“لاہور نوکر شاہی “کے نام کھلا خط - محمد اظہارالحق

''لاہور نوکر شاہی'' سے مراد سول سروس کے ایک خاص گروپ کے وہ چند افراد ہیں جنہوں نے اپنا مستقبل ریاست کے بجائے ایک خاندان سے وابستہ کررکھا ہے۔

لاٹ صاحب!

تمہارے ساتھ سب سے بڑا المیہ یہ ہوا کہ تم تاخیر سے پیدا ہوئے ۔تمہیں خلجیوں ،لودھیوں ، تغلقوں یا مغلوں کے زمانے میں پیدا ہونا چاہیے تھا۔ تم درباری ہو مگر افسوس !صد افسوس! تم باضابطہ درباروں کے زمانے کو مِس کر بیٹھے ہو! تم ہمایوں کے زمانے میں ہوتے تو دن کو اس کے درمیان میں دست بستہ کھڑے رہتے ‘ سر شام اس کے جوتے صاف کرتے۔ پھر اس کے گھوڑے کو نہلاتے ۔مگر رات کے اندھیرے میں تم شیر شاہ سوری کے سیکرٹری سے درخواست کرتے کہ شیر شاہ سوری سے دس منٹ کی ملاقات کرادے۔ شیر شاہ سوری تخت نشیں ہوتا توتم اس کے دربار میں بھی دست بستہ کھڑے ،ملتے !پھر تم اکبر کے دربار میں شیر شاہ سوری کے خلاف کتاب لکھنے کی پیشکش کرتے اور اس کام کے لیے کمپنی بناتے! اور کمپنی کا حساب کتاب کبھی نہ ہونے دیتے

تم انگریزوں کے زمانے میں پیدا ہوئے ہوتے تو تمہارے ساتھ انگریز باس وہی سلوک کرتے جو جان نکلسن نے مہتاب سنگھ کے ساتھ کیا تھا ۔۔ہوسکتا ہے جان نکلسن کا نام تم نے سنا ہو مگر مہتاب سنکھ کے بارے میں تمہیں نہیں معلوم! اس لیے کہ پنجاب میں تعیناتی کے باوجود پنجاب کی تاریخ سے تم مکمل نابلد ہو! آخری کتاب تم نے شاید جنرل سائنس کی پڑھی تھی۔ وہ بھی سی ایس ایس کے لیے -صوبے کے حکمران اعلٰی کی اردل میں شامل ہونے کے بعد کتابیں پڑھنے کی ضرورت بھی کیا تھی! دربار کے ایک کونے میں کھڑا رہنے کی جگہ مل جائے تو نسلیں “سنورنے” کا امکان روشن ہوتا ہے۔ کتابیں پڑھنے سے کیا روشن ہوگا ؟ دماغ! دماغ تو تم نے نکلوا کر باہر پھینک دیا۔ جہاں دماغ تھا وہاں اب چیری بلاسم پالش کی ڈبیا اور جوتوں والا برش ہے!

جیسے ہی سی ایم ہاؤس پہنچے’ سامان نکالا اور کام شروع کردیا!

جعلی لاٹ صاحب بننے کے آرزو مند اے گروہِ دریوزہ گراں !

مہتاب سنگھ !رنجیب سنگھ کے زمانے میں بڑا فوجی افسر تھا !—-تھا وہ تمہاری قبیل کا ! جلد ہی برطانوی افسروں کا خدمت گار بن گیا کپور تھلہ کے راجہ کا قریبی عزیز ہونے کی وجہ سے خناس اس کے ذہن میں برتری کا کچھ زیادہ ہی تھا۔ نکلسن اپنا مشہور فوجی دستہ پنجاب سے دہلی لے جارہا تھا جہاں انگریزوں نے دہلی کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ جالندھر کا کمشنر ان دنوں ایڈورڈ لیک تھا۔ کمشنر نے گھر دعوت کی۔مہمانوں میں مہتاب سنگھ بھی شامل تھا۔ انگریز مہمانوں کی دیکھا دیکھی مہتاب سنگھ جوتوں سمیت اندر آیا۔ دعوت ختم ہوئی ‘مہمان رخصت ہونے لگے۔ جان نکلسن نے بلند آواز میں مہتاب سنگھ کو حکم دیا وہ بھی اردو میں !کہ جوتے اتارو اور انہیں ہاتھ میں پکڑ کر باہر جاؤ میں چاہتاہوں تمہارے نوکر تمہاری ذلت دیکھ سکیں ، “مہتاب سنگھ نے حکم کی تعمیل کی”!

انگریزی عہد میں تم نے افسر تو کیا لگنا تھا ‘کفش بردار ہی ہوتے۔ جو کچھ بنوں کے انگریز ڈپٹی کمشنر نے ایک قبائلی سردار کے ساتھ کیا تھا’ تمہارے ساتھ اس سے بھی بدتر سلوک ہوتا اور تم اسے بھی پی جاتے!ا س قبائلی سردار نے ڈپٹی کمشنر کے ساتھ ملاقات کے دوران زمین پر تھوک دیا !انگریز نے اپنے نوکر کو حکم دیا کہ تھوکنے والا اپنی تھوک چاٹے اور پھر باہر نکل جائے !ایسا ہی ہوا!

