بھوپال کی شہزادی کے اسباق زندگی - ابویحیی

متحدہ ہندوستان پر جب انگریزوں کا قبضہ تھا، اُس وقت یہاں 563 شاہی ریاستیں موجود تھیں ۔ ان میں سے ریاست بھوپال خوشحال اور اہم ترین ریاستوں میں سے ایک ریاست تھی۔ اس ریاست کے آخری حکمران نواب حمید اللہ خان کی صاحبزادی اور ریاست کی ولی عہد شہزادی عابدہ سلطان (1913-2002) کی خود نوشت سوانح حیات "Memories of a Rebel Princess" کے نام سے شائع ہوئی ہے۔

یہ کتاب ہر اعتبار سے ایک بہت دلچسپ اور سبق آموز کتاب ہے۔ شہزادی عابدہ سلطان ایک غیر معمولی شخصیت کی مالک تھیں۔ ان کی دادی سلطان جہاں بیگم جو بھوپال کی مسلسل چوتھی اور آخری خاتون حکمران تھیں، انھوں نے شہزادی کی تربیت بہت غیر معمولی انداز میں کی تھی۔ انگریز ہندوستان سے رخصت نہیں ہوتے اور شاہی ریاستیں پاکستان و ہندوستان میں ضم نہیں ہوتیں تو یقینا شہزادی اپنے والد نواب حمید اللہ کے بعد پانچویں خاتون حکمران بن کر نمایاں ہوتیں۔

شہزادی پولو، کرکٹ اور اسکواش کی بہترین کھلاڑی، گھوڑے بازی کی ماہر اور بےمثل شکاری تھیں جنھوں نے اپنی زندگی میں 73 شیر مارے۔ 1941ء میں انھوں نے اُس وقت جہاز اڑ انے کی تربیت اور لائسنس لیا جب لوگ عام گاڑی چلانا بھی نہیں جانتے تھے۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی ہندوستان کی پہلی خاتون تھیں۔ آزادی کے وقت عابدہ سلطان بھوپال کی عیش و عشرت کی زندگی کو چھوڑ کر اپنے بیٹے شہریار محمد خان کے ہمراہ (جو بعد میں پاکستان کے سیکریٹری خارجہ بنے ) پاکستان منتقل ہوگئیں۔

شہزادی کے حالات زندگی میں انفرادی اور اجتماعی پہلوؤں سے بڑ ے اسباق پائے جاتے ہیں۔ ہم اختصار کے پیش نظر ان میں سے دو اسباق کو بیان کریں گے۔ ایک کا تعلق انفرادی معاملات سے ہے اور دوسرے کا اجتماعی معاملات سے۔

شہزادی عابدہ کی داستانِ حیات کے ابتدائی اوراق اس صورتحال کا بھرپور احاطہ کرتے ہیں جب مسلم اشرافیہ کا واسطہ انگریزی تہذیب سے پڑا اور وہ لوگ اس کے رنگ میں رنگتے چلے گئے۔ شہزادی کی تربیت چونکہ ان کی دادی نے اپنی نگرانی میں خود کی تھی اور ان کی مذہبی تعلیم کا اہتمام کیا تھا، اس لیے وہ تمام تر آزادی کے باوجود ایک مذہبی خاتون ہی رہیں ۔ ان کے اپنے الفاظ میں ’’اسلام کی عقیدت اور عزت مجھ میں بچپن سے ٹھونک ٹھونک کر رچا دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ میں اپنے آپ کو ایک ایسی مؤمن جانتی تھی جس کا ایمان قرآن کریم اور حدیث کے گہرے فہم پر قائم تھا۔‘‘، (صفحہ 298)

نوجوانی کے ابتدائی دور میں جب وہ اپنے اہل خاندان کے ہمراہ یورپ گئیں، تب بھی وہ تفریح اور کھیل میں تو آگے رہیں لیکن اپنے اہل خانہ کے برعکس رقص و سرور کی محفلوں اور اس نوعیت کی دیگر چیزوں میں انہوں نے زیادہ دلچسپی نہیں لی۔ ان کے اپنے الفاظ میں ان کے خاندان کے دیگر افراد اور بہنوں کا معاملہ ایسا نہ رہا اور ان کے اپنے الفاظ میں ’’مجھے کبھی بال روم رقص میں دلچسپی نہیں ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مجھے کسی مرد کے بازوؤں میں گھرا رہنا قطعی پسند نہیں تھا۔‘‘ (صفحہ78)۔ تاہم ان کی بہنوں کا معاملہ مختلف تھا اور اب صورتحال یہ ہے کہ سیف علی خان اور سوہا علی خان جیسے انڈین اداکار انھی کی بہن کی اولاد میں سے ہیں۔

مغربی تہذیب سے جو چیلنج بیسویں صدی کے آغاز پر مسلم اشرافیہ کودرپیش تھا، وہی آج مسلم عوام کو اکیسویں صدی کے آغاز پر انفارمیشن ایج میں درپیش ہے۔ آج بھی اس چیلنج میں وہی لوگ سرخرو ہوں گے جو اولاد کی تربیت کو اپنا مسئلہ بنالیں۔ وہ جدیدیت کے مخالف نہ ہوں، لیکن اپنی تہذیب، مذہب اور اقدار کی آبیاری اپنے بچوں کے دل و دماغ میں کرتے رہیں۔ یہی وہ لوگ ہوں گے جن کی اولادیں ہر یلغار کے مقابلے میں سرخرو ہوں گی۔

شہزادی کی زندگی کا سب سے بڑا سبق غالباً پاکستان کے حوالے سے ان کے تجربات ہیں۔ شہزادی بہت قربانیاں دے کر پاکستان آئی تھیں۔ مگر یہاں آ کر جو معاملات سامنے آئے وہ انتہائی حوصلہ شکن تھے۔ ایک طرف متروکہ املاک کی تقسیم کے معاملے میں بدترین کرپشن کے معاملات سامنے آئے تو دوسری طرف مفاد پرست اور بے اصول سیاسی قیادت نے ان کے اپنے الفاظ میں ملک کو شرافت، اخلاقی اقدار اور اسلام کا قبرستان بنادیا، (صفحہ297)۔ رہی سہی کسر اس فکری قیادت نے پوری کر دی جس نے لوگوں کی تعلیم و تربیت، ان کی اخلاقی اصلاح اور دین میں تحقیق کے بجائے حکمرانوں سے محاذ آرائی، دین کے بالجبر نفاذ اور فرقہ واریت کی راہ اختیار کر کے ملک کو تباہی کے راستے پر زیادہ دور تک دھکیل دیا۔ اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آنے والی یہ شہزادی اپنی زندگی کی آخری دو دہائیوں یعنی 80 اور 90 کے عشروں میں جنھیں وہ زوال کے دو عشرے قراردیتی ہیں، قومی انحطاط کا مشاہدہ کرتے ہوئے 11 مئی 2002ء کو دنیا سے رخصت ہوگئیں۔

آج ایک عشرہ مزید گزرنے کے بعد بھی پاکستان کی صورتحال کچھ بہتر نہیں ہے۔ ہمارا اصل مسئلہ ہمارا اخلاقی زوال ہے جو ہر شعبۂ زندگی کے رگ و پے میں اترگیا ہے۔ ہمارے نزدیک اس مسئلے کا کوئی شارٹ ٹرم حل نہیں ہے۔ یہ مسئلہ صرف اُس وقت حل ہوگا جب ہم میں سے ہر شخص اپنی ذمہ داری کو پہچانے۔ ہم یہ حقیقت سمجھ لیں کہ دنیا و آخرت میں ہماری نجات اخلاقی بہتری پر موقوف ہے۔ ہمارا ہر فرد اپنے دائرے میں ایک بہترین اخلاقی انسان بن جائے۔ ہم اپنے تعصبات اور مفادات سے بلند ہوکر سچی خداپرستی اور انسان دوستی کو اپنا مسئلہ بنالیں۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہمارے حالات جلد یا بدیر بہتری کی طرف گامزن ہوجائیں گے۔

Comments

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ معرول ناول ”جب زندگی شروع ہوگی“ کے مصنف ہیں۔ علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز جبکہ سوشل سائنسز میں ایم فل کیا۔ ٹیلی وژن پروگرام، اخباری مضامین، پبلک اجتماعات کے ذریعے دعوت و اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ ماہنامہ "انذار" کے مدیر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.