​تیمم، وضواور غسل کا نعم البدل - مولانا محمد جہان یعقوب

اسلام دین فطرت بھی ہے اور دین سہولت بھی، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جوبھی حکم اپنے محبوبۖ کے توسط سے دیا ہے،اس میں اپنے بندوں کی آسانی وسہولت کو مدنظر رکھا ہے۔اللہ کے حبیب ۖ کواپنی امت کی مشقت کا کس قدر احساس تھا، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ آپ ۖ نے تراویح کی نماز جماعت سے چند دن پڑھا کراس لیے ترک کردی کہ کہیں میری امت پر فرض نہ ہوجائے، اسی طرح مسواک کے بارے میں فرمایا کہ اگر مجھے میری امت کی مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں انھیں ہر نماز کے لیے مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ اپنے حوالے سے تو نوافل تک کی قضا کا التزام فرمایا، لیکن امت کو صرف فرائض اور وتر کی قضا کا پابند بنایا۔ غرض اللہ، رسول ۖ نے ہر حکم میں ہماری آسانی و سہولت کو ملحوظ خاطر رکھا ہے، تیمم بھی انھی احکام میں سے ہے، جن میں ہماری سہولت و آسانی ہے۔

تیمم کے حکم کا نازل ہونا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکی وجہ سے اس امت پر کی جانے والی اللہ تعالیٰ کی برکتوں اور احسانات میں سے ایک برکت اوراحسان ہے۔ اس واقعہ کو خود انھوں نے بیان فرمایا ہے۔چناں چہ حضرت امام بخاری نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ایک سفرکے موقع پرمیں نبی کریم ۖکے ساتھ تھی۔اس سفر میں بہت سارے مسلمان بھی ہمارے ہمرا ہ تھے۔ میں نے ایک ہار پہن رکھا تھا ۔ جب ہمارا قافلہ ذات الجیش کے مقام پر پہنچا تو وہاں یہ ہار ٹوٹ کر گم ہوگیا۔لہٰذا اس ہار کو ڈھونڈنے کے لیے نبی کریمۖ نے وہاں مزید قیام فرمایا، اور آپ کے ساتھ آپ کے ہمراہی بھی وہیں ٹھہرے رہے۔ اتفاق سے قافلے نے جہاں پڑاؤ ڈالا تھا، وہاں دور دور تک پانی کانام و نشان نہ تھا، صبح قریب تھی ،اورلوگوں کو فجر کی نماز پڑھنے کی فکر تھی ۔ پانی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ گھبرائے ہوئے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچے اور انھیں اپنی صورت حال بتائی (کہ نماز کا وقت ہوچکا ہے، اور وضو کے لیے دور دور تک پانی نہیں ہے،اب کیاکیا جائے؟عائشہنے کیا کردیا )حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ : لوگوں کی یہ باتیں سن کر حضرت ابوبکر صدیق میرے پاس آئے اور(والد ہونے کی حیثیت سے) مجھے سرزنش کرنا شروع کر دی۔ اس وقت نبی کریمۖ میرے زانو پر اپنا سرِ مبارک رکھے ہوئے آرام فرما تھے۔ حضرت ابوبکرصدیق نے میرے پہلو میں کچوکے لگائے ۔ لیکن میں نے نبی کریمۖ کے آرام میں خلل نہ آئے، اس خیال سے ذرا بھی حرکت نہ کی۔ یہاں تک کہ صبح کے وقت جب نبی کریم ۖبیدار ہوئے تو دیکھا پانی موجود نہیں ہے۔ اسی دوران وحی کے آثار نمایاں ہوئے اور حکم نازل ہوا :
ترجمہ : اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو، یا تم میں کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو، یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو (یعنی تم پر غسل فرض ہوگیاہو)، اور پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔(سورة النساء)

یہ بھی پڑھیں:   تراویح میں شرارتیں اور نوجوانوں کی مسجد سے دوری – طلحہ زبیر بن ضیاء

