سراج الحق سے مل کر ہر بار ہی اچھا کیوں لگتا ہے؟ اخترعباس

سراج الحق صاحب سے ملنا ہمیشہ ہی کسی نہ کسی حیرت کا باعث بنتا ہے، ان کی عوامی پزیرائی اور مقبولیت کا سفر چوں کہ میری آنکھوں کے سامنے طے ہوا ہے اور وہ بھی یوں کہ دیکھتے ہی دیکھتے یہ سادہ سا آدمی ہزاروں نہیں لاکھوں دلوں میں جا بیٹھا ہے اور ایسے دل ہیں کہ بڑھتے جا رہے ہیں، ان کے آنے پر مجمعے میں پیدا ہونے والا ارتعاش اپنی بلندیوں کو چھو رہا ہوتا ہے، وہ اس وقت ان راہنماؤں میں شمار کیے جا رہے ہیں جو کراوڈ پلر بن چکے ہیں، ان کے چہرے پر نظر پڑے تو آپ کو ان کی روشن، چمکتی اور بے ریا آنکھوں سے واسطہ پڑتا ہے، ان کی لیڈر شپ کا ماڈل بہت منفرد اور مختلف ہے، ملکی سطح پر اس وقت ان کے نام کی بہت دھوم مچی تھی جب سپریم کورٹ نے انہیں امانتدار اور صادق ہونے کا معیار قرار دے کر یہ کہا کہ پھر تو صرف سراج الحق اسمبلی میں بچیں گے، اس سے زیادہ دلچسپ بات تب ہوئی جب امریکی سفیر نے ان کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا ’’میں اس وقت ملک کے سب سے دیانتدار راہنما کے سامنے بیٹھ رہی ہوں۔‘‘ ان سے آئے روز کسی نہ کسی ملک کے سفیر ملنے آتے ہیں وہ سبھی اس قدر باخبر اور ویل انفارمڈ ہوتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ کہے بنا نہیں رہ پاتے وہ چاہے بلجیم کے سفیر ہوں یا جاپان کے، ان کا تعلق عوامی جمہوریہ چین سے ہو یا نیپال سے، اس مقام اور مرتبے پر کوئی اور فائز ہوتا تو اس کی ذہنی تبدیلی لازم ہوتی مگر حقیقت یہ ہے کہ دو بار سینئر وزیر رہ کر بھی سراج الحق کے چہرے کی سادگی کم ہوئی ہے نہ مسکراہٹ، ہاں کام کی رفتار اور بڑھ گئی ہے، عوامی مزاج اور مسائل سے ان کی آگہی اور بڑھی ہے بہت کم عرصے میں وہ ایک مضبوط برانڈ بن گئے ہیں۔

جماعت اسلامی میں یہ مقبولیت اور محبت کبھی قاضی حسین احمد کو حاصل تھی جن کا ذکر ان کی زندگی میں بھی سراج الحق یوں کرتے تھے کہ سگی اولاد کے لیے بھی ویسے کہنا مشکل ہوتا، وہ مجمعے کو رلا دیتے، قاضی حسین احمد سے جوڑ دیتے، ان کی سوچ کی لڑی میں پرو دیتے تھے، گزشتہ چار برسوں میں ان میں کیا کیا تبدیلیاں آئی ہیں، ان کی سوچ اور دلچسپی میں کیا نیا پن آیا ہے ملاقات میں میں یہی جاننے کا خواہاں تھا مگر یہ بات پوچھنی بہت آسان نہیں ہوتی، وہ گزشتہ دنوں برطانیہ گئے تھے تو ایک مزے کا واقعہ پیش آیا جس کا تذکرہ ان کو سمجھنے میں مدد دے گا، وہ ایک گیارہ سالہ لڑکی تھی جس نے یوتھ کا الیکشن جیتا اور ان سے ملنے آئی سراج صاحب نے اس سے پوچھا کہ آپ نے یہ کامیابی کیسے پائی تو وہ مسکرائی اور بولی آپ کی وجہ سے، آپ کا ایک جملہ میری پوری کمپین کا مرکز اور محور تھا، اسی نے مجھے سارے ووٹ دلائے۔ وہ کون سا جملہ تھا سراج الحق کا سوال سادہ سا تھا، جواب ملا آپ نے کہا تھا ملک کو کلین اور گرین بنائیں گے، میں نے اسے اپنے شہر سے جوڑ دیا۔ میں نے واقعے کی تصدیق چاہی تو وہ مسکرا کر بولے آج کے بچے بہت سیانے ہو گئے ہیں، پھر انہوں نے میری طرف دیکھا اور جملے میں اضافہ کر دیا، اسی لیے ہمارے ساتھ نوجوانوں کے جڑنے کی رفتار بڑھ رہی ہے۔‘‘

