ایک نشہ ہے نواز شریف - یوسف سراج

آندھی کی زد میں آئے چراغ کی طرح ڈوب رہا ہے یا سپرنگ کی طرح زیادہ طاقت سے ابھرنے کو سمٹ رہا ہے ، بہرحال نواز شریف آج پاکستانی سیاست میں مرکزِ نگاہ ہے۔ عدالت میں نواز شریف ہے تو سیاست میں نواز شریف ،جلسے میں نواز شریف ہے تو صحافت میں نواز شریف۔ حکومت میں نواز شریف ہے تو احتجاج میں نواز شریف ۔کیا حامی اور کیا مخالف ہر ایک کی زبان پر یہی ایک نام ہے۔ ن لیگ ، مریم نواز اور یہاں تک کہ خود نواز شریف کے لبوں اور لفظوں میں بھی یہی دو لفظ ہیں ، نواز شریف ۔ خاکسار کا بڑا بیٹا اسید پانچ سال کا ہے ،اس دن وہ نیوز بلیٹن دیکھتے وہ ساتھ بیٹھا تھا ۔ میاں صاحب کسی جلسے سے مخاطب، کہہ رہے تھے، نواز شریف نے یہ کیا، نواز شریف یہ کرے گا،کئی بار انھوں نے دہرایا، نواز شریف ، نواز شریف۔ محویت سے سنتا بچہ معصومیت سے کہنے لگا، بابا! یہ نواز شریف خود کو خود ہی نواز شریف کیوں کہتا ہے؟ غیر متوقع سوال تھا، بے اختیار لبوں پر ہنسی تیر گئی۔ حیرت سے سوچا، ایک بچہ جس چیز کو نوٹ کرتا ہے، میاں صاحب وہ بات کیوں محسوس نہیں کرتے۔ بہرحال پارٹی کا ترانہ بھی یہی ہے ، ہم سب کے دلوں کی دھڑکن ہے ، نواز شریف۔ پچھلے دنوں تو روا روی میں ایک محترمہ نے یہ بھی فرما دیا کہ ایک نشہ ہے نواز شریف ! بہرحال نواز شریف کا نام پارٹی کے نام میں بھی ہے اور پارٹی ورکر اور مخالف ہر ایک کی زبان پر بھی۔

آج حبِ نواز اور نفرتِ نواز ہر دو میں ایک سی شدت اور ایک سی گونج ہے۔ حامیوں اور مخالفوں کے اپنے اپنے دلائل ہیں۔ حامیوں کے مطابق نواز شریف نے ملک کے لئے جتنا کچھ کر دکھایا، وہ قابلِ تعریف ہے۔ ان کے مطابق نواز شریف نے موٹر وے بنائی ،میٹرو چلائی۔لوڈ شیڈنگ کم کی ،معیشت کا پہیہ رواں کیا۔نئے منصوبے آغاز کیے۔ کراچی کو امن دیا۔سڑکیں اور پل بنوائے۔ کچھ عرصے سے بلوچستان میں پاکستانی پرچم لہرانے کو ڈنڈا میسر نہ آتا تھا، میاں صاحب نے جھنڈے کو وہ ڈنڈا دیا۔ بظاہر شریف خانوادہ وضعدار بھی ہے۔ اس میں مشرقیت کی جھلک ہے۔ القصہ دستیاب بازارِ سیاست میں ملک اور قوم کے لیے وہ سب سے بہترین نہیں بھی تو سب سے بد ترین بھی نہیں۔ادھر مخالفین کے مطابق نواز شریف میدانِ سیاست کے ایک کار گر صنعت کار کا نام ہے۔ جو سیاسی منڈی کے بھاؤ اور اتار چڑھاؤ بخوبی جانتا ہے۔ اس نے سسٹم کے اندر ایک سسٹم تخلیق فرما لیا ہے۔اس نے بیوروکریسی میں اپنے وفاداروں اور سیاست میں الیکٹ ایبلز کی ایک ناقابلِ تسخیر فوج جمع کر لی ہے ،نواز شریف کا تیار کردہ یہ گروہ ایسا ہے کہ جو ملکی مفاد کا دفاع کرے نہ کرے ، اس خانوادے کے مفاد کا تحفظ ضرور کرتا ہے۔ ان کے مطابق میاں صاحب نرگسیت کا شکار بھی ہیں، میاں صاحب کے نزدیک جمہوریت اپنے اور اپنے خاندان کے نام کا ڈنکا بجانے کا نام ہے۔ ان کے مطابق میاں صاحب کے نزدیک واحد میرٹ خاندان سے وفاداری اور واحد اصول اپنے اقتدار کا تحفظ ہے۔ اول الذکر میرٹ کے تحت مریم نواز کی سینئر سیاستدانوں پر ترجیح کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ میاں صاحب کی بیٹی ہے، ثانی الذکر کے تحت جن طاقتوں کو جلسہ میں جمہوریت دشمن گردان کے کوسا جاتا ہے، کچھ حرج نہیں کہ اقتدار کی راہ صاف اور سیدھی کرنے کے لیے بذریعہ برادر، شب کی تاریکی میں ان سے بارہ چودہ ملاقاتیں بھی کر لی جائیں۔ میاں صاحب کے حامیوں اور مخالفوں کی بھی کئی قسمیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بوجھ - سعدیہ قریشی

