بلاد شام کے بارے احادیث کی وضاحت - حافظ محمد زبیر

دوست کا سوال ہے کہ
شام کے بارے احادیث کو مختلف لوگوں نے اپنے اپنے حق میں استعمال کیا ہے جیسا کہ داعش ان احادیث سے اپنا مطلب نکالتی رہی ہے تو اس بارے آپ کیا کہتے ہیں؟

جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ احادیث مبارکہ سے سر زمین شام اور اہل شام کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ احادیث میں شام سے مراد موجودہ شام (Syria) نہیں بلکہ بلاد شام (Levant) ہیں کہ جن کا مرکز فلسطین ہے اور موجودہ شام بھی اس کا ایک حصہ ہے۔

شام کے بارے وارد احادیث کی موجودہ حالات کے مطابق صحیح شرح وقت کی اہم ضرورت ہے ورنہ تو فتنہ مزید پھیل سکتا ہے۔ مثال کے طور مستدرک حاکم کی ایک صحیح روایت میں ہے کہ
يَوْمَ الْمَلْحَمَةِ الْكُبْرَى فُسْطَاطُ الْمُسْلِمِينَ، بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا الْغُوطَةُ
ترجمہ: جب بڑی جنگ ہوگی تو اس وقت مسلمانوں کا گھر ایک ایسی جگہ ہوگی کہ جس کا نام "غُوطہ" ہے۔

اب حدیث کے اتنے سے حصے کو بیان کرنے سے غلط فہمی ہو سکتی ہے جبکہ اس کے بعد کے الفاظ ہیں:
فِيهَا مَدِينَةٌ يُقَالُ لَهَا دِمَشْقُ، خَيْرُ مَنَازِلِ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ
ترجمہ: "اس غُوطہ کی سرزمین میں ایک شہر ہے کہ جس کا نام دمشق ہے تو بڑی جنگ کے زمانے میں مسلمانوں کا بہترین ٹھکانہ یہ شہر دمشق ہوگا۔"

تو مکمل روایت سے واضح ہوا کہ یہ "دمشق" کی بات ہو رہی ہے۔ اور یہ بھی واضح ہوا کہ حدیث میں بڑی جنگ کی بات ہو رہی ہے کہ جسے ہم تیسری جنگ عظیم (third world war) کے نام سے موسوم کر سکتے ہیں۔ البتہ "غُوطہ" میں موجودہ بمباری اس جنگ عظیم کا مقدمہ ہو سکتا ہے کہ تمام بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز شام میں موجود ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر ان روایات کا "الملحمۃ الکبری" یا "تیسری جنگ عظیم" کے مقدمہ کے طور پر ہونے والے موجودہ جنگ وجدال پر اطلاق کرنا ہو تو ایسے میں لڑنے والوں پر ان روایات کا اطلاق نہ کیا جائے کہ لڑائی کا معاملہ ابھی "بینہ" اور "برہان" کی طرح واضح نہیں ہوا لیکن یہ "بینہ" اور "برہان" کی طرح واضح ہوگا جیسا کہ احادیث میں ہے۔ تو موجودہ حالات میں ان روایات کا اطلاق ان شہریوں پر کیا جائے کہ جو اس جنگ وجدال میں ظلم کے ساتھ قتل کیے جا رہے ہیں کہ اس آزمائش میں ان کے لیے ان احادیث میں بیان شدہ فضائل میں صبر کا سامان موجود ہے۔

ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ جب فتنے پھیل جائیں گے تو "ایمان" شام میں ہوگا۔ اور دوسری روایت میں "فتنوں" کی شرح میں یہ موجود ہے کہ مسلمان تین لشکروں میں تقسیم ہو جائیں گے؛ ایک لشکر شام میں ہوگا جو سب سے بہتر ہوگا۔ دوسرا یمن میں ہوگا جو اس سے کم تر ہوگا اور تیسرا عراق میں ہوگا جو بدترین ہوگا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کے لشکر کا ساتھ دینے کا کہا ہے۔ اگر وہ ممکن نہ ہو تو یمن کے لشکر کا ساتھ دیا جائے۔ تو مسلمانوں کی ان تین لشکروں میں تقسیم ابھی ہو رہی ہے۔ اور مستقبل میں یہ امکان موجود ہے کہ ترکی "شام" میں اور سعودی عرب "یمن" میں اور ایران "عراق" میں اپنی حکومت قائم کر لے۔

سنن ترمذی کی روایت میں ہے کہ آخر زمانے میں قیامت سے پہلے حضرموت یعنی یمن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو ایک جگہ جمع کر دے گی تو آپ نے فرمایا کہ اس زمانے میں شام کے ساتھ رہو۔ تو یہ آگ بھی ابھی ظاہر نہیں ہوئی البتہ اس کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں جیسا کہ یمن کی جنگ کی آگ کی وجہ سے مسلم دنیا میں بلاکس اور اتحاد بن رہے ہیں اور ٹوٹ بھی رہے ہیں۔ تو ایسے میں ہمیں اس بلاک اور اتحاد کا ساتھ دینے کا کہا گیا ہے جو بلاد شام یعنی فلسطین اور موجودہ شام وغیرہ کی حمایت میں ہے۔ سنن ترمذی ہی کی ایک روایت میں ہے کہ جب اہل شام میں فساد یعنی جنگ پھیل جائے تو پھر اب کوئی خیر باقی نہیں ہے، یعنی اب یہ جنگ پھیلے گی اور پوری امت اس کی لپیٹ میں آ جائے گی، یعنی تیسری جنگ عظیم کی طرف سفر شروع ہو جائے گا۔

اور جن روایات میں فتنوں کے زمانے میں شام کی طرف ہجرت کی بات آئی ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ اگر فتنہ عام ہو جائے یعنی جنگ چاروں طرف پھیل جائے مثلا تیسری جنگ عظیم شروع ہو جائے تو اب جس کو استطاعت ہے تو شام کی طرف ہجرت کر جائے کہ وہاں ہی آخری معرکہ سجنا ہے اور وہاں ہی عیسی بن مریم علیہ السلام کا نزول ہونا ہے۔ باقی اس دنیا کی تقدیر جنگ وجدال ہے کہ جس کا اظہار فرشتوں نے آدم کی پیدائش سے پہلے ہی ان الفاظ میں کر دیا تھا:
قَالُواْ أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاء
ترجمہ: "پروردگار، کیا آپ ایسی مخلوق پیدا کرنے والے ہیں جو زمین میں فساد پھیلائے اور قتل وغارت گری کرے۔"

اور بہت کم لوگوں کے علم میں ہے کہ فرائیڈ نے بھی آخر عمر میں "جنس" کی جگہ "جنگ" کو انسان کی اصل جبلت قرار دے دیا تھا۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.