مجھے کیوں نکالا؟ ریحان اصغر سید

کہا جاتا ہے کہ ہمالیہ کے دامن میں آباد ملک کے بغل میں ایک ریاست واقع تھی، جس کو خطہ کے ممالک کملاؤں کے دیس کے نام سے جانتے تھے۔ اس ریاست کا ایک بادشاہ بھی تھا، حالانکہ جس طرح کے ان کے حالات تھے، انھیں بادشاہ سے زیادہ ایک میراثی کی ضرورت تھی ،جو صبح نہار منہ لشکریوں کو سلامی کے لیے پہنچتا، اور بھاگ لگے رہن کی دعا دیتا، اور اس کے بعد قاضی کے حجرے میں جا کے سجدہ تعظیمی بجا لاتا۔

بادشاہ ویسا ہی تھا جیسے عموما بادشاہ ہوتے ہیں، چڈو، ٹگا، نالائق، عیش پسند اور سرکاری خزانہ مصاحبوں پر لٹانے والا۔ لوگ کہتے ہیں کہ کثرت پائے خوری سے اس کی عقل اس کے ذاتی پائے یعنی گٹوں میں چلی گئی تھی، اس لیے وہ خود کو عوام کا محبوب لیڈر سمجھنے کے علاوہ آزاد خارجہ پالیسی، ہمسایوں سے امن اور ترقی جیسے نامانوس الفاظ بولنے لگا تھا۔ ایسی واہی تباہی بکنے کی وجہ سے قاضی اور لشکری اسے پسند نہیں کرتے تھے۔ اسی ملک میں ایک شاہ جہاں ثانی نام کا پینسٹھ سال کا نوجوان ٹھیکدار بھی رہتا تھا، جس کا بچپن سے خواب تھا کہ وہ سارا ملک مسمار کر کے اپنی پسند کے نئے نقشے پر تعمیر کرے لیکن اس کی دال نہیں گل رہی تھی، پہلے وہ لشکریوں کے ساتھ مل کر بادشاہ کا تخت الٹنے کی کوشش کرتا رہا، لیکن گوہر مقصود ہاتھ تب آیا جب انصاف پسند قاضی بھی ان کے ساتھ شامل ہوگیا۔ مجبورا بادشاہ کو نااہل ہو کر گھر جانا پڑا، لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی، بادشاہ کے خلاف عدالتی کاروائی ابھی جاری تھی۔

آخری منظر
منظر قاضی کے حجرے کا ہے جسے کچھ ستم ظریفوں نے عدالت کا نام دے رکھا ہے۔ قاضی اپنی کرسی پر اسی شان سے بیٹھا ہے جیسے مرغی اپنی انڈوں پر بیٹھتی ہے۔ قاضی کے آجو باجو کی کرسیوں پر دو قاضی مزید بیٹھے ہیں جو ملوک کھاتے ہوئے معزول بادشاہ کے کیس کی فائل بھی دیکھ رہے ہیں۔ معزول بادشاہ ایک کونے میں منہ لٹکا کر کھڑا ہے۔ جس کے پہلو میں منہ پر میک اپ تھوپے اور سونے کا تاج پہنے شہزادی بھی کھڑی ہے۔ شہزادی ہر کچھ منٹ بعد کسی خیالی مجمع کو دیکھ کر نزاکت سے ہاتھ ہلاتی ہے، اور ایک مصنوعی متانت بھری مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے رکھتی ہے۔

