گلگت: قبرستانوں میں تعویذ، خدا کی پھٹکار - امیر جان حقانی

کنوداس قبرستان کے ٹوٹے قبروں سے سینکڑوں تعویذ برآمد کیے جا رہے ہیں، تینوں لڑکے جھک کر تعویذ کھول کر دیکھ رہے تھے تو میں نے پوچھا تو کہا کہ آج قبرستان کی ٹوٹی قبروں سے یہ تعویذ برآمد ہوئے ہیں، تعداد چالیس سے زائد ہے۔۔ جب ان تعویذوں کو دیکھا تو اکثریت پر بغض والی عبارتیں مندرج تھیں، قرآنی آیات اور احادیث اور جادوئی عبارت سے بھرے پڑے ہیں۔ ان لڑکوں نے کئی بار ان ٹوٹےقبروں سے جادو والے تعویذ نکالے ہیں جن میں عجیب وغریب تعویذ اور گنڈے ہوتے ہیں۔ ان تینوں لڑکوں سے تفصیلات سن کر روح تک کانپ گیا۔ ایک لڑکے نے کہا کہ میں چار قل پڑھتے ہوئے قبروں سے یہ چیزیں نکالتا ہوں اور ساتھی اوپر بیٹھے ہوتے ہیں۔ ہم ان چیزوں کو توڑتے ہیں اور تعویذوں کو دریا برد کردیتے ہیں۔

انہوں نے جو بتایا وہ یہ ہے۔
1۔ ایک بار مٹی کے تین بت بھی تھے ہر بت کے دل میں تعویذ تھا اور پورے جسم پر لوہے کی سوئیاں آرپار تھیں۔
2۔ ایک دفعہ جب ٹوٹی قبروں سے تعویذ نکالے جارہے تھے توایک مچھلی تھی جس کا منہ سلا ہوا تھا،جب پھاڑ کر دیکھا تو اس کے پیٹ میں تعویذ تھا۔
3۔ ایک دفعہ درجنوں تالے اور سینکڑوں چابیاں تھی۔جولاک تھے۔
4۔ انڈوں پر لکھائی تھی جو قبروں میں ڈالے گئے تھے
5۔ قبروں کے درمیان کیل گاڑھے ہوئے تھے۔۔
6۔ جام کی بوتل کے اندر تعویذ تھا جو جل رہا تھا، اس کا ڈھکن اوپن نہیں ہورہا تھا۔
7۔ مٹی کی سات پوٹلیاں ہیں جو ٹوٹی قبر سے نکالی گئی ہیں، شاید نقش پا سے مٹی اٹھا کر جادو کرکے قبر میں ڈالا گیا ہے۔ پلاسٹک میں بندھی ہوئی ہیں۔

بہر صورت آج جو تعویذ انہوں نے ٹوٹی قبروں سے برآمد کیے تھے، وہ میں نے اپنے قبضے میں لیا ہے اور ان کی تصاویر اپ تک پہنچا رہا ہوں۔
ایک تعویذ میں عورت کے بال بھی ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ عورت اور مرد کانام بھی لکھا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   گلگت بلتستان سے متعلق معلوماتی حاصل - محمد زاہد صدیق مغل

ان تعویذوں میں مرد عورت کے درمیان تفریق، بغض و عدات اور فیملی کے درمیان بغض و عداوت اور تفریق و قتل کی عبارتیں واضح نظر آتی ہیں۔ ایسے کافرانہ اعمال سے گھر تباہ ہوتے ہیں، میاں بیوی میں تفریق ہوتی ہے اور خاندان کے خاندان اجڑ جاتے ہیں اور نوجوان لڑکیاں پاگل ہوجاتی ہیں، وہ غلط کاری پر مجبور ہوتی ہیں اور انہیں پتہ بھی نہیں چلتا، وہ نکموں لڑکوں کے ساتھ گھر سے بھاگ جاتی ہیں اور پوری فیملی عذاب میں پھنس جاتی ہے۔ اس میں لڑکیوں کا قصور بھی نہیں ہوتا کیونکہ ان پر جادو کیا ہوا ہوتا ہے۔ تمام تعویذوں میں خواتین اور مردوں کے ناموں کی صراحت ہے، پوری پوری فیملیز کے نام بھی ہیں۔

ان لڑکوں سے گزارش کی ہے کہ وہ آئندہ جو بھی چیز نکالیں گے، وہ ضائع کرنے کے بجائے میرے پاس لائیں۔ یہ تین لڑکے جب بھی ٹوٹی قبروں کو دیکھتے ہیں تو ان سے تعویذ نکال کر ان کو بند کردیتے ہیں لیکن پھر سے ان کو اکھاڑ کر ظالم لوگ تعویذ اندر ڈالتے ہیں۔۔۔۔۔۔بہرصورت گلگت انتظامیہ کو اس کافرانہ و ظالمانہ عمل کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر کرنے ہونگے جس کے لیے قبرستان کی سیکورٹی بھی سخت کرنی ہوگی۔ان قبروں میں اس طرح کی حرکتیں کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کاروائی کرنی ہوگی۔

سماج سے ایسے گندے تعویذ اور جادووائی اعمال کرنے والے پیروں اور نام نہاد تعویذ کرنے والوں کو بے نقاب کرکے انہیں کیفرکردار تک پہنچانا چاہیے۔ انتظامیہ اور حساس اداروں کو فوری ایکشن لینا چاہیے۔

Comments

امیر جان حقانی

امیر جان حقانی

امیرجان حقانیؔ نے درس نظامی کے علاوہ کراچی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور جامعہ اردو سے ماس کمیونیکشن میں ماسٹر کیا ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی فکر، تاریخ و ثقافت کے ایم فل اسکالر ہیں۔ پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے لیےپانچ سال سے مقالے اور تحریریں لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.