منقسم پارلیمنٹ - یاسر محمود آرائیں

ہمارے ہاں تمام نام نہاد جمہوری ادوار میں بننے والی حکومتوں کی حالت پتلی رہی ہے۔ ان ادوار میں حکومتوں کی نہ تو امور مملکت پر گرفت مستحکم ہوتی ہے اور نہ ہی انہیں آزادانہ پالیسی سازی کا کوئی اختیار حاصل ہوتا ہے۔ ویسے تو جمہوری اعتبار سے مضبوط اور دنیا کے مہذب ترین ممالک میں بھی بعض پالیسیوں اور امور پر سویلین کنٹرول نہیں ہوا کرتا۔ ہمارے ہاں تو مگر حالت یہ ہے کہ بیشتر پالیسیاں اور اقدامات طے کرکے مختاری کی تہمت اٹھانے والوں کو اطلاع فراہم کردی جاتی ہے، تاکہ وہ اس کے مضمرات سمیٹنے کی پیشگی تیاری شروع کردیں۔ سیاسی حکومتوں کے لولا لنگڑا رہنے اور ان کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کمزور ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایک دو ادوار کو چھوڑ کر آج تک جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں وہ کسی واضح مینڈیٹ کی حامل نہیں رہیں۔ اکثر حکومتیں مختلف جماعتوں کے باہم اختلاط سے وجود میں آتی ہیں اور ہر سیاسی جماعت کا اپنا نظریہ، منشور اور مقاصد ہوتے ہیں۔ نتیجتا آئے روز ان کے مفادات کا ٹکرائو ہوتا ہے جس کی وجہ سے فیصلہ سازی اور پالیسی میں تبدیلی کی صلاحیت متاثر ہوتی رہتی ہے۔

اکثر اوقات منقسم مینڈیٹ کی حامل حکومتوں کو اتحادی جماعتیں قومی مفاد پر مبنی پالیسیوں کی منظوری پر بھی بلیک میل کرتی ہیں اور اس کے بدلے سودے بازی کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی اسی آپسی چپقلش کا اقتداری بساط بچھانے والی قوتیں فائدہ اٹھاتی ہیں اور یہی وہ چاہتی ہیں کہ کوئی بھی جماعت فیصلہ کن قوت حاصل نہ کرپائے۔ کیونکہ کسی ایک جماعت کے پاس واضح مینڈیٹ ہونے کی صورت میں ان قوتوں کے لیے اپنی بات منوانا مشکل ہوجاتا ہے۔ اور اگر مینڈیٹ منقسم ہو تو یہ قوتیں اقتداری بساط پر مہروں کو حرکت دیکر اپنے من پسند نتائج بخوبی حاصل کرلیتی ہیں۔ بلاشبہ نادیدہ قوتوں کی اس خواہش کو جواز مہیا کرنے میں سیاسی جماعتیں خود بھی ذمہ دار ہیں۔ کیونکہ اکثر جماعتوں کی قیادت کے بیرون ممالک مفادات موجود ہیں اور اگر خوش قسمتی سے انہیں کچھ اختیار حاصل ہوجائے تو وہ قومی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد کے تحفظ میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں، اسی لیے منقسم مینڈیٹ کو قومی سلامتی کی ضرورت سمجھا جاتا ہے مگر اس کے باوجود کوئی عوامی پذیرائی کے بام عروج پر پہنچ جائے اور قابل ذکر نمائندگی حاصل کرنے کے بعد دماغ لڑانے اور زبان چلانے شروع ہوجائے تو پھر قومی سلامتی کی ذمہ دار قوتوں کو انہیں قابو میں رکھنے کے لیے دیگر بندوبست کرنا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ مذاق ہے کیا - مسزجمشیدخاکوانی

گذشتہ سے پیوستہ سال 22 اگست کو کراچی میں ایک لسانی تنظیم کے قائد کی جانب سے کی جانے والے ایک نفرت انگیز تقریر کے بعد جب عالم الغیب سے اس لسانی عفریت کی مشکیں کسنے کا فیصلہ ہوا، جس نے اپنے مکروہ پنجے میں دہائیوں تک پاکستان کی معاشی شہ رگ کو جکڑے رکھا تھا تو اس وقت اس ناچیز نے اپنی احمقانہ بصیرت کے مطابق ایک پیش گوئی کی تھی کہ مقتدروں کی جانب سے اگر سزا اور جزا کا آغاز کیا گیا ہے تو یہ صرف ایک شخص اور محض ایک جماعت تک محدود نہیں رہے گا۔ بلکہ اس احتسابی عمل میں بلا تخصیص سب گناہگار، باغی اور نافرمان اپنے حصے کے مطابق سزا پائیں گے اور تمام بڑی سیاسی جماعتیں اس احتسابی بھنور کی لپیٹ میں آئیں گی۔ اس وقت اس بات پر کافی دوستوں کی جانب میرا مذاق اڑایا گیا مگر میں اپنے اس موقف پر قائم رہا کہ ایسے تمام سانپ جو اپنے پالنے والوں کو ہی ڈسنا شروع ہوچکے ہیں ان کا سر کچلنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ کچھ قوتوں نے مدتوں تک ان کرداروں کو خود ہی پال پوس کر بڑا کیا اور مسلسل انہیں طاقت فراہم کی تھی مگر اب چونکہ ان قوتوں کے مقاصد پورے ہوچکے اور، خود وہ کردار بھی آج اپنے محسنوں کو ہی آنکھیں دکھانا شروع ہوچکے ہیں لہذا اب ان سے جان چھڑانا ناگزیر ہوچکا ہے۔