یہ بھی پڑھیں:   راوی کے کنارے سے صدا آئی ہے - سید مصعب غزنوی

قدرت نے تمہیں سنہری موقع دیا تھا کہ اس نے اعلی ترین امتحان میں تمہیں کامیابی دی!اب تمہارے لیے دو راستے تھے ۔ایک راستہ دیانتداری، اصول پسندی اور قانون پرستی کا تھا۔ تم اپنے قوت بازو کا سہارا لیتے ۔انصاف کرتے۔اپنی تقدیر کسی فرد یا خاندان سے وابستہ کرنے کے بجائے اس قدرت خداوندی سے وابستہ کرتے جس نے تمہیں کامیابی سے ہمکنار کیا تھا۔ تم میں سے اکثر ایسے عام خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو لوئر مڈل کلاس بلکہ لوئر کلاس سے ہیں ۔ تمہیں سب سے زیادہ اہمیت اپنی شہرت کو دینا چاہیے تھی۔ نیک نام بننے کو ترجیح دیتے۔ سفید کو سفید اور سیاہ کو سیاہ کہتے۔ فائل پر ضمیر کی آواز سن کر کچھ لکھتے۔تم پر ابتلا کا دور آتا ،مگر آخر کار تم کامیاب ہوتے ۔تم قوم کی خدمت کرتے ۔قوم تمہیں اچھے لفظوں میں یاد کرتی!

افسوس ! تم نے دوسراراستہ اختیار کیا تم نے فیصلہ کیا کہ اپنی تقدیر کسی بڑے آدمی سے وابستہ کرلو! تم نے کرلی! اب تمہارا قلم اپنا رہا نہ تمہاری زبان! دماغ اپنا رہا نہ دل! دل پر سیاہ دھبہ پھیلنے لگا یہاں تک کہ وہ سارے دل پر چھا گیا۔تم ریاست کے ملازم تھے’تم حکومت کے نوکر بن گئے۔ تم پبلک کے سرونٹ تھے۔تم ایک فرد’ایک کنبے ‘ایک خاندان کے سرونٹ بن گئے۔ تمہارا خواب ایک متواضع زندگی گزارنے کے بجائے اعلی ترین طبقے میں شمولیت بن گیا۔ تم نے کسی کو خوش کرنے کے لیے غلط کو درست کہا ۔پیلے کو ارغوانی اور دھانی کو سیاہ قرار دیا!تم نے اپنی لٹیا ڈبو دی۔ تم نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماردی! تم یہ بھول گئے کہ جو مال جس راستے سے آتا ہے اسی راستے سے چلا بھی جاتا ہے۔

جن سینئرز کو تم نے آئیڈیل بنایا تھاایک ان میں سے مکافات عمل کا شکار ہوگیا! اب تم میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ تم سب دوڑتے پھرتے ہو ،کبھی ادھر کبھی اُدھر۔ اسی کالم نگار کا شعر تم پر صادق آرہا ہے!

غلام بھاگتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر
محل پہ ٹوٹنے والا ہے آسماں جیسے

تم احتجاج کرنے کا پروگرام بنارہے ہو! تم قراردادیں پیش کر اور پاس کررہے ہو !تم چیف سیکرٹری کے پاس جاکر رورہے ہو کہ اب تمہارا اور تمہارے طائفے کا کیا بنے گا ؟مگر تم یہ بھول رہے ہو کہ ایسی کسی سرگرمی سے تم اپنی شہرت تبدیل نہیں کرسکتے تم پر جو چھاپ لگ گئی ہے وہ تمہاری ریٹائرمنٹ تک لگی رہے گی۔ تم اگر نوکری کرتے بھی رہے تو یہ اب نوکری ہی رہے گی۔ ریاست کی ملازمت نہیں ہوگی!

تمہارا ایک ساتھی گرفتار ہوا تو تم بھول گئے کہ تمہارے جیسوں کے احکام پر اس ملک کے لاکھوں عزت دار گرفتار ہوتے ہیں !تمہارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی! تمہاری کچہریوں کے باہر سائل ہفتوں مہینوں کھڑے رہتے ہیں ۔ تم صوبے کی کسی ایک کچہری ‘کسی ایک تحصیل کا نام بتاؤ جہاں رشوت کے بغیر کسی زمین’ کسی مکان’ کسی جائیداد کا انتقال ہوتا ہو۔ تمہاری کارکردگی صفر ہے!تم اپنے تحصیلدارو ں’پٹواریوں او ریڈروں کے سامنے ننگے ہو! تم میں سے اکثر کی آمدنی مشکوک ہے۔ تمہیں شرم آنی چاہیے کہ تم قانون کے خلاف احتجاج کرنے پر اتر آئے ہو! تم چاہتے ہو کہ تمہیں کھلی چھٹی مل جائے۔ تم قانون سے ماورا رہو! تو کیا تم زمین پر نہیں پیدا ہوئے،؟ تو کیا تم آسمان سے اترے ہو ؟

