رکن یمانی، ایک عجیب راز - ثناء اللہ خان احسن

رکن یمانی خانہ کعبہ کا جنوبی کونہ ہے۔ ایک کونہ رکن شامی، ایک رکن عراقی اور ایک رکن حجر اسود ہے۔ حجر اسود کی طرح رکن یمانی کا استلام مستحبات طواف میں سے ہے۔ تاہم رکن یمانی کی حد تک استلام سے مراد یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے یا صرف دائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے رکن یمانی کو مس کرے۔ اور جب ہجوم کی وجہ سے اس کو مس کرنے سے عاجز ہو تو اشارہ سے اس کا استلام کیا جائے۔

جب 1996ء میں خانہ کعبہ کی جب آخری بار جدید مشینری اور آلات سے تعمیر ہوئی تو اس کی تعمیر میں اچھا پتھر اور اعلیٰ میٹریل استعمال ہوا۔ لیکن خانہ کعبہ کے جنوبی کونے کی دیوار جسے رکن یمانی کہا جاتا ہے، میں ایک خاصا بڑا کریک ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ کونہ باوجود مرمت کے بار بار پھٹ جاتا ہے اور اس کی مرمت ہوتی رہتی ہے۔ مرمت میں دیوار کے میٹریل سے ہٹ کر دیگر میٹریل استعمال کیا گیا ہے اور اسے سٹیل کی بڑی بڑی کیلوں اور سیمنٹ وغیرہ سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ خانہ کعبہ کی مکمل طریقے سے تعمیر و تزئین کی گئی تو یقینا'' رکن یمانی کی بھی کی گئی ہوگی، تو کیا وجہ ہے کہ یہاں کونے میں چوڑی دراڑیں پڑ گئیں۔ اور اگر پڑ گئی تھیں تو ان کو پاٹ کر دوبارہ باقی تمام کونوں کی طرح سیاہ پتھر سے کیوں نہ پاٹا گیا، اس جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں بھی خانہ کعبہ کا کونہ ٹوٹ گیا اور اس کی درست انداز میں مرمت بھی نہیں ہو سکی۔

جب یوٹیوب پر میں نے خانہ کعبہ کی ویڈیوز دیکھی جن میں رکن یمانی کی بھی ویڈیوز شامل ہیں، تو ان میں بھی رکن یمانی میں کریک نظر آتے ہیں۔ دیوار وہاں سے ٹوٹی ہوئی ہے، جہاں بڑی بڑی کیلوں سے آپس میں کونے کو جوڑا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دیوار کا یہ جوڑ کچھ ہی عرصے بعد جوڑنے کے بعد پھر ٹوٹ جاتا ہے جس کی پھر مرمت کر دی جاتی ہے۔ اللہ کے گھر کے اس کونے میں آخر کیا ایسی بات پوشیدہ ہے کہ ''لاکھ بار چھپانے سے بھی نہیں چھپتی''۔ میں نے تاریخ کا مطالعہ جاری رکھا تو پتا چلا کہ رکن یمانی سے متعلق تواریخ میں اور بھی بہت سی باتیں درج ہیں۔
رکن یمانی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ یہ جنت کا دروازہ ہے۔ (رکن یمانی اور حجر اسود دونوں جنت کے دروازے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رکن یمانی پر دو فرشتے ہیں جو وہاں سے گزرنے والے کی دعا پر آمین کہتے ہیں۔ (حالانکہ بظاہر خانہ کعبہ کے اس کونے پر کسی بھی دور میں کوئی دروازہ نہیں رہا)۔
رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول کے مطابق اگر رکن یمانی جنت کا دروازہ ہے تو پھر یہ بات ٹھیک ہے کہ دروازے کو کون بند کر سکتا ہے؟ رکن یمانی کی جب بھی (بند) مرمت کی گئی تو اس میں کریک آ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خانہ کعبہ اور فریضہ حج کا معاشی پہلو - ڈاکٹرساجد خاکوانی

رکن یمانی سے متعلق ایک اور اہم واقعہ ہجرت نبوی سے 23برس قبل کا ہے۔ عباس بن عبدالمطلب کا کہنا ہے کہ بروز جمعہ بمطابق13 رجب، 30عام الفیل کو ''میں اور بریدہ بن قعنب بنی ہاشم و بنی عبد العزی کے دیگر افراد کے ساتھ خانہ کعبہ کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک فاطمہ بنت اسد خانہ کعبہ کے (رکن یمانی) کی طرف آئیں۔ وہ نو مہینے کی حاملہ تھیں اور انھیں درد زہ اٹھ رہا تھا۔ وہ خانہ کعبہ کے برابر میں کھڑی ہوئیں اور آسمان کی طرف رخ کرکے کہاکہ ''اے اللہ! میں تجھ پر، تیرے نبیوں پر اور تیری طرف سے نازل ہونے والی تمام کتابوں پر ایمان رکھتی ہوں۔ میں اپنے جد ابراہیم علیہ السلام کے کلام کی اور اس بات کی تصدیق کرتی ہوں کہ اس گھر کی بنیاد انھوں نے رکھی۔ بس اس گھر، اس کے معمار اور اس بچے کے واسطے سے جو میرے شکم میں ہے اور مجھ سے باتیں کرتا ہے، جو کلام کے ذریعے میرا انیس ہے اور جس کے بارے میں مجھے یقین ہے کہ یہ تیری نشانیوں میں سے ایک ہے، اس کی پیدائش کو میرے لئے آسان فرما''۔

