کیا اردو زبان بانجھ ہے؟ عاقل عزیز

زبان کسی بھی قوم کا اثاثہ ہوتی ہے۔ جو قومیں اپنی زبان، تہذیب و ثقافت اور ورثے کا خیال رکھتی ہیں، وہی دنیا میں اعلیٰ مقام حاصل کرتی ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسا ممکن نہیں ہوا۔ اردو دنیا میں بولی جانے والی پہلی پانچ زبانوں میں سے ایک ہے۔

اردو 1973ء کے آئین پاکستان کی شق 251 کے تحت پاکستان کی قومی زبان طے پائی، مگر اس زبان کے ساتھ اپنے ہی لوگ سوتیلوں جیسا سلوک کر رہے ہیں۔ اردو دشمنی میں عام آدمی عمومی اور ہمارا اشرافیہ طبقہ خصوصی کردار ادا کر رہا ہے۔ ہمارے وہ ادارے جنہیں ہم جدید تعلیم کے نمائندہ ادارے کہتے ہیں، اس سلسلے میں پیش پیش ہیں اور اردو زبان کو نظر انداز کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ہیں۔ ان اداروں میں اردو کے مضمون پڑھانے والوں کے ساتھ معاندانہ سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ اردو کے اساتذہ کا مشاہرہ اور مراعات بھی دوسرے اساتذہ کی نسبت کم ہوتی ہیں، بلکہ اکثر اوقات یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ اردو پڑھانے کی ذمہ داری اسلامیات یا کسی دیگر مضمون کے استاد کے سپرد کر دی جاتی ہے، جس سے اردو میں دلچسپی بھی ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔ ان اساتذہ کے سطحی معیار کی بناء پر طلبہ اردو کے بنیادی اصولوں سے بھی آگاہی حاصل نہیں کر پاتے ہیں۔ اس ناروا سلوک کی انتہاء یہ ہے کہ اردو بولنے والے لوگ ان نام نہاد جدید تعلیمی اداروں میں احساس کمتری کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔

اس حوالے سے ایک قابل ِشرم بات یہ ہے کہ کچھ مؤقر اداروں میں اردو بولنے پر جرمانہ یا دیگر سزاؤں کا اطلاق بھی کیا جاتا ہے۔ غلط انگریزی بولنے پر فخر اور درست اردو بولنے پر لوگوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ احساس کمتری صرف ان نام نہاد اداروں میں ہی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ انگریزی کی اندھی تقلید میں ہم حد سے گزرتے جا رہے ہیں اور اپنی تہذیب کے ساتھ ساتھ زبان سے بھی دوری کا مظاہرہ معاشرے میں کھلے عام دیکھا جا سکتا ہے۔ ہم دنیا کی واحد قوم ہیں جسے اپنے دین، ثقافت، تہذیب، رہن سہن، ظاہری بود و باش اور اپنی زبان بولتے ہوئے بھی شرمندگی محسوس ہوتی ہے، حالانکہ اصل میں یہ ہمارے لیے عزت اور فخر کا باعث ہونا چاہیے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی دوسری اقوام کے سامنے اپنے آپ کو منوانے میں ناکام رہے ہیں۔

جدید تعلیمی اداروں کا اردو کے ساتھ ناروا سلوک ہماری زبان کو تباہی کے دہانے تک لے گیا اور ان اداروں سے فارغ التحصیل طلبہ میں بعض اردو میں اپنا نام لکھنے سے بھی قاصر ہیں۔ حالت یہاں تک جا پہنچی ہے کہ تقریری اور نظم خوانی کے مقابلوں کا مواد طلباء رومن انگریزی میں لکھتے ہیں۔

اس حوالے سے چند گزارشات پیش خدمت ہیں۔
* آپ اپنی فیس بک پوسٹس کو اردو میں بنانے کی کوشش کریں۔
* کسی بھی تحریری پیغام کو اردو میں لکھنے کا اہتمام کریں۔
* رومن میں لکھنے کے رواج کو سختی کے ساتھ تبدیل کریں۔
* اپنی گفتگو میں ہندی الفاظ (جنم دن، شکتی، میرے ماننے میں) کے بجائے اردو کے الفاظ استعمال کریں۔
* اپنے بچوں کی بہترین تربیت اور اردو سے شغف پیدا کرنےکے لئے بچوں کے ماھانہ رسائل و جرائد( ساتھی، نونہال، ھمقدم، پیغام، جگ مگ تارے، المصباح وغیرہ) سے کسی بھی رسالہ کو اپنے گھر مہیا فرمائیں۔

آپ کو خوب اندازہ ہونا چاہیے کے دین اسلام کے بارے میں عربی کے بعد سب سے بڑا علمی ذخیرہ الحمداللہ اردو میں ہے۔ ہمارے دشمنوں کی پوری کوشش ہے کہ ہماری آنے والی نسل کو دین سے دور رکھنے کے لیے ان کی قومی زبان سے نابلد رکھا جائے۔ آئیے دشمن کے خواب کو چکنا چور کرنے کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔
اللہ تعالی ہم سب کے لئے آسانی پیدا کرے۔ آمین