چائے کا تجربہ اور ماں جی کا ہاتھ - ایچ ایم کالامی

کئی عرصے تک چائے پر تحقیق کی۔ اس کا پہلا تجربہ اپنے گاؤں کی لیبارٹری ”چائے خانے“ میں کیا۔ اس لیب سے بمشکل یہ واضح ہوا کہ چائے اور پائیوڈین کے ذائقے اور رنگ کی آپس میں گہری مماثلت ہے۔ اس لیب سے یہ بھی ثابت ہوا کہ پائیوڈین اور چائے پینے سے متلی اور قے کا مرض لگ سکتا ہے۔

دوسرا تجربہ ایک فائیو سٹار ہوٹل کی کینٹین میں کیا۔ پرچ پیالی ٹشو میں ڈھانپے ہوئے اس طرح پیش کی جاتی ہے کہ نہ ویٹر کا ہاتھ آپ کو چھوئے اور نہ پیالی کو، تاکہ ممکنہ نقصان کی صورت میں ریسٹورنٹ عملے کا ڈی این اے میچ نہ کرسکے، اور فائیو سٹار ہوٹلز کی بدنامی نہ ہو۔ اس فائیو سٹار لیب میں چائے پینے کے بعد تھوڑی راحت محسوس ہوئی، مگر جب ویٹر نے بل تھما دیا تو ایک سو چار کا بخار چڑھ گیا۔ ماتھے سے پسینے چھوٹنے لگے اور پورے بدن پر کپکپی طاری ہوگئی۔

پس ثابت ہوا کہ” چائے بظاہر رنگ اور ذائقے میں پائیوڈین سے جتنی بھی مختلف بنے، قے متلی ہو یا نہ، لیکن نفسیاتی بیماری کا موجب بن سکتی ہے اور جیب کنگال کر کے واپسی کے کرائے سے بھی محروم کر سکتی ہے۔

تیسرا تجربہ خود بنانے کا کیا۔ بڑی منت سماجت کے بعد ماں سے اس کی لیب میں تجربے کی اجازت ملی۔
ماں یہ کہتے ہوئے کچن سے اپنے روم میں چلی گئی کہ بیٹا خیال رکھنا، ہاتھ نہ جل جائے۔
تھوڑی دیر میں چائے تیار تو ہوگئی مگر پکتے پکتے آدھا ہاتھ بھی پک گیا۔

ہمارے ہاں سوات میں حکومت نے گیس نہیں دی ہے۔ ہم زندہ سلامت درختوں کو قتل کرکے کچن کے انگیٹھی میں جلاتے ہیں۔ آگ کو بجھنے سے روکنے کے لیے بار بار سر ٹیڑھا کرکے پھونکنا پڑتا ہے۔ کچن سے باہر آیا تو ہاتھ پر تین چار جگہوں پر پھپھولے نمودار تھے۔ میں نے ماں سے چھپانے کے لیے اس ٹشو سے ہاتھ ڈھانپا جو اس فائیو سٹار ہوٹل سے بچت کرکے جیب میں محفوظ کر لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   آداب ِ چائے نوشی - اسد سلیم

چائے کا ایک کپ لے کر ماں کے روم میں گیا اور چائے پیش کی، ” ماں جی تم روز پکاتی ہو نا، اب میرے ہاتھ کی چائے بھی تھوڑی چکھو۔
ماں جی اٹھ کھڑی ہوئیں اور میرے چہرے پر نظر پڑتے ہی ہنسی سے لوٹ پوٹ ہونے لگیں۔
پوچھا ماں جی کیا میرے سینگ نکل آئے ہیں؟
ماں نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور آئینے کی طرح سامنے کیا۔ ماں جی کا ہاتھ کالا ہوچکا تھا۔ انگھیٹی سے خارج ہونے والی ساری کاربن میرے چہرے کو کالا کر چکی تھی۔
چائے ماں جی کی ٹیبل پر رکھ کر سامنے دیوار پر لگے آئینے کے سامنے کھڑا ہوا تو ایک کالا کلوٹا آدمی مدمقابل کھڑا تھا۔ شک ہو رہا تھا کہ کوئی بزرگ حبشی آئینے کے سامنے کھڑا ہے۔

واپس آیا تو ماں جی کے ٹیبل پر پیالی خالی پڑی تھی۔
ماں نے سر پر ہاتھ پھیرا اور خوب داد دیتے ہوئے بولیں، بیٹا تیرے ہاتھ میں تو کمال کی شیرینی ہے، کیا ذائقہ تھا چائے کا!
میں نے فخر سے سینہ چوڑا کیا اور اپنی پیالی اٹھائی، ایک گھونٹ حلق میں اتارا تھا کہ منہ بدذائقہ ہوگیا۔ چائے میٹھی کے بجائے اتنی تیکھی تھی کہ منہ جلنے لگا۔
پیالی واپس رکھ کر ماں جی سئ پوچھا، ماں جی! آپ نے ایسی چائے پی لی؟
ماں جی نے گال پر تھپکی دی اور میرے ہاتھ سامنے کرکے بولیں، جس چائے کے تجربے میں تیرے نازک ہاتھ جل جائیں تو کیا میں اس کو پیتے ہوئے اپنا منہ بھی تھوڑا نہ جلا سکوں؟
بیٹا! دراصل تجربہ کرتے ہوئے آپ سے تھوڑی بھول ہوئی ہے۔ پتی کی دو چمچ کے بجائے دو ضرب دس ڈال دیے ہیں۔

پھر ماں جی نے اپنے صندوقچے سے مرہم نکالا اور میرے جلے ہوئے ہاتھ پر ملتے ہوئے بولنے لگی۔ بہو لاؤں گی تو خوب تجربے کرنا۔
اب میں تمہارے لیے ایک کپ چائے بنا دیتی ہوں۔
پس ثابت ہوا کہ چائے سے چہرہ کالا، بال سفید اور ہاتھ پر پھپھولے نکل سکتے ہیں۔
اور یہ بھی ثابت ہوا کہ اس زہریلی چائے کو تجربے کی خاطر ایک ہستی تیار ہوسکتی ہے۔ وہ ہے میری ماں جی!
تھوڑی دیر میں ماں جی کچن سے چائے کی پیالی تھامے میرے پاس آگئیں۔ وہی دودھ، وہی پتی اور وہی چینی تھی، جو گاؤں کے کیفے سے فائیو سٹار ہوٹلوں تک استعمال ہوتے ہیں، لیکن اس بار پکانے والے ہاتھ ماں جی کے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   آداب ِ چائے نوشی - اسد سلیم

ماں کے ہاتھ سے بنی چائے پی تو تھکاوٹ ختم ہوگئی اور دماغ ٹھکانے آگیا۔ تو تجربہ کامیاب ہوگیا تھا اور تحقیق مکمل ہوچکی تھی کہ ہر کھانے پینے کی چیز خلوص، پیار اور ناز سے بھرپور ہاتھ مانگتی ہے۔ اور یہ ہاتھ بھلا ماں جی کے علاوہ کہاں سے لائیں گے؟

اب بھی کسی ریستوران میں چائے نوش کرتا ہوں تو ماں جی کے ہاتھ یاد آتے ہیں۔