عباس بن عبد المطلب اور بریدہ بن قعنب کہتے ہیں کہ '' جب فاطمہ بنت اسد نے یہ دعا کی تو خانہ کعبہ کی پشت کی دیوار پھٹی اور فاطمہ بنت اسد اندر داخل ہوکر ہماری نظروں سے غائب ہوگئیں اور دیوار پھر سے آپس میں مل گئی۔ ہم نے کعبہ کے دروازے کو کھولنے کی کوشش کی تاکہ ہماری کچھ عورتیں ان کے پاس جاسکیں، لیکن در کعبہ نہ کھل سکا۔ اس وقت ہم نے سمجھ لیا کہ یہ امر الہی ہے۔ فاطمہ تین دن تک خانہ کعبہ میں رہیں۔ یہ بات اتنی مشہور ہوئی کہ مکہ کے تمام مرد و زن کئی دنوں تک گلی کوچوں میں ہر جگہ اسی بارے میں بات چیت کرتے نظر آتے تھے۔'' (کتابوں میں یہ صراحت کے ساتھ ملتا ہے کہ پشت کعبہ وہ مقام ہے جو رکن یمانی کہلاتا ہے)

پانچویں صدی کے سنّی عالم ابن مغازلی اپنی کتاب میں زیدہ بنت قریبہ بن عجلان قبیلہ بنی ساعدہ سے روایت کرتے ہیں کہ 13 رجب، 30عام الفیل کو میری ماں امّ عمارہ بنت عبادہ بن نضلہ بن مالک بن العجلان صحن کعبہ میں کچھ عرب عورتوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی کہ ابوطالب غمگین حالت میں ان کے پاس سے گزرے تو میری ماں نے ان سے پوچھا کہ اے ابوطالب! آپ کے کیا حال ہیں؟ ابوطالب نے مجھ سے کہا کہ فاطمہ بنت اسد درد زہ سے تڑپ رہی ہیں۔ یہ کہہ کر انھوں نے اپنا ہاتھ ماتھے پر رکھا ہی تھا کہ اچانک محمد (صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم ) وہاں پر تشریف لائے اور پوچھا کہ چچا آپ کے کیا حال ہیں؟ ابوطالب نے جواب دیا کہ فاطمہ بنت اسد درد زہ سے پریشان ہیں۔ پیغمبر نے ابوطالب کا ہاتھ پکڑا اور فاطمہ بنت اسد کی طرف گئے اور پھر دونوں کا ہاتھ پکڑ کر کعبہ میں چلے گئے اور ایک کونے میں لیجا کر فاطمہ بنت اسد کو بٹھا دیا۔ امّ عمارہ کہتی ہے کہ تھوڑی دیر بعد فاطمہ بنت اسد نے ا یک ناف بریدہ بچے کو جنم دیا۔ ابوطالب نے اس بچے کا نام علی رکھا اور پیغمبر اسلام انھیں گھر لے کر آئے''۔
تواریخ میں صراحت کے ساتھ یہ درج ہے کہ کعبہ کی یہ جائے پیدائش رکن یمانی کا اندرونی حصہ تھا کہ جہاں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ بنت اسد کو لیجا کر بٹھایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   خانہ کعبہ اور فریضہ حج کا معاشی پہلو - ڈاکٹرساجد خاکوانی

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی کتاب ”ازالۃ الخفاء“ حافظ گنجی شافعی نے اپنی کتاب ”کفاء الطالب“ علامہ امینی نے اپنی کتاب ”الغدیر“ ابن مغازلی نے اپنی کتاب مناقب، اور علامہ ابن جوزی جنفی، ابن مغازلی شافعی، حافظ شمس الدین ذہبی، آلوسی بغدادی اور دیگر نے اپنی کتب میں واضح طور پر تحریرکیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام بروز جمعہ تیرہ رجب تیس عام الفیل کو وسط کعبہ میں فاطمہ بنت اسد کے بطن سے پیدا ہوئے، اور آپ کے علاوہ نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد کوئی خانہ کعبہ میں پیدا ہوا۔ یہ شرف صرف مولود کعبہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو ہی حاصل ہے۔
دوسری طرف مورخین اور علما کا ایک گروپ اس واقعہ کی صحت سے انکار کرتا ہے۔ * نہج البلاغہ کے شارح علامہ ابن ابی الحدید اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ سیدنا علی علیہ السلام کی جائے پیدائش کے بارے میں اختلاف ہے، تاہم محدثین کرام نے علی ؓ کے مولود کعبہ کو تسلیم نہیں کیا ہے، اور اس روایت کو محض جھوٹ و اختراع قرار دیا ہے، ان کا خیال ہے کہ کعبہ میں جن کی ولادت ہوئی وہ حکیم بن حزام بن خولد ہیں۔ یہاں ہمارا موضوع یہ بحث نہیں کہ کون مولود کعبہ ہے۔ یہ ایک الگ طویل بحث اور ہمارا موضوع نہیں ہے۔ لیکن رکن یمانی کی دراڑیں ایک ایسا راز ہیں جو شاید تا قیامت ایک راز ہی رہے۔