یہ بھی پڑھیں:   بوتل کے جن پر کون قابو پائے گا - خالد ایم خان

آج تمہیں یاد آگیا کہ سول سرونٹس کو آئینی تحفظ مہیا کیا جانا چاہیے۔ آج تم مطالبہ کررہے ہو کہ ایک سیٹ پر دو سال کی تعیناتی یقینی بنائی جائے ۔آج تم سیاسی سطح پر افسروں کی تضحیک ہو تو حکومت ایکشن لے۔ یہ تمہیں اس وقت نہ یاد آیا جب آفتاب چیمہ اور نیکوکارا جیسے افسروں کو ظلم کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔ تین سال نیکوکارا اپنی ایمانداری کی سزا بھگتتا رہا۔

اس وقت تم نے کوئی اجلاس نہ بلایا۔ تم نے کوئی احتجاج نہ کیا۔ آج تمہاری دم پر پاؤں آیا ہے تو تم کھڑے ہوگئے ہو بلبلا اٹھے ہو! تم اس وقت کہاں تھے جب ایک افسر کو دھمکی دی گئی تھی کہ فلاں ایم این اے کے ڈیرے پر جاکر کھانا کھاؤ ورنہ چلتے بنو! ااس نے کھانا کھانے سے انکار کردیا اور اسے وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ اس وقت تمہارے ہونٹوں پر ہیٹ پوش آقا کی نوکری مہر کی طرح ثبت رہی۔ تم نے اُف تک نہ کی۔تم نے چوں نہ کی! آج جب”کاسا” کمپنیاں اور بتیس بتیس کنال کی داستانیں منظر عام پر آئی ہیں تو تم سب کا ئیں کائیں کرکے اکٹھے ہوگئے ہو !کتنا گھناؤنا رویہ ہے تمہارا!

اپنی زندگی کا جو مقصد تم نے متعین کر رکھا ہے اسی سے تمہارے ذہن کی “بلندی” کا پتہ چل جاتا ہے۔ جی آر او کے ایک مکان سے اوپر تمہیں کچھ نظر نہیں آتا ۔

پھر ایک بیرون ملک پوسٹنگ ! تجوریاں بھر لینے کے مواقع۔، پھر ریٹائرمنٹ کے بعد دو تین چار سال کے لیے مزید کورنش بجا لانے کا امکان! یہ ہے تمہارے ذہن کی معراج! ان مقاصد کے حصول کے لیے تم اپنی سروس کے ماتھے پر بھی داغ کی صورت اختیار کرلیتے ہو زمین کے لیے بھی بوجھ بن جاتے ہو۔

تم اس ملک کے بیٹۓ نہیں !تم اپنی پست خواہشوں کے غلام ہو! تم کبھی پھل پھول نہیں سکتے۔ جس “کامیابی” کا راستہ تم نے چنا ہے وہ کامیابی نہیں ‘ناکامی ہے۔ جب تک اس ملک میں ایسے بیوروکریٹ موجود ہیں جو حکومتوں کے نہیں ‘ ریاست کے وفادار ہیں تب تک تمہارے گروہ’ جتنے بڑے ہوں ‘پرکاہ کی اہمیت نہیں کرکھتے۔ کاش تم نے ان دوبھائیوں کے بارے میں پڑھا ہوتا جن میں ایک تمہاری طرح بادشاہ کا خدمت گار تھا اور دوسرا اپنے قوت بازو پر بھروسہ کرتا تھا ایک دن خدمت گار دربان نے بھائی کو لعن طعن کی کہ بادشاہ کی غلامی کیوں اختیار نہیں کرتے تاکہ محنت و مشقت سے بچ جاؤ۔ بھائی نے جواب دیا تم اپنی محنت اور اپنے ضمیر پر بھروسہ کیوں نہیں کرتے تاکہ چاکری کی ذلت سے بچ جاؤ۔ اس لیے کہ چٹنی سے روٹی کھانا’سنہری پیٹی باندھنے اور ہاتھ باندھ کر کھڑے رہنے سے بہتر ہے۔ مسخرے حاکم کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے رہنے سے بہتر یہ ہے کہ انسان اپنے ہاتھوں چونا گوندھ لے۔ ہاتھ گل جائیں مگر عزت نفس سلامت رہے۔ دو روٹیاں کھانے والے کو کمر دوہری کرکے جھک کر سلام کرنا پڑتا ہے ۔جو ایک روٹی پر قناعت کرتا ہے’وہ جھکتا نہیں !تن کر سیدھا کھڑا ہوتا ہے۔