'خدائی سرگوشیاں' پر ایک تبصرہ - ہمایوں مجاہد تارڑ

کبھی خیال آتا ہے، کتابِ مقدّس میں ایسی اور اس سے ملتی جلتی آیات کیوں نہ اتریں؟
"ہم تمھیں بیسویں صدی عیسوی میں ڈی این اے کی دریافت کی خبر دیتے ہیں۔"
یا یوں کہ ـــ
"طاقتور ٹیلی سکوپس کے ذریعے خلا کی وسعتیں ماپنے، اس میں تیرتے سیارگان کا لگا بندھا، منظم و مربوط نظام مشاہدہ کرنے کی اہلیت، آبدوزوں میں بیٹھ بیٹھ سمندر کے باطن میں اتر کر باریک ترین آبی حیات کے حیرت زا مشاہدے تمھیں ہمارے ہونے کی خبر دیں گے۔ تب تم میں سے صاحبانِ شعور پکار اٹھیں گے کہ بے شک اللہ وحدہ لاشریک ہی زندگی، اس کے تمام تر لوازمات و موجودات کا خالق ہے۔ وہی لائقِ پرستش ہے۔ جب یہ سب اپنی آنکھوں دیکھ لو تو ہم پر ایمان لانے میں تاخیر نہ کرنا۔۔"

ماضی، حال اور مستقبل کو ایک اکائی کے بطور دیکھنے والا خالق، سورج ایسے عظیم الجثہ وجود کو چراغ کہنے والا مالک الملک، علیم بذاتِ الصدُور ایسا حیرت انگیز دعوٰی رکھنے والا علّامُ الغیوب کیا کچھ ایکسپوز نہ کر ڈالتا جسے سن کر، دیکھ اور پرکھ چکنے کے بعد اب دنیا میں ہر شخص کلمہ گو ہوتا؟ صاحبانِ ایمان ایسی شہادتیں اٹھائے بات بات پر پریس کانفرنسیں منعقد کیا کرتے:
"لو جی، سٹیو جابز کے ہاتھوں آئی فون کی ایجاد پر غلغلہ مچانے والے جان لیں کہ قرآن میں یہ بات چودہ سو برس قبل سورہ نجم میں لکھ دی گئی تھی۔ بس اب سیدھی طرح ایمان لاؤ۔ تمہارے پاس کوئی راہِ فرار نہیں!"

نہیں۔ اس نے ایسا نہ کِیا کہ تب ایمان جبر ہو جاتا – عقل ایسا شاندار search engine سافٹ وئیر عطا کرنے والے نے دوٹوک لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ چاہو تو مجھے مانو، چاہو تو میرا انکار کرو۔ ہاں، آس پاس میں بکھری کتابِ کائنات میں میری نشانیاں ہیں، انفس و آفاق میں ہم تمھیں اپنے موجود ہونے کے ان گنت ثبوت دکھائیں گے، انسانی شکل میں اپنے خاص نمائندے یعنی پیغمبر بھی بھیجیں گے۔ ان تمام clues کی مدد سے اگر تم پہیلی بوجھ لو، تو تمھیں کروڑ ہا سال کی نہ ختم ہونے والی حیات بمعہ رنگا رنگ لوازمات، راحت و آرام بطور انعام عطا کریں گے۔

خالقِ عقل نے عاقل انسان کو زندگی کی پہیلی بوجھنے کو اشارے دیے۔ یہ اشارے علم، فہم، سوال در سوال کی یلغار کر سکنے کی قوتِ عاقلہ ایسے آلات کو عمدگی سے برتنے کی صورت سمجھے جا سکتے ہیں۔ اور بالآخر یہ اشارات بات سمجھ میں آجانے کی صورت سرِ تسلیم خم کردینے کے متقاضی ہیں۔ انہی اشاروں کو سر مجیب الحق حقی نے "خدائی سرگوشیاں" کے نام سے تعبیر کیا ہے۔ اور ایسی متعدد، زیادہ تر معنی خیز سرگوشیاں ایک مقام پر اکٹھی کر دی ہیں۔

سر مجیب کی دنیائے مذہبیت ادبیت وشائستگی لیے بےاختیار دل میں گھر کر جاتی ہے۔ مشفق والد ایسے شفیق لب و لہجے میں رچی عمیق دانشمندی فراستِ مؤمن کا مضبوط تاثر لیے ہے، نہ کہ مولویانہ بے صبری اور زور آوری۔

