پیرس میں پسپائی - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

میاں نواز شریف پر بطور وزیر اعظم کیے جانے والے اعتراضات میں ایک یہ بھی تھا کہ انہوں نے اپنےدور میں وزیر خارجہ کا تقرر نہیں کیا جس کی وجہ سے ملک کو سفارتی میدان میں زک پہنچی۔ ستم ظریفی دیکھیے پاکستان کو ایک طویل عرصہ کے بعد جس بڑی سفارتی خجالت کا سامنا کرنا پڑا اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان کے وزیر خارجہ بن گئے۔ ان کی ایک ٹویٹ نے پاکستان کے لیے لاینحل مشکل کھڑی کر دی۔

فروری کے اواخر میں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں "فنانشل ایکشن ٹاسک فورس" کا بڑا اجلاس ہونا تھا۔ اس اجلاس کے ایجنڈہ میں امریکہ ، فرانس برطانیہ اور جرمنی نے پاکستان سے متعلق یہ قراداد شامل کروائی کہ اس کا باقاعدہ اندراج ان ممالک کی فہرست میں کیا جائے جو دہشت گردی کی مالی امداد روکنے میں ناکام ہیں اور اس کے تدارک کے لیے مناسب اقدامات نہیں لے رہے۔ پاکستان کے لیے یہ بڑا چیلنج تھا۔ اس صورتحال سے بچنے کے لیے بھاگ دوڑ کا آغاز ہؤا۔ حکومتی سطح پر نہایت عجلت میں ایک آرڈیننس جاری کیا گیا جس میں حافظ سعید اور ان کی جماعت کو دہشت گرد کے زمرے میں شامل کرتے ہوئے ان کے مالیاتی معاملات پر گرفت کرنے کی راہ ہموار کی گئی۔ آرمی چیف جنرل باجوہ نے میونخ (جرمنی) میں منعقدہ سیکیورٹی کاانفرنس میں پاکستان کا کیس پیش کیا۔ دوسری جانب دوست ممالک سعودی عرب ، چین اور ترکی سے سفارتی مدد کی درخواست کی گئی جس میں بظاہر خاطرخواہ کامیابی بھی حاصل ہو گئی۔ اس کا عکس پچھلے ہفتہ کانفرنس کے آغاز پر پاکستانی مندوبین کے چہروں سے عیاں تھا۔

اسی دوران وزیر خارجہ خواجہ آصف اپنے روسی ہم منصب کی دعوت پر ماسکو تشریف لے گئے۔ اس دورے کو بھی پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا کیونکہ اس سے قبل یہ رپورٹس بھی آئی تھیں کہ بھارت نے سیکرٹری خارجہ سطح کی ایک ملاقات میں روس پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے مؤقف کی حمایت نہ کرے۔ خؤاجہ آصف کے دورہ روس کے دوران ہی ایف اے ٹی ایف کے پیرس اجلاس میں پاکستان سے متعلق قرارداد پر ووٹنگ ہوئی تو تین ممبران نے اس کی مخالفت کر دی۔ اس میں ترکی ، چین اور خلیج تعاون کونسل (سعودی عرب کا الگ ووٹ نہیں ہے) شامل تھے۔ اس فورم کا یہ قاعدہ ہے کہ تین ممبران کی مخالفت کے بعد کوئی بھی قراداد رد تصور کی جاتی ہے۔ نیز یہ کہ اس کے بعد وہ مسئلہ اس اجلاس میں سامنے نہیں آتا۔

اس موقع پر ایک مہلک غلطی کا ارکاب ہؤا۔ وزیر خارجہ نے اپنے ایک ٹویٹ میں یہ اعلان کر دیا کہ پاکستان اس مشکل صورتحال سے بچ نکلا اور قوم کو اس حالے سے "خوشخبری" دی گئی ۔ انہوں نے فرمایا " ہماری کوششیں بار آور ہوئیں اور ہم اپنے دوستوں کے مشکور ہیں جن کی مدد سے یہ ممکن ہو سکا"۔

پاکستان کی حالیہ تاریخ میں "ٹویٹس" نے بہت سے بحرانوں کو جنم دیا ، تاہم اس ٹویٹ کے نتیجہ میں اٹھنے والا طوفان دیگر سب پر بازی لے گیا۔ یہ پہاڑ جیسی غلطیوں کا مجموعہ تھا۔ اس میں کچھ بھی درست نہیں تھا ۔۔۔۔ نہ وقت، نہ طریقہ کار اور نہ ہی الفاظ۔۔ ۔ یہ معلوم کرنا از حد ضروری ہے کہ انہیں کس نے مشورہ دیا کہ ٹویٹ جیسے casual طریقہ سے وہ اس اہم ترین بات کا اعلان کریں۔ خاص کر اس صورت جبکہ ایف اے ٹی ایف کی کاروائی میں رازداری نہایت اہم روایت ہے۔ چلیں پھر بھی اگر کسی سیاسی یا دیگر ضرورت کی وجہ سے انہوں نے ایسا کرنا ہی تھا تو اس معاملہ کی نزاکت کے پیش نظر سفارتی آداب و زبان کا خیال تو رکھا جاتا۔ پاکستان کے خلاف یہ قراداد امریکہ لے کر آیا تھا، اور اس کے ساتھ یورپ کے تین اہم ترین ممالک شامل تھے۔ یہاں پر بھارت یا افغانستان کا سامنا نہیں تھا کہ پوائنٹ سکورنگ کی جاتی۔ اگر آپ نے ٹویٹ کرنا ہی تھی تو دفتر خآرجہ میں کسی سے مدد مانگ لیتے۔ ماسکو میں پاکستانی سفیر سے ہی پوچھ لیتے۔ وہ آپ کو بتاتے کہ سب سے پہلے امریکہ اور اس کے ساتھیوں کا ذکر کیجیے تاکہ انہیں شکست کا احساس نہ ہو۔ کہا جاتا کہ انہوں نے بڑے پن کا مظاہرہ کیا اور پاکستان کے نقطہ نظر کو اہمیت دی اس کے بعد دوستوں کے تعاون کو سراہا جاتا اور آخر میں قوم کو مبارکباد دی جاتی۔ سفارتکاری کا مطلب یہ ہے کہ کھینچا تانی کے بین الاقوامی ماحول میں اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے سازگار ماحول بنایا جائے نہ یہ کہ ایسا طرز عمل ہو کہ سوپر پاور اسے اپنی اہانت سمجھے اور دوست ممالک کے لیے بھی ساتھ دینا مشکل ہو جائے۔

آپ دیکھیے، جیسے ہی وزیر خارجہ کا ٹویٹ عام ہونا شروع ہؤا امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیدر نوارٹ کا یہ بیان سامنے آگیا کہ اس سلسلہ میں جلد بازی سے کام نہ لیا جائے اور جمعرات کا انتظار کیا جائے۔ یہ انتہائی خطرے کی گھنٹی تھی کیونکہ اس سے یہ ظاہر تھا کہ امریکہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے ۔ اگر وہ اس معاملے کو دوبارہ اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے تو یہ اس لیے نہیں ہو گا کہ اسے دوبارہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے۔ پھر وہی ہؤا ، جو بقول مشیر خزانہ ایف اے ٹی ایف میں پہلے کبھی نہیں ہؤا تھا۔ پاکستان والا نکتہ دوبارہ اٹھایا گیا اور پاکستان کے ساتھ صرف ترکی کی حمایت باقی تھی، چین اور خلیج تعاون کونسل پیچھے ہٹ چکے تھے۔ اس طرح وہ موشن پاس ہو گئی اور پاکستان کو رواں سال جون سے گرے لسٹ پر رکھنے کا فیصلہ ہو گیا۔ امریکہ کے لیے چین اور خلیج تعاون کونسل میں سے آخرالذکر آسان ہدف تھا اور انہیں قائل کر لیا گیا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں ہی اپنے معروضی حالات کے باعث ویسے بھی امریکی دباؤ کے سامنے کھڑا رہنے کی سکت نہیں رکھتے اور اب تو امریکہ طیش میں بھی تھا۔ دوسری جانب چین نے جب دیکھا کہ خلیج والے پیچھے ہٹ گئے تو انہوں نے اپنا ووٹ ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ ان کے خیال میں یہ ووٹ دے کر بلاوجہ امریکی ناراضی مول لینے کے بجائے اس ووٹ سے اجتناب کر کے اپنے لیے کچھ بہتر حاصل کر سکتے تھے، اور ایسا ہی دیکھنے میں آیا۔ انہیں ایف اے ٹی ایف کا نائب صدر چن لیا گیا۔ امریکہ کی ناراضی سے یہ مرحلہ طے ہونا مشکل تھا۔ کاش ہم بھی چین کی طرح اہم مواقع پر تؤقف اور خاموشی کی قیمت جان پاتے۔

یہ دلیل اپنی جگہ وزن رکھتی ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے خلاف یہ قدم بہر حآل اٹھا کر رہنا تھا۔ ایسا ہی ہو گا ۔۔۔۔ لیکن اسے یہ سب نسبتاً بہت ہی سہل انداز میں کر پانے کا موقع کس نے دیا ؟ اگر امریکہ کے لیے طیش میں آنے کی وجہ نہ ہوتی تو پاکستان کے حمایت میں کھڑے ممالک کے لیے اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنے میں بہت آسانی ہوتی۔ امریکہ پھر شاید جون کے اجلاس کا انتظار کرنے پر مجبور ہو جاتا اور عین ممکن ہے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کچھ بہتری ہوتی تو وہ یہ مہم ختم ہی کر دیتا۔ لیکن ایک غیر ذمہ دارانہ حرکت نے پاکستان کو مشکل وقت میں ایک اور بڑی مشکل میں ڈال دیا۔

گرے لسٹ کے حوالہ سے اب تک صرف معیشت کی بات کی جارہی ہے۔ وزارتِ خزانہ کے بڑے ہمیں یقین دلا رہے ہیں کہ معیشت کو اس سے کوئی سنجیدہ خطرات لاحق نہیں ہوں گے۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ اس محاذ پر کیا ہو گا کیونکہ یہی وہ برزجمہر تھے جو ہمیں یہ باورکرا رہے تھے کہ امریکہ سے ہمیں جتنی مالی امداد ملتی ہے اس کی بندش سے ہمیں کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ راقم نے تب بھی یہ عرض کیا تھا کہ عالمی مالیاتی نظام ہی امریکہ کا ہے ، مسئلہ امریکی امداد کا نہین اس سے خراب تعلقات کا ہے جس کا پرتو ہمیں عالمی مالیاتی اداروں اور دیگر فورمز کے رویہ سے نظر آنے لگے گا۔

