احد چیمہ کی گرفتاری ،ایک اشارہ - ارشدعلی خان

مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ نے وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کو پارٹی کا قائم مقام صدر منتخب کیا ہے جبکہ رواں ماہ کی 6 تاریخ کو کنونشن سینٹر اسلام آباد میں منعقد ہونے والے مسلم لیگ ن کے جنرل کونسل اجلاس میں ان کو باضابطہ صدر منتخب کیا جائے گا۔ وہ اس سے قبل 2002ء اور اس کے بعد 2006ء میں بھی پارٹی کے صدر رہ چکے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ نے سابق وزیراعظم اور سابق پارٹی صدر میاں نواز شریف کو تاحیات پارٹی قائد مقرر کیا ہے۔ (سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میاں نواز شریف پارٹی صدارت کے لیے بھی نااہل ہوگئے ہیں) مریم نواز شریف کی جانب سے اس حوالے سے متعدد ٹویٹس اور تصاویر سامنے آئی ہیں جس میں وہ اپنے چچا کو پارٹی صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دے رہی ہیں، تاہم انہیں تصاویر میں موجود ان کے والد میاں نواز شریف کا پرسوچ چہرہ کسی اور بات کی غمازی کر رہا ہے۔ ہوسکتا ہے یہ میری سوچ ہو، تاہم میرے خیال میں میاں نواز شریف نے بادل نخواستہ میاں شہباز شریف کا نام عبوری صدر کے طور پر تجویز کیا ہے، کیونکہ اس سے قبل میاں نواز شریف پر تمام اطراف سے یہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی پر بھی اعتبار کرنے کو تیار نہیں، اور اسی لیے بلوچستان کے سردار یعقوب ناصر کو پارٹی کا عبوری صدر بنایاگیا تھا، میاں نوازشریف اپنی بیٹی مریم نواز کو سیاست میں بتدریج آگے لانا چاہتے ہیں اور شاید یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف کو تمام اختیارات نہیں دیناچاہتے۔

بطور پارٹی صدر میاں شہباز شریف کا نام اگلے وزیراعظم کے لیے بھی لیا جا رہا ہے، جس کے بعد مسلم لیگ ن اور میاں نواز شریف کے لیے ایک اور دوراہا سامنے ہوگا۔ یعنی پنجاب میں وزیراعلی کسے بنایا جائے (میاں شہباز شریف چاہیں گے کہ پنجاب میں حمزہ شہباز ان کی جگہ سنبھالے) جبکہ ایک اور سوال میاں شہباز شریف کے پارٹی صدر منتخب ہونے کے بعد پنجاب میں پارٹی کا صدر کون ہوگا۔ آئندہ عام انتخابات کے موقع پر ٹکٹوں کی تقسیم بھی مسلم لیگ ن کے لیے ایک اور مشکل مرحلہ ہوگا۔ اسی طرح میاں شہباز شریف کے پارٹی صدر بننے کے بعد مریم نواز کا مسلم لیگ ن کی سیاست میں اب کیا کردار ہوگا؟ یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے جس کا جواب آئندہ کچھ دنوں میں واضح ہوجائے گا۔ اگر میاں شہباز شریف مریم نواز کے سوشل میڈیا ونگ کو لگام ڈالنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو مسلم لیگ ن اور اداروں کے درمیان جاری کشمکش میں کمی ہوسکتی ہے، لیکن کیا اس کے لیے پارٹی لیڈر میاں نواز شریف اور مزاحمت کے حامی مسلم لیگ ن کے اراکین قومی وصوبائی اسمبلی راضی ہوں گے؟ چونکہ میاں شہباز شریف قومی اداروں کے قریب سمجھے جاتے ہیں تو مسلم لیگ ن کے صدر اور آئندہ وزیراعظم کے طور پر ان کا اصل امتحان تب ہوگا جب وہ پارٹی سربراہ اور اداروں کو ایک ساتھ لے کر چلیں گے جو ان کے لیے انتہائی مشکل کام بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد میاں نواز شریف کے خطاب سے یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ وہ آئندہ بھی مزاحمت کی سیاست جاری رکھیں گے، جبکہ قومی ادارے میاں نواز شریف سمیت مسلم لیگ ن کے دیگر رہنماوں کی تنقید زیادہ دیر مزید برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں۔ سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ اس کی مثال ہے۔ ایسے میں میاں شہباز شریف کے لئے دونوں اطراف کو خوش رکھنا جوئے شیر لانا کے برابر ہوگا۔ سینٹر مشاہد اللہ خان نے مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر تو میاں شہباز شریف ہوں گے تاہم بیانیہ اور سوچ میاں نواز شریف کی ہی ہوگی یعنی سپریم کورٹ کی جانب سے میاں نواز شریف کی دو مرتبہ نااہلی کے بعد بھی مسلم لیگ ن مزاحمت کی سیاست ہی جاری رکھے گی۔ میاں شہباز شریف کا اصل امتحان اپنی پارٹی اور اداروں ایک ساتھ لے کر چلنا ہوگا کیونکہ ایک اچھے ایڈمنسٹریٹر تو وہ پہلے ہی سے ہیں، جن کے کریڈٹ پر پنجاب میں کئی میگا پراجیکٹس ہیں۔ اگر میاں شہبازشریف وزیراعظم بنتے ہیں تو ہوسکتا ہے پاکستان کے دیگر صوبوں کو بھی پنجاب کی طرح کے ترقیاتی اور میگا پراجیکٹس نصیب ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف ڈیل نہیں کریں گے؟ آصف محمود

میاں شہباز شریف کے پارٹی صدر اور آئندہ وزیراعظم بن جانے سے سب سے زیادہ فائدہ موجودہ صورتحال میں سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کو ہوگا جو اس وقت پارٹی میں تقریبا تنہائی کا شکار ہیں۔ میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار مسلم لیگ ن کے ایک کیمپ کا حصہ ہیں جو قومی اداروں سے تصادم کے حق میں نہیں جبکہ میاں نواز شریف، مریم نواز، وزیر خارجہ خواجہ آصف، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، وزیر دفاع خرم دستگیر، وزیر داخلہ احسن اقبال اور سابق سینٹر نہال ہاشمی دوسرے یعنی مزاحمتی سیاست کے علمبردار کیمپ کا حصہ ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ میاں شہباز شریف کے پارٹی صدر بننے کے بعد چوہدری نثار کی سیاسی تنہائی دور ہوتی ہے اور وہ پہلے کی طرح پارٹی معاملات میں کردار ادا کرتے ہیں یا جس طرح میاں نواز شریف نے ان کو سائیڈ لائن کیے رکھا، ویسے ہی رہتے ہیں۔ اگر تو میاں شہباز شریف چوہدری نثار کے ذریعے معاملات طے کرتے ہیں تو نواز شریف کا بیانیہ اور مزاحمت متاثر ہوگی جو مریم نواز اینڈ کمپنی سمیت مزاحمتی گروپ کو ہرگز قابل قبول نہیں ہوگا، جبکہ مزاحمت کی سیاست جاری رکھنا میاں شہباز شریف کے لیے بھی ایک کٹھن فیصلہ ہوگا، کیونکہ احد چیمہ کی گرفتاری اور پنجاب میں نیب کی مزید کارروائیاں میاں شہباز شریف کے لیے کسی وراننگ سے کم نہیں کہ اگر وہ بھی میاں نواز شریف کی طرح مزاحمت کی سیاست کریں گے تو ان کے گرد بھی گھیرا مزید تنگ کیا جاسکتا ہے۔