قاضی نے عینک کے پیچھے سے معزول بادشاہ کو دیکھا۔
آج کی سماعت شاہ جہاں ثانی کی طرف سے معزول بادشاہ کے تنسیخ نکاح کی درخواست کے حوالے سے کی جا رہی ہے۔ شاہ جہاں ثانی کا مطالبہ ہے کہ چونکہ آپ آرٹیکل فلاں ٹینگ کی روشنی میں صادق و امین نہیں رہے، اس لیے آپ کو نکاح کو منعقد ہونے کی تاریخ سے ہی کالعدم قرار دیا جائے۔ کیا آپ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہیں گے؟
معزول بادشاہ کا منہ حیرت سے کھل گیا، لیکن جلد ہی اس نے اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے معزز قاضی سے ایک لطیفہ سنانے کی اجازت چاہی جو قاضی نے درشتی سے مسترد کر دی۔
یہاں ملکی سالمیت اور وقار داؤ پر لگا ہے اور آپ کو لطیفے سوجھ رہے ہیں۔ کتنے شرم کی بات ہے کہ ایک آدمی جو آئینی طور پر شادی کے قابل ہی نہیں تھا، اس نے ملک و قوم کو دھوکہ دیتے ہوئے نہ صرف شادی کی بلکہ بچے بھی پیدا کیے۔
اتنی دیر میں وکیل صفائی نے کاغذات کا ایک پلندہ قاضی کے سامنے رکھا جو ملک کے جید علماء کے فتاوی جات پر مشتمل تھا کہ آرٹیکل فلاں ٹینگ کی روشنی میں نااہل ہونے والے شخص کا نکاح برقرار رکھنے میں کوئی شرعی قدغن نہیں ہے۔
کاغذات کے سرسری مطالعے کے بعد قاضی نے ریاست کے اٹارنی جنرل سے دریافت کیا کہ اگر نااہل بادشاہ کا نکاح تاریخ انقعاد سے ہی منسوخ قرار دیا گیا تو معزول بادشاہ کے بچوں کی قانونی حثیت کیا ہوگی؟ آپ اس سلسلے میں عدالت کی راہنمائی فرمائیے۔
اٹارنی جنرل نے بےبسی سے قاضی صاحبان کو دیکھا اور جواب داخل کرنے کی لیے دو ہفتے کی مہلت طلب کی جو کہ انھوں نے دینے سے انکار کر دیا۔
بڑے قاضی نے یہ کہتے ہوئے عدالتی کارروائی میں پندرہ منٹ کا وقفہ لیا کہ ہم ایک ایسے تاریخی فیصلے کے ساتھ حاضر ہو رہے ہیں جس کی مثال اس دنیا میں تو کیا کسی دوسری دنیا میں بھی ڈھونڈنا مشکل ہوگی بلکہ مجھے یقین کامل ہے کہ ایلنیز بھی اپنی عدالتوں میں ہمارے اس فیصلے کے حوالے دیا کریں گے۔

پندرہ منٹ بعد جب عدالت دوبارہ لگی تو قاضی نے اپنا فیصلہ ان تاریخی الفاظ سے شروع کیا۔
جب میں ایک دفعہ کمٹمنٹ کر لوں تو پھر میں اپنی بھی نہیں سنتا۔ بعد از اپنی حمد و ثنا کے یہ معزز عدالت متفقہ طور پر معزول بادشاہ کے نکاح کو اس کے تاریخ انقعاد سے فسخ قرار دیتی ہے۔ اور اس نکاح کے نیتجے میں پیدا ہونے والوں بچوں کو سمندر برد کرنے کا حکم سناتی ہے، تاکہ ملک عزیز کو پاک کیا جا سکے نیز اس نکاح کے انتظام کرنے یا مدد کرنے والے چاہے وہ زندہ ہیں یا مردہ، ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم سناتی ہے۔

پورا حجرہ مبارک سلامت، انصاف زندہ باد قاضی پائندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ اسی اثنا میں ایک دبلا پتلا شخص قاضی کے سامنے حاضر ہوا، اس کا موقف تھا کہ چونکہ معزول بادشاہ کا نام بظاہر اسلامی لگتا ہے، اور آرٹیکل فلاں ٹینگ کی روشنی میں نااہل ہوئے شحض کو آئین اجازت نہیں دیتا کہ اسے یہ نام رکھنے کی اجازت دی جائے، اس لیے قاضی صاحب فورا انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے معزول بادشاہ کو اپنا نام بدل کے دیوداس یا چینا سنگھ رکھنے کے احکام جاری کریں۔

اس سے پہلے کہ قاضی صاحب درخواست گزار کو فوری انصاف مہیا کرتے، معزول بادشاہ نے اپنا گریبان چاک کیا اور قہقے لگاتا جنگل کی طرف نکل گیا۔ جب کافی دیر چلنے کے بعد جنگل نہ آیا تو باپ بیٹی نے مناسب سمجھا کہ کسی راہگیر سے جنگل کا راستہ پوچھ لیا جائے تاکہ وہ وہیں جوگ لے لیں اور درختوں کے پھل وغیرہ کھا کر اللہ کا شکر ادا کیا کریں، لیکن راہگیروں نے یہ بتا کر معزول بادشاہ کے ارمانوں کا خون کر دیا کہ جنگل کے سارے درخت ٹمبر مافیا کاٹ کے بیچ چکی ہے۔ تب سے معزول بادشاہ شہزادی کا ہاتھ پکڑے در بدر پھر رہا ہے، اور ہر کسی سے پوچھتا پھرتا ہے:
مجھے کیوں نکالا
مجھے کیوں نکالا