بہرحال اس وقت جو صورتحال سامنے ہے اس سے دکھائی دیتا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان "ڈو مور" کے نہایت سخت شکنجہ میں پھنس سکتا ہے۔ جہاں ایک طرف افغان صدر طالبان کو تسلیم کر لینے، ان کی سیاسی حیثیت تسلیم کرنے ، غیر مشروط مذاکرات اور مین اسٹریم میں بذریعہ الیکشن واپسی کی بات کر رہے ہیں وہاں پاکستان پر یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنے نیشنل ایکشن پروگرام کے ایک اہم نکتہ سے دست بردار ہو جائے۔ یعنی مسلح گروہوں کی مین اسٹریم میں واپسی اور ایک قانون پسند شہری کی حیثیت سے ازسر نو آغاز کی سہولت۔ پاکستان سے کہا جا رہا ہے کہ جو تنظیمیں نام بدل کر رفاہ عام کا کام کر رہی ہیں یا خود کو دہشت گرد پہچان سے الگ کرنے کے پراسیس میں ہیں ان کو بھی ٹارگٹ کیا جائے اور بدستور دہشت گرد سمجھتے ہوئے ان کی فنانسنگ پر مکمل پابندی لگا دی جائے۔ نیز مدرسوں کے مالی معاملات پر بھی سختی کی جائے۔ یہ سب وہ باتیں ہیں جن کا براہ راست مطلب مذبی شناخت رکھنے والے اداروں میں بے چینی پھیلانا ہے۔ گویا پاکستان لاکھ کہتا رہے کہ افغانستان کی جنگ پاکستان کی سرزمین پر نہیں لڑی جائے گی لیکن اس کا مکمل بندوبست کیا جا رہا ہے کہ ریاست اور اس کے بعض شہریوں کے مابین مستقل چپقلش کا سامان ہو سکے۔ دوسری جانب یہ ایک ایسا لامتناہی سلسلہ ہے کہ اس میں تقاضوں اور فرمائشوں کی فہرست ختم ہی نہیں ہو گی اور پاکستان مسلسل ٹکٹکی میں بندھا رہے گا، اس پر ہمہ وقت کسی گرے اور بلیک لسٹ یا پھر اقتصادی پابندیوں کے تازیانے برستے رہیں گے۔

پاکستان کو پہلی فرصت میں اپنی سفارتی مہم دوبارہ شروع کرنا ہو گی تاکہ جون میں ہونے والے اجلاس میں ایسے ٹھوس نکات طے پائیں جو صوابدید کے بجائے حقیقی طور پر قابل تصدیق اہداف کی نشاندہی کرتے ہوں اور ان پر عمل درآمد کو کیفیت کے بجائے کمیت کے معیار پر جانچنا ممکن ہو۔ پاکستان پر رپورٹنگ شرائط کی نگرانی ایشیا پیسفک گروپ کے ذمہ ہو گی۔ اس حوالہ سے چین کو بھی مزید فعال کردار ادا کرنے پر آمادہ کرنا ہو گا اور امریکہ ، یا کم از کم اس کے یورپین حلیفوں کے ساتھ اس مسئلہ پر بہتر مفاہمت کو فروغ دینا اہم ہے۔ سب سے ضروری یہ ہے کہ ہم جو کہیں اس پر درست طور پر عمل کریں۔ حالیہ اجلاس کے نتائج نے یہ بھی عیاں کر دیا ہے کہ دنیا ہمارے ایکشنز سے ہماری نیت کا فیصلہ کرتی ہے۔ پچھلی بار ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ سے قبل حافظ سعید صاحب کو نظربند کیا گیا اور بعد میں چھوڑ دیا گیا ۔ اس مرتبہ بھی عین میٹنگ سے چند روز قبل عجلت میں ایک آرڈیننس کے ذریعہ قانون لایا گیا اور ہمارے مندوبن کے لاکھ توجہ دلانے کے باوصف اسے درخورِ اعتنا نہیں جانا گیا، بلکہ پچھلے تجربہ کی روشنی میں اسے بھی ایک ڈنگ ٹپاؤ قدم سمجھا گیا۔ غالباً اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ پچھلے اجلاس کے بعد سے اب تک اس حوالہ سے کچھ نہیں کیا گیا تھا اور پھر اچانک ایک آرڈیننس آ گیا ۔
ہمیں مصروف رکھنے کے لیے پاکستان کے بد خواہوں کی تعداد پہلے ہی بہت کافی ہے ۔ بہتر ہو گا ہم اپنی بے احتیاطیوں اور تساہل کو اس میں شامل کر کے مشکلات کو بحرانوں میں بدلنے کا کام اب بند کر دیں۔

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.