بات تو درست ہے کہ جے آئی یوتھ کے الیکشن میں اٹھارہ لاکھ نئے نوجوان جماعت اسلامی کے قریب آئے ہیں اور انہوں نے اپنے امیدواروں کو ووٹ بھی دیے ہیں، ہاں یہ الگ بات ہے کہ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ عام انتخابات میں ان کا ووٹ ابھی جماعت کی طرف مائل ہوا ہے یا نہیں، انہیں اس کا کامل یقین ہے کہ کے پی کے کی ٹیم کے اس کامیاب تجربے کے نتائج بھی اچھے نکلیں گے۔

آپ غریب کی بات بہت کرتے ہیں اس کی نوکری اس کا روزگار، اس کی اولاد کا دکھ، آپ کیسے جان سکتے ہیں اس پر کیا بیتتی ہے، بھٹو صاحب کے بعد آپ ہی نے غریب کو اپنا موضوع بنایا ہے انہوں نے اچانک مجھ سے پوچھا عزیز احمد کو جانتے ہیں، لمحہ بھر کو میں نے سوچا ہماری تاریخ میں ایک سیکرٹری خارجہ ہوا کرتے تھے پھر وہ بھٹو صاحب کی کابینہ کا بھی حصہ بنے، شملہ معاہدے کے لیے جانے والی ٹیم کا وہ اہم حصہ تھے، معاہدوں پر زیادہ ہوم ورک انہی کا تھا، تب سورن سنگھ کے ساتھ انہی کی زیادہ تصاویر آیا کرتی تھیں، بالکل وہی سراج صاحب بولے انہوں نے ایک چھوٹی سی کتاب لکھی تھی، ’’ہم غریب کیوں ہیں‘‘ یہ غالباً ستیاسی کی بات تھی انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں ستاسی ادا کیا تھا اس کا آغاز ایک خبر سے ہوا تھا، یہ چار جنوری کو اخبارات میں ایک خبر شائع ہوئی تھی گڑھی شاہو میں گل محمد اپنی معصوم بچیوں کو ذبح کر کے آلہ قتل سمیت تھانے پیش ہو گیا اس نے اپنے بیان میں کہا کہ میری کمائی سے گھر ٹھیک سے نہیں چل رہا تھا، کھانا ہی پورا نہیں ہوتا تھا، میں یہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا کہ کل بڑی ہو کر یہ اپنی بھوک مٹانے کہاں کہاں جائے گی اور اپنی عزت کہاں لٹائے گی، اسی تکلیف اور صدمے سے بچنے کے لیے انہیں قتل کر آیا ہوں، بات سن کر تکلیف کی ایک سرد لہر میری ہڈیوں تک پہنچی تھی، غربت ایک لفظ نہیں ہے، ایک کیفیت ہے، وہ بولے ’’یہ بے یقینی اور خوف کی زندگی ہے کسی کو تو ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، سیاسی راہنما ہوں یا حکومت، قوم راہنما کے بچوں جیسی ہوتی ہے اس کا دکھ اور تکلیف کا وہ احساس نہیں کریں گے تو کون کرے گا، ہمارے دانشور کبھی غربت پر بات کر لیتے تھے وہ بھی اب نہیں کرتے کہ اب یہ موضوع فیشن میں بھی نہیں رہا مگر میرے لیے تو یہ ایک زندہ موضوع ہے ،میں اس کی تپش محسوس کرتا ہوں، اس کی شدت اور وسعت نعروں سے بہت زیادہ ہے، میں اسے محسوس کرتا ہوں اور اس کو دور کرنے کے لیے سوچتا ہوں، عام انسان اس قدر پریشانی میں ہے کہ اسے اپنے بل بھی عذا ب جیسے لگتے ہیں، اس کے بچوں کی تعلیم ہی نہیں نو کریاں بھی بے یقینی کا شکار ہیں، اس کی آس امید کوئی اور نہیں جماعت اسلامی کو بننا چاہیے۔ ہم اس کا درد جس طرح محسوس کر سکتے ہیں اس کا حل سوچ اور نکال سکتے ہیں، یہ کوئی بھی دوسرا نہیں کر سکتا، ہم تو اپنی معمول کی زندگی میں بھی اپنے ساتھ کام کرنے والے عملے اور ڈرائیور تک کی ضرورتوں کے لیے پورے اخلاص سے سوچتے ہیں، یہ ہماری تربیت اور دینی تعلیم کا اہم حصہ ہے میں نے دیکھا ہے عام معاشرے میں جگہ جگہ پھیلی بھوک کبھی توجہالت کی وجہ بنتی ہے اور کبھی جرائم کی، اسی وجہ سے اکثر یہ ہوتا ہے کہ سیاسی طور پر غریب الیکشن کے وقت اپنی مجبوری یا مسائل کی وجہ سے سانپوں کے منہ میں ووٹ کا دودھ بھی ڈال دیتے ہیں، جب یہ عمل مسلسل ہوتا ہے تو بہت سے سانپ اژدھے بھی بن جاتے ہیں، انہی کی وجہ سے ملک اور زندگی کے مسائل بڑھ رہے ہیں، توقعات اور حسرتیں بڑھ رہی ہیں‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   بنگلہ دیش میں کیا ہو رہا ہے - مسعود ابدالی

غریب خود بھی اس موضوع پر اب کم ہی سوچ پاتا ہے، میں نے دھیرے سے سوچا اور پوچھ لیا تھا، ’’یہ غریب جس جس کو بھی اپنی قیادت اور راہنمائی کے لیے چنتا ہے اس کا تو دور دور سے غربت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا‘‘ انہوں نے بات کو آگے بڑھایا ’’میں غریب کو قصور وار نہیں ٹھیراتا اس کے دکھ کا جس کے پاس مداوا ہے وہی اس کو سمجھا نہیں پا رہے، جہاں وہ ہماری بات سمجھ رہے ہیں وہاں ووٹ بھی مل رہے ہیں، ہماری کوششوں میں تیزی اور بہتری کی ضرورت ہے، ہمارے نوجوانوں کو ایسے ہی سوچنا ہے جیسے آگ لگی ہو تو اس کو بجھانے کے لیے دوڑتے ہیں، کسی بچے کو غربت کے ڈھیر سے رزق تلاش کرتے دیکھو تو دکھ کی شدت تو ایک سی محسوس ہونی چاہیے، جماعت اسلامی کے سبھی لوگ اس انسانی مسئلے پر ایک سی قوت اور ایک سے احساس سے سوچ کر اسے حل کرنے اس بارے میں بات کرنے نکلیں گے تو ہی ہم سواد اعظم کی راہنمائی کے منصب پر فائز ہونے کا سوچ سکیں گے۔

ہم اسی لیے اپنی سیاسی ٹیم میں پچاس فی صد کے لگ بھگ اب نئے اور نوجوان لوگ لا رہے ہیں اور اصولی طور پر ایک بڑا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں کہ جماعت کی تنظیمی اور دعوتی کام بھی اسی طرح ہوتے رہیں مگر سیاسی فیصلے اور کام وہ ایک سیاسی ونگ کرے اور پوری آزادی سے کرے، جماعت کی شوریٰ اس مسئلے پر تفصیلی بات ہو چکی ہے اور ہم مکمل یکسوئی کے ساتھ اپنی سیاسی حرکیات طے کیا کریں گے۔ یہ ایک بڑا فیصلہ اور بڑی سیاسی موو ہوگی، جماعت اس کی ٹائمنگ کیا طے کرتی ہے یہی بات اس کے اثرات اور ثمرات کو بڑھانے کا باعث ہوگی۔

کنسرن کو سنجیدگی کہہ لیں یا پوری توجہ سراج الحق صاحب کو اپنے کام مقاصد اور طریق کار پر کوئی ابہام نہیں ہے، وہ اپنے حلقے اور وہاں کے لوگوں کو اپنی اولین ترجیح پر رکھتے ہیں میں نے پوچھا کیا یہ درست ہے کہ آپ جماعت کی سب سے بڑی مشورہ ساز مجلس یعنی مجلس عاملہ میں تھے جب آپ کے حلقے سے ایک فون آیا اور آپ نے اجلاس روک کر اسے سنا، وہاں کوئی ٹرانسفارمر جل گیا تھا، آپ نے فوراً رابطے کیے جب تک مسئلہ حل نہیں ہو گیا اجلاس رکا رہا، سوال سن کر انہوں نے سر ہلایا ہاں یہ درست ہے۔ دیکھیں اگر ہم نے اپنی سیریس نیس نہیں دکھائی تو مسئلے اپنے آپ حل نہیں ہوتے، نہ اس کا سائز چھوٹا ہوتا ہے وہ تو انہیں حل کر کے ان کی طرف متوجہ ہو کر ان کا حل نکال کر ہی انہیں چھوٹا کیا جا سکتا ہے پھر انہوں نے ایک بڑی بات کہی ’’اصولوں کے بیان سے وہ بڑے نہیں ہوتے ان کو پہلے خود ماننا اور اپنانا پڑتا ہے‘‘ میرے حلقے میں ابھی بلدیاتی انتخاب میں بھی ہم نے سات سو زیادہ لیڈ لی ہے، ہمارا ایک امیدوار بھی ادھر ادھر ہوگیا تھا تب بھی جیتے ہیں، بہت سے کاموں کے حل میں خرچ نہیں اٹھتا مگر ہماری تربیت میں یہ بات اب شامل ہونی چاہیے کہ ہم اس کے لیے اٹھیں اور کوشش کریں، اللہ نے بھی نتائج کوشش کے ساتھ جوڑے ہیں‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   غلام احمد وانی تحریک اسلامی کے روح رواں - اشفاق پرواز

