اور آج ہر کسی کے ہاتھ میں جام ِجمشید ہے - ادریس آزاد

آج جب کائنات، سیّارۂ زمین یا انسانیت سے متعلق کوئی بھی سوال ذہن میں اُٹھتاہے تو ہم فوراً اُسے گوگل میں ڈالتے ہیں۔ ہرطرح کے آرٹیکلزنِکل آتے ہیں۔ آرٹیکلز سے بات سمجھ نہ آئے تو گوگل امِجز کو کلک کرتے ہیں اور اپنے متعلقہ موضوع پر ہم ہزارہا قسم کی تصاویر دیکھ لیتے ہیں۔ گوگل امیجز سے بھی سمجھ نہ آئے تو یوٹیوب پر جاکر ڈھونڈتے ہیں اور ایک سے بڑھ کر ایک ویڈیو مل جاتی ہے جو متعلقہ سوال یا مسئلے کو لے کر اتنی تفصیل سے حل بتاتی ہے کہ عقل کی فوری تشفی ہوجاتی ہے۔ یہ انٹرنیٹ ہے۔

کس قدر حیرت کی بات ہے کہ آج سے صدیوں پہلے بالکل ایسی ہی ڈیوائس کا تصورموجود تھا جسے اردو ادب کے لوگ ’’جامِ جمشید‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ جمشید بادشاہ کے پاس ایک جام تھا جس میں وہ شراب ڈالتا اور پھر اُس شراب میں وہ جو چاہتا دیکھ لیتا۔ پوری زمین کا ہر راز اس کے سامنے تصویروں اور ویڈیوز سمیت عیاں ہوجایا کرتاتھا۔ یہ تھا ایران کے قدیم بادشاہ، جمشید کا جام، جس کا ذکرحماسۂ ملی میں ہے۔ اور آج ہرکسی کے ہاتھ میں جامِ جمشید ہے۔

ان دونوں یعنی انٹرنیٹ اور جامِ جمشید کا ذکر فقط اِس لیے ایک ساتھ کیا کہ میری دانست میں گزشتہ کل میں انسان نے جس جس شئے کی تمنّا کی اور اُسے متصور کیا، آج کے حال میں وہ مشہود ہوکر موجود ہے۔ یہ بات تو تقریباً سبھی کو معلوم ہے کہ ’’لیونارڈو ڈہ ونچی‘‘ نے آج سے پانچ سو سال پہلے ایسے راکٹوں کی تصویریں بنائی تھی جو چاند کا سفر کرتے ہیں۔ صدیوں بعد جب انسان چاند پر گیا تو بالکل ویسا ہی راکٹ بنایا جیسا ڈہ ونچی نے تصورکیا تھا۔ لیونارڈو نے راکٹوں کے علا وہ جہازوں، ہیلی کاپٹروں، ٹینکوں، توپوں اور دیگر کئی مشینوں کی پینٹگز بھی بنائیں۔ انسان کا ہواؤں میں اُڑنے کا خواب ہزاروں سال پراناہے اور انسان نے بالآخر اِسے پورا کرکے دِکھایا۔

یہ بھی پڑھیں:   ففتھ جنریشن وار - جہاں تاب حسین

تصور، زمانے میں آگے آگے اور تخلیق اُس کے پیچھے پیچھے سفر کرتی ہے۔ آج جدید فزکس، جدید بیالوجی، روبوٹس اور کمپیوٹرز کی موجودگی میں انسان کی تصور کرنے کی صلاحیت ماضی سے کئی گنا ترقی یافتہ ہے۔ آج کی فزکس سٹرنگ تھیوری کی منطق کی موجودگی میں مختلف ڈائمینشنوں اور بایں ہمہ متعدد کائناتوں کو تصور کرتی ہے۔ آج کی جدید بیالوجی انسانی ڈی این اے میں تبدیلیاں کرکے ایسی ایسی طاقتورمخلوقات کو پیدا کرنے کی اہل ہے جن کو ماضی کا انسان فقط تصورات میں دیکھا کرتا تھا۔

