امور میں، جو لغزشیں (ان کی نظر میں) ہوئی ہیں، ان کو بیان کرتے ہوئے مقالے کے آخر میں لکھتے ہیں:
"ماضی میں جب ہم نے فقہی اختلافات کے حل کی کش مکش کے دوران میں اپنے حق میں روایاتِ آحاد کو اور قیاس کے نام پر عقل کو استعمال کیا، تو بعض نے خاموشی سے اور بعض نے علانیہ کلام الٰہی پر تہمت دھر دی کہ اس کے الفاظ کی دلالت تو ظنی ہوتی ہے، اس لیے فیصلہ کے لیے خارج کو بیچ میں لانا پڑے گا، اور افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ آحاد سے جو چیز خارج سے لائی گئی، وہ پھر الفاظ ہی میں ہوتی تھی، لیکن وہ قطعی شمار ہوتی تھی، اس لیے کہ وہ ہماری پسند کی ہوتی تھی۔ یہ تضادِ فکر ایک طرف فطرت پر کھڑا تھا اور دوسری طرف مسلک پرستی پر۔ جب آحاد کی لفظی دلالت کو فیصلہ کن مانا گیا تو دلالت الفاظ کی قطعیت کی فطرت لاشعور میں کارفرما تھی، اور قرآن کے الفاظ کی دلالت کو ظنی مانا گیا تو اپنے مسلک کی عصبیت کا فسوں نگاہوں پر پٹی باندھ رہا تھا۔ لہٰذا یہ تضاد فکر کہ آحاد کے الفاظ کی دلالت قطعیت ہے اور الفاظِ قرآن کی دلالت ظنی ہے، دبا رہا۔ حالاں کہ قرآن اور اخبارِآحاد میں بولے گئے ملفوظات کا الفاظ ہونے میں کوئی جوہری فرق نہیں تھا، بلکہ چناؤ میں قرآن کے الفاظ بے خطا تھے۔ لیکن پھر بھی مسلک نے آحاد کا پلڑا بھاری کردیا اور قرآن کا ہلکا۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن کو قرآن کا اصل مقام لوٹایا جائے اور اس کے الفاظ کی حاکمیت مانی جائے۔"

اس سلسلے میں راقم کے لیے قرآن کا ایک مقام ذرا الجھن کا سبب ہوا ہے، جس کے اظہار کے لیے یہ سطور قلم بند کی جا رہی ہیں، امید ہے اہلِ علم رہ نمائی فرمائیں گے۔ اللہ رب العزت سورۂ نساء میں ارشاد فرماتے ہیں:
وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنَّ الْكَافِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُبِينًا۔"(النساء: 101)
(اور جب تم زمین میں سفر کرو اور تمہیں اس بات کا خوف ہو کہ کافر لوگ تمہیں پریشان کریں گے، تو تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم نماز میں قصر کرلو۔ ترجمہ از آسان ترجمۂ قرآن، مولانا محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ)

یہ بھی پڑھیں:   حضرت خضر علیہ السلام انسان تھے یا فرشتہ؟ ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

اس آیت میں نماز کے قصر کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔ فقہا نے عام طور پر یہاں سفر اور خوف کے دو اسباب کو نمازِ قصر کا سبب بتایا ہے۔ آیت کے آخر میں شرط ان الفاظ میں مذکور ہے:
إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا، اس شرط کی جملے میں جزا، جیسا کہ محی الدین درویش "إعراب القرآن وبيانه" میں بتاتے ہیں، محذوف ہے اور جملۂ متقدمہ "وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ" اس جزا پر دلالت کرتا ہے؛ یعنی مطلب یہ ہوگا کہ سفر میں قصر کی نماز، کفار کی طرف سے خوفِ فتنہ کے ساتھ مشروط ہے۔ سوال یہ ہے کہ الفاظِ قرآن سے سفر کی نماز کا حکم کہاں سے مستنبط ہوا؟ روایتی فقہی مؤقف کی پوزیشن تو واضح ہے کہ یہاں اخبارِ آحاد کو اس حکم کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ یہ سوال سامنے آیا تو اتفاق سے مولانا عمر احمد عثمانی کی "فقہ القرآن" کی طرف ذہن گیا۔ اس کی طرف مراجعت کی تو یہی سوال انھوں نے بھی اٹھایا تھا، تاہم اس کی انھوں نے جو وضاحت پیش کی ہے، اس پر تشفی نہیں ہوئی، لیکن اس پر گفتگو کا یہ موقع نہیں۔ (ملاحظہ ہو"فقہ القرآن"، 1: 223)

یہاں مولانا امین احسن اصلاحیؒ "ان خفتم" کے الفاظ کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ صرف آیت کے موقعِ نزول کے اعتبار سے اس علت کو ظاہر کر رہے ہیں جس کے باعث یہ اجازت مرحمت ہوئی۔ اس سے یہ بات تو نکلتی ہے کہ یہ رخصت بہرحال رخصت ہے جو حالات کے تابع ہے، لیکن یہ بات نہیں نکلتی کہ یہ سفرِ جہاد ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ (تدبرِ قرآن، 2: 370۔)