آپ عہد حاضر میں سب سے زیادہ سفر کرنے والے اور دور دراز کے مقامات پر جانے والے لیڈر کہے جا رہے ہیں، اتنے طویل اور مسلسل سفر میں آرام کا موقع کب ملتا ہے، اس دوران ان کے سیکرٹری شیرپاؤ صاحب نے ایک کال ملا کر تھرو کرنے کا پوچھا کسی سے تعزیت کے لیے ملوانے کا انہوں نے کہہ رکھا تھا، ہم ان کے آفس میں ان کرسیوں پر بیٹھے تھے جو ان کی جماعتی امیر کی روایتی نشست سے ذرا ہٹ کر رکھی گئی ہیں، ان کی میز پر پرانے عہد کے دانش ور وزراء اعظم کے استعمال میں آنے والا ایک سادہ اور خصوصی طور پر بنوایا گیا رائیٹنگ اسٹینڈ تھا جو ان کی میز پر ایستادہ تھا جس پر وہ میرے جانے سے قبل کسی کو خط لکھ رہے تھے، آپ آج بھی خط لکھتے ہیں ’’کیوں نہیں ہم روایت اور جدت دونوں کو لے کر چلتے ہیں، خط آج بھی دلی تعلق اور سنجیدگی کی علامت گنا جاتا ہے اور مجھے عام طور پر جب کسی بات پر تحسین کرنی ہو توجہ دلانی ہو، یاد دہانی کا کہنا ہو تو اسے لکھ کر ہی اطمینان محسوس کرتا ہوں، آرام کی آپ نے خوب کہی اب شام کو جب آفس کا کام کر رہا تھا مغرب کے بعد تو ایک دم سے آرام کرنے کو جی چاہا تھا ‘‘، شکر ہے انہوں نے یہ نہیں کہہ دیا کہ پھر آپ آگئے۔

سراج الحق جماعت اسلامی کے نئے اور پرانے سبھی کارکنوں کی مضبوط امید کا استعارہ ہے، لوگ ان سے انقلابی نتائج کی توقع باندھے بیٹھے ہیں وہ ان کی آس توڑنے کی بات نہیں کرتے بلکہ یہ کہتے ہیں پوری انسانی تاریخ میں بار بار تبدیلی آتی ہے مگر اس کے لیے مطلوبہ خوبیوں اور کوشش کی شرط تو پوری کرنی ہو گی، سیاسی کامیابی آرزو سے نہیں دل بدلنے سے آتی ہے، بہتر آپشن بننے سے، لوگوں کے مان جانے سے ان کی امیدوں کا جواب بننے سے آتی ہے یہی پائیدار حل ہے اور ہمارے ساتھیوں کو اسی کے لیے اپنی زندگیوں کو لگانا ہے۔

سراج الحق سے مل کر ہر بار ہی اچھا لگتا ہے کچھ نیا، کچھ امید سے جڑا ہوا، کچھ مستقبل کی زلفوں کو سلجھاتا ہوا، کچھ تو خاص ہے ان کی باتوں میں ان کی آنکھوں اور لفظوں میں جو ان کو ملنے والے انہیں بھلا نہیں پاتے۔ کیا وہ صرف سادگی ہے تو سچ یہ ہے کہ اتنے سادہ بھی نہیں ہیں وہ ایک واضح سیاسی کامیابی کا مقصد ہی نہیں طریق کار بھی رکھتے اور اس کی تفہیم کرتے ہیں اور اسی کی تیاری پر لگے ہیں جماعت اسلامی جیسی تنظیم کی قیادت کے لیے جس احتیاط کی تنی ہوئی تار پر چلنا پڑتا ہے اس پر وہ بہت کامیابی سے چلتے اور فاصلے طے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

Comments

اختر عباس

اختر عباس

اختر عباس مصنف، افسانہ نگار اور تربیت کار ہیں۔ پھول میگزین، قومی ڈائجسٹ اور اردو ڈائجسٹ کے ایڈیٹر رہے۔ نئی نسل کے لیے 25 کتابوں کے مصنف اور ممتاز تربیتی ادارے ہائی پوٹینشل آئیڈیاز کے سربراہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.