وکی پیڈیا جس کی حیثیت ابھی دوسرے انسائیکلو پیڈیاز کی نسبت ذرا بھی معتبر بھی نہیں ایک لحاظ سے دنیا کا سب سے معتبر انسائیکلو پیڈیا ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ وکی پیڈیا کو تمام انسان مل کر ایڈٹ کرتے ہیں۔ اگر میں ابھی وکی کے کسی پیج کو ایڈٹ کرکے غلط بات لکھ دوں تو کل شام تک وہ دوبارہ ایڈٹ ہوجاتاہے اور کہیں اور سے کوئی اور اس غلط بات کو دوبارہ درست کردیتاہے۔ یہ سلسلہ اِسی تسلسل سے جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب وکی پیڈیا دنیا کی واحد کتاب ہوگا۔ اگر کل کو ایک ایسا روبوٹ بنایا گیا جس کا دماغ ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو یعنی ورلڈ وائیڈ ویب سے جڑا ہو اور جو ہرسیکنڈ میں اَپ ڈیٹ ہوتی ہوئی معلومات کے اِس عظیم بھنڈار یعنی انٹرنیٹ کو استعمال کرتے ہوئے ہر عمل کرتاہو۔ اس پر مستزاد اگر اس روبوٹ کا جسم لوہے کا بنا ہوا نہ ہو بلکہ جاپانی کمپنیاں ایسا روبوٹ بنادیں جو ہُوبہو انسانی شکل کا ہو تو وہ کیا چیز ہوگا؟ ذرا تصور کریں! ذرا تصور کریں کہ آپ کو ایک شخص ملتاہے جو ہوبہو آپ کے جیسا انسان ہے اور آپ بالکل فرق نہیں کرپاتے کہ وہ اصلی انسان ہے یا روبوٹ۔ آپ اُسے انسان سمجھتے ہیں۔ اب تصورکریں کہ اس کے پاس معلومات کتنی ہیں؟ اس کا جی پی ایس سسٹم سیّارہ زمین کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہوگا اور وہ زمین کے کسی بھی کونے پر چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بھی آن ِ واحد میں ڈھونڈ لے گا۔ اس میں فیس بک کا تمام ڈیٹاہوگا۔ موبائل کی مختلف ایپس، فیس بک اور دیگر ایسی ڈیوائسز جن میں ہماری تصویریں ڈیٹا کے طور پر اپ لوڈ کی گئیں، ان سب کی مدد سے وہ زمین کے ہر انسان کے نام، شکل وصورت، کام کاج، خاندان حتیٰ کہ ارادوں تک سے واقف ہوگا۔ ایسا کوئی روبوٹ تصور کرتے چلے جائیں۔ ایک وقت آئے گاکہ معاذاللہ آپ کو ایک علیم و بصیر و خبیر روبوٹ اِسی دنیا میں، انسانی شکل میں مل جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   ففتھ جنریشن وار - جہاں تاب حسین

صدیوں پہلے جب ایسے تصورات کسی ذہن میں جگہ پاتے تھے تو بہت مشکل ہوتا تھا کہ ان کو خوابوں اور خیالوں کی دنیا سے الگ کرکے حقائق کی دنیا میں دیکھا جاتا لیکن آج ایسا نہیں ہے۔ آج کے تصورات فقط تصورات نہیں بلکہ یہ ’’الٹی میٹ کانسی کوئنسز‘‘ ہیں۔ ریاضی ہے، ڈیٹا اور انفارمیشن ہے۔ گویا ایسے تمام انہونے تصورات آج بہت منطقی ہیں۔ میں سوچتاہوں اور سوچتا چلا جاتاہوں کہ مستقبل کیسا عجیب و غریب ہوگا۔ اور یہ مستقبل کچھ اتنا زیادہ بھی دور نہیں۔ بہت ممکن ہے کہ ہماری اولادیں جو اِس وقت ہمارے ساتھ ہیں کل کو ایسے ہی کسی مستقبل میں رہ رہی ہوں۔ بہرحال سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ حکایت کے مطابق جمشید بادشاہ کے پاس جتنی طاقت تھی، آج ہرانسان کے پاس اُتنی طاقت آگئی ہے۔ اس کے نتائج تو آنے والے کل میں ہی نکلیں گے نا۔ سو کل بہت ہی پراسرار اور عجیب و غریب ہے۔

Comments

ادریس آزاد

ادریس آزاد

ادریس آزاد بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد میں فلسفہ کے استاد ہیں۔ کئی کُتب کے مصنف ہیں، جن میں چند معروف تاریخی ناول بھی شامل ہیں۔ فزکس، فلسفہ، اقبالیات، ارتقأ، جدید علم الکلام، لسانیات، اور اسلامی موضوعات پر عام فہم زبان میں لکھے گئےمضامین قارئین کی توجہ حاصل کرچکے ہیں۔