اگر الفاظِ قرآن کی حاکمیت کے اصولی مسئلے کو دیکھیں تو پھر صاف صاف ایک پوزیشن وہ ہے جو ظواہر اور خوارج نے اختیار کی ہے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: "ظاہریوں اور خارجیوں نے اس فقرے کا یہ مطلب لیا ہے کہ قصر صرف حالتِ جنگ کے لیے ہے اور حالتِ امن کے سفر میں قصر کرنا قرآن کے خلاف ہے۔ "(تفہیم القرآن، 1: 390۔)

تاہم مکتبِ فراہی کے اہلِ علم کی تصریحات واضح طور پر بتا رہی ہیں کہ اس مقام پر وہ نمازِ قصر کے اثبات کا ذکر اسی آیت کے تحت کرتے ہیں، لیکن مذکورہ بالا شرط اور جزا واضح طور پر اس حکم کو صرف سفرِ جہاد کے ساتھ حالتِ خوف سے مشروط کرتے ہیں، (جیسا کہ ظواہر اور خوارج نے اسی بنیاد پر اپنی پوزیشن لی ہے۔) اس الجھن کا کوئی واضح حل ان اہلِ علم کے ہاں نہیں ملتا۔

یہاں محترم جاوید احمد غامدی، "البیان" میں جو وضاحت پیش کرتے ہیں، اس سے یہ الجھن مزید بڑھ جاتی ہے؛ وہ لکھتے ہیں:
"نماز میں کمی کی یہ رخصت یہاں "ان خفتم" (اگر تمھیں اندیشہ ہو) کی شرط کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے سفروں کے عام سفروں کی پریشانی، افراتفری اور آپا دھاپی کو بھی اس پر قیاس فرمایا اور ان میں بالعموم قصر نماز ہی پڑھی ہے۔ سیدنا عمر کا بیان ہے کہ اس طرح بغیر کسی خطرے کے قصر کر لینے پر مجھے تعجب ہوا، چناں چہ میں نے پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ اللہ کی عنایت ہے جو اس نے تم پر کی ہے، سو اللہ کی اس عنایت کو قبول کرو۔نماز میں تخفیف کی اس اجازت سے رسول اللہ ﷺ نے اس کے اوقات میں تخفیف کا استنباط بھی کیا ہے اور اس طرح کے سفروں میں ظہر و عصر اور مغرب و عشا کی نمازیں جمع کر کے پڑھائی ہیں۔ "(البیان، 1: 540، 541۔)

یہ بھی پڑھیں:   حضرت خضر علیہ السلام انسان تھے یا فرشتہ؟ ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

یہاں چونکہ ’الفاظِ قرآن کی حاکمیت‘ سے صراحتاً چونکہ عام سفر میں نماز کے قصر کا حکم مستنبط ہوتا نظر نہیں آتا، اس لیے غامدی صاحب بھی مجبور ہوئے ہیں کہ "روایتوں" اور "قیاس" کی طرف رجوع کریں۔ یہاں وہ اصل سوال لوٹ کر آتا ہے کہ خبرِ واحد کیا دین میں کسی نئے حکم کا اضافہ کر سکتی ہے یا نہیں؟ ظواہر اور خوارج نے تو صاف کہ دیا کہ حالتِ امن کے سفر میں قصر کرنا قرآن کے خلاف ہے، پھر غامدی صاحب اس اثبات کی کیا توجیہ فرمائیں گے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ غامدی صاحب نے جو یہ فرمایا کہ
"نبی ﷺ نے اپنے سفروں کے عام سفروں کی پریشانی، افراتفری اور آپا دھاپی کو بھی اس پر قیاس فرمایا اور ان میں بالعموم قصر نماز ہی پڑھی ہے۔"
تو کیا اس سے اصولی طور پر یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قیاس، جیسا کہ اصول فقہ کی تعبیرِ ہے، "مُظہرِ حکم" (حکم کو ظاہر کرنے والا) ہے۔ جب یہ مظہرِ حکم ہوا (جیسا کہ غامدی صاحب کی تصریح بھی بظاہر لگتا ہے۔) تو فقہِ اسلامی کا مہتم بالشان ذخیرے کا بڑا حصہ جب اسی اصول سے ماخوذ ہے تو اسے محض انسانی فہم قرار دے کر کیوں رد کر دیا جائے؟ یہاں محترم ساجد حمید صاحب کی مذکورہ بالا عبارت کا ایک حصہ پھر دہرایا جائے کہ:
"ماضی میں جب ہم نے فقہی اختلافات کے حل کی کش مکش کے دوران میں اپنے حق میں روایاتِ آحاد کو اور قیاس کے نام پر عقل کو استعمال کیا ، تو بعض نے خاموشی سے اور بعض نے علانیہ کلام الٰہی پر تہمت دھر دی کہ اس کے الفاظ کی دلالت تو ظنی ہوتی ہے، اس لیے فیصلہ کے لیے خارج کو بیچ میں لانا پڑے گا، اور افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ آحاد سے جو چیز خارج سے لائی گئی، وہ پھر الفاظ ہی میں ہوتی تھی، لیکن وہ قطعی شمار ہوتی تھی، اس لیے کہ وہ ہماری پسند کی ہوتی تھی۔"
تو کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ روایاتِ آحاد، قیاس اور خارج کو بیچ میں لا کر "کلامِ الہی پر تہمت دھرنے" کا کام نادانستگی میں خود مکتبِ فراہی کے اہلِ علم سے سرزد ہوگیا ہے؟

واللہ اعلم !