اس کے بعد حالات نے میری بات سو فیصد درست ثابت کی کیونکہ سب نے دیکھا کہ وہ لوگ جو گونگے بہرے بنے ایک مدہوش شخص کی مغلظات کو گھنٹوں سنا کرتے تھے انہوں نے نہ صرف سرعام اس سے کنارہ کشی اختیار کرلی بلکہ اس کو غدار وطن بھی انہی کی زبان سے کہلوایا گیا۔

پھر پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف زرداری کو ایک متنازع تقریر کے بعد، جس میں وہ ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکیاں دیکر فرار ہوئے، مائنس کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا تھا۔ قسمت یاوری نہ کرتی تو وہ اب تک ماضی ہو بھی چکے ہوتے مگر، بعد از معافی تلافی ان کو وطن واپسی کا پروانہ مل گیا۔ ان کو زندہ رکھنا کیونکہ آئندہ الیکشن میں اس خلا کو پیدا ہونے سے روکنے کے لیے لازم تھا جو پیپلز پارٹی کی عدم موجودگی میں اندرون سندھ پیدا ہوگا، جس سے قوم پرست فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پی پی قیادت کو بھی بخوبی احساس ہے کہ ان کو ملنے والی مہلت عارضی ہے اور جلد ان کی باری دوبارہ آنے والی ہے اسی لیے اس کی اعلی قیادت خود کو مقتدروں کی نظر میں با اعتبار ثابت کرنے اور رعایت کو دائمی بنانے کی خاطر مسلم لیگ ن کو لفٹ کرانے سے گریزاں ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ جب زرداری صاحب کی باگیں کھینچی جارہی تھیں تو مسلم لیگ بھی اسی طرح ریت میں سردبائے بیٹھی تھی جیسے آج پی پی بیٹھی ہے، مگر پیپلز پارٹی کی خوش قسمتی سے اس کی مکمل اینٹ بجنے کا عمل کچھ وقت کے لیے موخر ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومتی ترجمان فردوس اعوان، سلام - حبیب الرحمن

اس کے بعد نواز شریف کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا وہ سب کی یادداشت میں تازہ ہے، سو اس کی تفصیل میں جانے کی زیادہ ضرورت نہیں۔ عتاب کا شکار تو وہ اسی وقت ہوچکے تھے جب اقتدار سنبھالنے کے فورا بعد انہوں نے بعض معاملات پر وعدہ خلافی کردی تھی۔ اس وقت کے ملکی حالات لیکن انہیں مکمل راندہ درگاہ کردینے کے متحمل نہ تھے اور نہ ہی ان کے خلاف اس وقت کوئی مضبوط جواز میسر تھا۔ جونہی مگر پانامہ کا افسانہ سامنے آیا، اسے نصرت خداوندی سمجھتے ہوئے مقتدروں نے اس سے فائدہ اٹھانے کا سوچا۔ جواز تو خیر یہ بھی "تگڑا" نہ تھا، ورنہ پانامہ کی کہانی کا اختتام اقامہ پر کس طرح ہوسکتا تھا؟ یہ بہانہ مگر نواز شریف کے دی اینڈ کے لیے کافی قرار پایا۔

نواز شریف نے اس انجام سے دوچار ہونے کے بعد اپنے لیے ہمدردی حاصل کرنے کی کاوش شروع کردی، خوش قسمتی سے وہ اس میں کامیاب بھی رہے۔ جس کا ثبوت نا اہلی فیصلے کے بعد ہونے والے ضمنی الیکشنز کے نتائج سے ملتا ہے۔ اس سے قبل فیصلہ تو شاید یہ تھا کہ بات نواز شریف تک محدود رہے گی، مگر عملا ان کی جماعت انہیں چھوڑنے پر رضامند نہ ہوئی۔ لہذا ایک زیر عتاب شخص سے قدم ملانے کی پاداش میں بلوچستان میں ن لیگ کا نام تک مٹادیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کرشمہ زرداری کے خزانے کی چمک سے ہوا، لیکن بوٹوں کی دھمک کے بغیر محض پیسے کے زور پر یہ تبدیلی سمجھ سے بالاتر ہے۔ پھر سینیٹ سے ن لیگ کی یقینی اکثریت کو آسودہ خاک کرنے کے لیے عین وقت پر ایسا فیصلہ آیا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ مذکورہ فیصلے کے بعد سینیٹ میں اکثریت کی خواہش پوری ہونا تو تقریبا نا ممکن ہوچکا لیکن اگر مسلم لیگ ایک "راندہ درگاہ" شخص کے بیانیے پر ہی چلتی رہی تو نظر یہ آرہا ہے کہ اگلے عام انتخابات میں بھی اس کی واضح کامیابی کے سامنے بندھ باندھ دیا جائے گا اور ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر لولی لنگڑی اور منقسم پارلیمنٹ وجود میں آئے گی۔