الرٹ کر دینے کی حامل یہ سرگوشیاں سن کر بندہ سوچتا ہے کہ چوٹ کھا کر بھی، ارادوں کے ٹوٹنے سے بھی، پورے کا پورا قافلہ لُٹا کر بھی خدا پر ایمان کی چنگاری نہ بھڑکے، بندہ باغی مان کر نہ دے کہ "جو اختیارِ بشر پہ پہرے بٹھا رہا ہے وہی خدا ہے" تو کوئی ایسی ڈیوائس ایجاد نہیں ہوئی جو حضرتِ انسان پر ایقان و ایمان کا شرارہ یا سپارک پھینک سکے۔ بس یہ گلزارِ ہست و بود ہی، افق در افق پھیلی یہ بےحد کتابِ زندگی ہی اس کا پیغام ہے، اس کے ہونے کے منہ زور اشارے لیے۔ خارج میں بھی اور خود ہمارے اپنے دروں میں بھی لبالب بھری پڑی ہیں، اس کی نشانیاں جو کسی خالق و مصوّر کے موجود ہونے کا پتہ دیتی ہیں۔ دماغ پاشی کرنے کو عقل کا یہ سافٹ وئیر عنایت فرما کر جو خود نگاہ سے اوجھل ہو گیا تھا، یہ اشتیاق و تجسّس لیے کہ بھلا میرا شاہکار مجھے پانے کی جستجو فرمائے گا، یا اسی ڈیوائس کی ساری طاقت بس مجھے نا موجود ثابت کرنے میں کھپا ڈالے گا۔

سوچتا ہوں، ایمان کتنی بڑی، کیسی حیرت انگیز دولت ہے۔ ملی تو ایک عامی کو مل گئی، نہ ملی تو شرقاً غرباً اپنے فلسفے پھیلا دینے والوں، اپنی دانش گاہیں رینکنگ کے آسمان پر پہنچا دینے والوں کو بھی نصیب نہ ہوئی۔ رومیؔ نے کیا خوب کہا تھا:
"کائنات میں کچھ الفاظ بےآواز بھی ہیں۔ سنو!"
واقعی کوئی بات احاطہِ سخن سے باہر، اس سے ماورا ہوا کرتی ہے۔حضرتِ اقبالؒ کی زبانی سنیے:


سینہ روشن ہو تو ہے سوزِ سخن عین حیات

ہو نہ روشن ، تو سخن مرگ دوام اے ساقی

تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ

ترے پیمانے میں ہے ماہ تمام اے ساقی!

عشق کی تیغِ جگر دار اڑا لی کس نے

علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی

سر مجیب الحق حقی کی کتاب "خدائی سرگوشیاں" کے مطالعہ کا آغاز کرتے سَمے میرا ابتدائی تاثر یہ تھا کہ جس شخص نے اس جاں گُسل موضوع پر پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب کے لیکچرز اور تحاریر سے استفادہ نہیں کر رکھا، نیز ابو یحییٰ کی دہریت کے فسوں کو پاش پاش کرتی مدلّل بحث و گفتگو کا ذائقہ نہیں چکھا، ڈاکٹر مرتضیٰ ملک مرحوم کی شاہکار کتاب "وجود باری تعالیٰ اور توحید" کو حرزِ جاں نہیں بنایا، اس کی تحریر اس دقّت طلب موضوع کی پرتیں بھلا کیونکر کھول سکے گی؟ یوں، زیادہ وزن دار ہونے سے قاصر ہوگی۔ تاہم، یہ نکتہ میرے نارسا ذہن سے قطعی محو ہوگیا تھا کہ جس خدا نے اِن مذکورہ شخصیات کوعلم و دلیل اور پیرایہِ اظہار کی دولت سے کمال فرّاخی سے نوازا، وہی خدا کسی تیسرے، چوتھے اور پانچویں شخص کو بھی ایسی توفیق خیرات کر سکتا، کسی نئے انداز میں اپنی ہستی بارے لب کشائی کا یارا عطا کرسکتا ہے۔ وہ مالک الملک کسی بھی مخلص شخص کو نئی ادا، جداگانہ طرزاظہارارزاں کردینے پر پوری طرح قادر ہے۔

یقین جانیں، سر مجیب الحق حقی کے الفاظ، آپ کے استدلال اور پیرایہِ اظہار کی ایک اپنی سی لذّت ہے۔ اس موضوع پر یہ کتاب الگ سے ایک پوری تجلّی ہے۔ یہ تجلّی اللہ سبحانہُ وتعالیٰ کی آپ کی طرف شفقت کا خاص مظہر ہے۔


یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے

یہ بڑے نصیب کی بات ہے


کے مصداق یہ ایک بڑا، بہت خاص اور قابل رشک نصیب ہے۔ ایسے نصیب پر مبارکباد!

(مجیب الحق حقی صاحب کی کتاب 'خدائی سرگوشیاں' پر ایک تبصرہ)

Comments

ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ اولیول سسٹم آف ایجوکیشن میں انگریزی مضمون کے استاد ہیں۔ بیکن ہاؤس، سٹی سکول ایسے متعدّد پرائیویٹ اداروں سے منسلک رہ چکے۔ ان دنوں پاک ترک انٹرنیشنل سکول، اسلام آباد کے کیمبرج سیکشن میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.