یہ حکم نازل ہوگیا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دل وفورِ مسرت سے جھوم جھوم اٹھے۔ اور وہ اپنی مقدس ماں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو دعائیں دینے لگے۔ حضرت ابن شہاب زہری فرماتے ہیں: حضرت ابوبکر صدیق جو کہ چند لمحے پہلے اپنی بیٹی کو سرزنش کر رہے تھے، تیمم کا حکم نازل ہوجانے پر انھوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے تو علم نہ تھا کہ تم اتنی بابرکت ہو۔ یہ ماجرا دیکھ کر صحابیِٔ رسول حضر ت اسید بن حضیر ،جو ہار کی تلاش کے لیے بھیجے جانے والوں میں سے تھے، کہنے لگے : اے ابوبکر کے گھر والو! تم ہمیشہ سے برکت والے ہو ۔ یہ تمہاری پہلی برکت ہی نہیں ہے۔ یہ تو تھا اس سہولت کا پس منظر، آئیے!اس شرعی حکم کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تیمم کے لفظی معنی قصد اور ارادہ کے ہیں ،جب کہ اصطلاح شریعت میں پاک مٹی سے مخصوص طریقے سے نیت و ارادے کے ساتھ طہارت اور پاکی حاصل کرنے کو تیمم کہتے ہیں۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کن کن صورتوں میں تیمم کی اجازت ہے؟تو یہ بات سمجھ لیجیے!کہ ایک میل تک پانی نہ ملنے کی صورت میں یا پانی کے استعمال کے نقصان دہ ہونے کی صورت میں شریعت نے وضو اور غسل کا نعم البدل تیمم کو بتلایا ہے ،جن جن صورتوں میں تیمم کی اجازت ہے، وہ درج ذیل ہیں:
ایسابیمار، جس کے لیے پانی کا استعمال مضرہو اور اس کے مرض میں اضافے کا سبب بنے، یا دیر سے صحت یاب ہونے کا اندیشہ ہو۔اسی طرح وہ شخص مریض تو نہ ہو، لیکن ایسی شدیدسردی ہو، جس میں پانی استعمال کرنے سے جان یا کسی عضو کے تلف ہونے کا خطرہ پیدا ہوجائے۔ اسی طرح پانی ایک میل شرعی (1.8 کلومیٹر) کی مسافت سے دور ہو ، پانی اس قدر دور تو نہ ہو، لیکن پانی والی جگہ یا راستے میں کوئی درندہ یا دشمن بیٹھا ہو ،جس کے خوف سے پانی تک پہنچنا ممکن نہ ہو۔اسی طرح ایسا شخص،جو معذور ہونے کی وجہ سے خود وضو نہ کرسکے اور کوئی دوسرا شخص وضو کرانے والا موجود نہ ہو۔ان سب کے لیے جائز ہے کہ وہ وضو اور غسل کی ضرورت پیش آنے پر تیمم کرلیں۔
اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ کن کن چیزوں پر تیمم کرنا درست ہے، تو اس کے لیے فقہائے کرام یہ قاعدہ بتاتے ہیں کہ ہر وہ چیز چیز، جو نہ آگ میں جلانے سے جلے، اور نہ گلانے سے گلے، اگر وہ چیز پاک ہو تواس سے تیمم جائز ہے، اور یہ وہ چیزیں ہیں، جومٹی کی جنس سے شمار ہوتی ہیں۔گویا کہ مٹی، پتھر، اینٹ پر یا جو چیز مٹی کی قسم کی ہو، تیمم اس پر ہوتا ہے۔ البتہ اس کے علاوہ ہر اس چیز پر جس پر اس قدر دھول مٹی چڑھی ہو، کہ ہاتھ مارنے سے خوب اُڑتی ہو اور ہاتھوں پر اچھی طرح لگ جاتی ہو، اس پر بھی تیمم کرنا صحیح ہے۔ (حاشیة الطحاوی ،کتاب الطہارہ) ہاں! البتہ کسی ایسی زمین پر تیمم نہیں کیا جاسکتا جس کے متعلق معلوم ہو، کہ اس پر گندگی تھی جو سوکھ گئی ہے اور بدبو بھی ختم ہوگئی ہے، کیوں کہ یہ جگہ پاک نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نماز کے قریب مت جاؤ - بشارت حمید

اب یہ بات صاف ہوگئی کہ جو چیز زمین کی جنس نہ ہو، اس سے تیمم نہیں کیا جاسکتا، جیسے سونا ، چاندی،گیہوں، لکڑی ،اناج،کپڑا وغیرہ ،البتہ اگر ان چیزوں پر اتنا غبار ہوکہ ہاتھ مارنے سے اڑے اور ہتھیلیوں پر لگ جائے تو تیمم درست ہے۔ خلاصہ یہ کہ جو بھی چیز ایسی ہو، جو جلانے سے جل کر راکھ ہوجائے اس پر تیمم کرنا درست نہیں۔(فتاویٰ عالمگیری)

تیمم چاہے وضو کے لیے ہو، یا غسل کے لیے، یا دونوں کے لیے، اس کا طریقہ بڑا سہل اور آسان ہے، تیمم کے لیے دل میں تیمم کا ارادہ کرنا ضروری ہے۔ یعنی تیمم کرتے وقت دل میں یہ کہنا ضروری ہے کہ میں پاک ہونے کے لیے تیمم کررہا ہوں۔ نیت کرنے کے بعدپاک مٹی یا جو چیز مٹی کی جنس سے ہو ،اس پر دونوں ہاتھ مارکر ہاتھوں کو جھاڑتے ہوئے صرف ایک مرتبہ چہرے پر مَل لیں، پھر دوبارہ مٹی پر ہاتھ مار کر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت مل لیں۔ نیز ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان بھی انگلیاں پھیر لیں،یعنی انگلیوں کا خِلال کرلیں۔ ملنے میں اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ بال برابر جگہ بھی چہرے اور ہاتھوں میں ایسی باقی نہ رہے جس پر ہاتھ نہ پھیرا گیا ہو۔ اس طرح کرنے سے آپ کا تیمم مکمل ہوگیا، اب اس تیمم سے آپ وہ ساری عبادتیں ادا کر سکتے ہیں جنھیں وضو اور غسل کے بعد ادا کیا جاتا ہے۔ تیمم میں نیت،ترتیب اور چہرے اور اورکہنیوں کا مسح لازمی ہیں،اس میں کسی قسم کی کوتاہی تیمم کو ناقص وبے ثمر بناسکتی ہے۔جب تک کہ آپ کا تیمم برقرار ہے۔ واضح رہے کہ تیمم ان تمام چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے جن سے وضو ٹوٹتا ہے، اسی طرح پانی ملنے اور اس کے استعمال پر قادر ہوجانے سے بھی تیمم ٹوٹ جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس سہولت کو اس کی حدود وقیود میں رہتے ہوئے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

Comments

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب فاضل درس نظامی ہیں، گزشتہ بارہ سال سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے شائع ہونے والے اخبارکے ادارتی صفحے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ تفسیر روح القرآن کے تالیفی بورڈ کے رکن رکین اور تخصص فی التفسیر کے انچارج ہیں، مختلف اداروں کے تحت صحافت کا کورس بھی کراتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.