حامیوں میں ظاہر ہے، سب سے پہلے خود ان کا خاندان اور وہ فوج ظفر موج ہے جو اسی خاطر تیار کی گئی اور جو ہمارے ہاں ہر پارٹی کے گرد جمع ہو جاتی ہے۔پھر وہ سیاست دان ہیں ، اصول و نظرئیے اور حصولِ اقتدار میں جو خالصتا سیاستدان واقع ہوئے ہیں۔ پھر وہ لوگ ہیں، صدقِ دل سے جو سمجھتے ہیں کہ میاں دور میں کچھ نہ کچھ کام ہوتے نظر آتے ہیں۔ ان کے لیے یہی کافی ہے کہ میاں صاحب کم از کم زرداری نہیں۔ پھر وہ مذہبی طاقتیں ہیں، جن کے نزدیک میاں صاحب دیگر کی نسبت زیادہ مذہبی ہیں، وہ جالی دار ٹوپی پہن کے مسجدِ نبوی میں اعتکاف بھی کرتے ہیں اور ان کی نمازِ عید وغیرہ پڑھنے کی تصویریں بھی اخبارات اور سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہتی ہیں۔ نواز شریف کے حامیوں میں اس وقت وہ لوگ بھی ہیں، بھارت کے ساتھ جنگ کے بجائے جوصلح چاہتے ہیں۔ کیا حسنِ اتفاق ہے کہ میاں صاحب کی ذات میں کئی طرح کی باہم متضاد حمایت جمع ہو گئی ہے، ایک طرف مذہبی لوگ ان کی مذہبی شرافت اور مشرقی وضعداری سے قائل ہو کر حامی ہیں تو دوسری طرف لبرل اور سیکولر نظام کو پسند کرنے والوں نے بھی میاں صاحب کا علم اٹھا رکھا ہے۔ ایک طبقہ وہ ہے، عالمی ایجنڈے یا مقامی وجوہات کی بنا پر جو فوج کے یا فوج کے بعض کاموں کے خلاف ہے۔ یہ جتھہ بھی میاں صاحب کے ہمرکاب صف آرا ہے۔ ایک طبقہ وہ ہے جو سمجھتا ہے کہ حالیہ کشمکش میں میاں صاحب کے ساتھ عدل کے پردے میں نا انصافی ہو رہی ہے ، یہ مظلوم کی حمایت میں میاں کے ساتھ ہے۔ مخالفین میں بھی کئی رنگ جمع ہیں۔ پہلی صف کے مخالف تو ظاہر ہے مخالف دھڑوں کے سیاستدان اور ان کے متعلقات ہی ہیں۔ البتہ ایک بڑا طبقہ وہ بھی ہے،جو فوج سے ٹکرانے اور عدلیہ کو نشانہ بنانے کے باعث اپنی حب الوطنی میں میاں صاحب کو غلطی پر سمجھ رہا ہے۔ ایک طبقہ وہ ہے جو میاں صاحب کی غیر معتدل بھارت نوازی کے باعث میاں صاحب سے متنفر ہے ،ایک طبقہ وہ ہے کہ کسی بھی صورت میں جس کے مفاد پر کبھی زد پڑ چکی ہے۔ یہ زد سیاسی بھی ہو سکتی ہے، مذہبی بھی ، سماجی بھی اور ذاتی بھی۔

یہ بھی پڑھیں:   جمہوریت اور جمہوری حقوق - حبیب الرحمٰن

اہلِ صحافت میں ایک طبقہ وہ بھی ہے جو اس فرسودہ نظام سے بری طرح اکتا چکا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ میٹرو ٹرین اور سٹرکوں پلوں کے بجائے ضرورت اب اس انسانیت کش سسٹم کو بدل ڈالنے کی ہے۔ میاں صاحب کے ہوتے جو ہر گز نہیں بدلا جا سکتا، چنانچہ کچھ بھی ہو ، میاں صاحب کو بہرحال اب رخصت ہو جانا چاہئے۔ ان کے اپنے دلائل ہیں۔ وہ اس بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں کہ راگ جمہوریت کا الاپا جائے ، قوم پر مسلط البتہ شہنشاہیت کر دی جائے۔ ان کا خیال ہے کہ اس ’بوجھ‘ سے نجات کے لیے کچھ غیر اخلاقی اور غیر قانونی بھی ہو جاتا ہے تو گوارا کر لینا چاہئے۔ کچھ لوگ دیانت داری سے یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ انصاف دراصل انتقام ہے، ان کے پاس اس کے دلائل اور شواہد ہیں۔ ایک طبقہ وہ ہے کہ جو سمجھتا ہے کہ میاں صاحب میں کمیاں ہیں مگر ان کے خیال میں کمیاں دور کرنے کا طریقہ نیچرل بھی ہونا چاہئے اور سب پر یکساں لاگو بھی ہونا چاہئے۔ بہرحال سمجھنے کی بات یہ ہے، کہ یہ سب لوگ پاکستانی ہیں اور ان کے اپنے اپنے نظریئے اور دلائل ہیں۔ میری گزارش یہ ہے کہ دلائل کی بنیاد پر بات کرنے والے سبھی پاکستانیوں کو ہمیں قبول کر لینا چاہئے۔ ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے الگ الگ دماغ دے رکھا ہے اور اپنے دماغ سے ہر آدمی الگ سوچنے پر فطری طور پر مجبور ہے، چنانچہ سوائے ان کے کہ جن کی مفاد پرستی کسی بھی دھڑے میں ضرب المثل ہو چکی، باقی سب کے متعلق ہمیں بدگمانی سے بچنا چاہئے۔ محبت یا مخالفت میں ہمیں کبھی یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہر شخص نہ مفاد پرست ہوتا ہے اور نہ غدار اور نہ آلۂ کار۔ صبر ، احترام اور دلیل ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ہم اپنی منقسم قوم کو مزید تقسیم ہونے، اپنے اخلاق کا کریا کرم ہونے اور ملک کا مزید نقصان ہونے سے بچا سکتے ہیں۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں