ڈاکٹر برادری سے کچھ کھری کھری باتیں - زاہد مغل

شہ سرخی سے شاید کچھ لوگ ناراض ہوں مگر یہ شہ سرخی ان ڈاکٹروں کے لئے ہے جو مریض سے ہزاروں روپوں میں اپنی منہ مانگی فیس لیتے ہیں مگر انہیں چند منٹ دیتے ہوئے انہیں موت آتی ہے کیونکہ انہیں "مزید ھزاروں روپے" دینے والے مریض قطار میں نظر آرہے ہوتے ہیں۔ اصول یہ ہے کہ ڈاکٹر اپنے علم کی روشنی میں مریض سے متعدد طرح کے سوال کرکے اس کے مرض کی مکمل تاریخ لے (نہ یہ کہ مریض نے جو بتا دیا بس وہی کافی سمجھے) اور اگلے وزٹ کے لئے بطور ریفرنس اسے محفوظ کرے، اگر کوئی لازمی پراسس ہے (مثلا بلڈ پریشر وغیرہ چیک کرنا) تو وہ کرے، اسے اس کے مرض کے بارے میں بتائے کہ تمہیں کیا مسئلہ ہے، اس کی بیماری اس سے ڈسکس کرے کہ یہ کیوں ہوجاتی ہے اور کیسے ختم ہوتی ہے، اسے کیا احتیاطیں کرنا چاھئیں، دوا کے علاوہ اسے کیا کرنا چاھئے کہ مرض پر جلدی قابو پایا جاسکے، مسئلے کے حل کی جو دوائی اسے دے رہا ہے اس کے بارے میں بتائے کہ اس کے ممکنہ مثبت و منفی اثرات کیا ہوسکتے ہیں، ممکنہ طور پر یوں اور ووں بھی ہو سکتا ہے تو گھبرائیے گا مت وغیرہ، پھر مریض کو مناسب وقت دے کہ کوئی اور بات جو آپ کہنا یا پوچھنا چاہتے ہوں یا آپ کے دل میں ہو یا کوئی کنفیوژن ہو۔

الغرض یہ کہ ڈاکٹر کی ڈیوٹی ہے کہ مریض کو مطمئن کرے، یعنی جب مریض اس کے پاس سے اٹھ کر جائے تو اپنے مرض اور علاج کے حوالے سے مطمئن محسوس کرے۔ اور یہ سب تب ممکن ہے جب ڈاکٹر مریض کو سہولت کے ساتھ کم از کم پندرہ سے بیس منٹ دے۔ مگر اس کے برعکس ڈاکٹر برادری کی بڑی اکثریت کا حال یہ ہے کہ بھاری فیسیں لینے والے ڈاکٹرز بھی مریض کو یوں دیکھتے ہیں جیسے کوئی ریس لگی ہو، ایک مریض کا چیک اپ ہورہا ہوتا ہے اور دوسرے کو پیچھے انتظار میں بنچ پر بٹھا لیتے یا کھڑا کروا لیتے ہیں، بھائی اگلے بندے نے اگر کوئی نجی نوعیت کی بات کرنا ہو تو کیسے کرے؟ مریض کو بس "انفیکشن" نامی ایک بھاری بھرکم لفظ سنا کر دوائی لکھ کر کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے اب فلاں تاریخ کو دوبارہ آنا (انکے یہاں "انفیکشن" لفظ کا استعمال کچھ اسی طرح ہے جیسے جادو ٹونے والے ہر مرض پر "اثر" کا لفظ بول دیتے ہیں اور سننے والے کو کچھ سمجھ نہیں آتی کہ کیا ہوا)۔ بیچارے مریض کو یہی پتہ نہیں چلتا کہ اسے کیا ہوا اور کیوں، جو دوا لے رہا ہے وہ کیا بلا ہے اور کیا نہیں، ٹھیک ہونے میں کتنے دن لگ سکتے ہیں اور مزید کوئی خرابی تو نہیں ہوسکتی یا مجھے جو فلاں دوسرا مسئلہ ہے دوا کی وجہ سے اس پر کوئی اثر تو نہیں ہوسکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   ؕایک سچ ایک کہانی - آن ڈیوٹی - سعدیہ نعمان

بھائی اگر آپ لوگ اخلاقی طور پر اپنی اس ذمہ داری کو پورا نہیں کرسکتے تو یہی سوچ لیں کہ اگلے بندے نے 1500 سے 2000 روپے خرچ کرکے آپ کا وقت خریدا ہے، تو اسی ناطے سے کچھ حیا کرلیجئے اور اسے تسلی کے ساتھ پندرہ بیس منٹ دے دیجئے۔ آخر آپ نے ایسا کونسا علم سیکھ لیا ہے کہ آپ لوگ پانچ منٹ کے 2000 روپے چارج کرتے ہیں؟ یقین مانیں کہ ڈاکٹری کے ایسے شعبے (مثلا سائیکیاٹرک یا سائیکالوجی) جن میں مریض کو کم از کم آدھ سے پون گھنٹہ دینا چاھئے وہ ڈاکٹرز بھی پانچ منٹ سے زیادہ دینے کو تیار نہیں ہوتے (اور اس کا تجربہ مجھے حال ہی میں ہوا جب اسلام آباد کے ایک مشہور ڈاکٹر نے ایسا رویہ اختیار کیا اور مجھے اس پر شدید غصہ آیا مگر میں اسے باتیں سناتے سناتے رہ گیا کہ اتنا سینئیر اور پڑھا لکھا بندہ ہے اسے خود شرم کرنی چاہئے)۔ تو خدارا بھلے سے پیسہ کمائیے مگر اپنے پروفیشن و مریض کے ساتھ انصاف بھی کیجئے۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.