احد چیمہ کی گرفتاری کے پیچھے کیا کہانی پوشیدہ ہے؟ محمد عامر خاکوانی

احد چیمہ کے حوالے سے نیب نے جوالزامات عائد کئے ہیں، ان کی بنیاد پر ایک دلچسپ سٹوری سامنے آئی ہے ، یہ الزامات چونکہ ابھی ثابت نہیں ہوئے، اس لئے ہم اسے مبینہ کہانی کہہ سکتے ہیں، عدالت سے یہ اگر ثابت ہوگے، تب ان کی حیثیت مستند کی ہوجائے گی۔

یہ کہانی میبنہ طور پرآشیانہ اقبال نامی سکیم سے شروع ہوئی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اپنے پچھلے دور حکومت میں کم آمدنی والے افراد کے لئے کم قیمت پر ذاتی گھر لینے کی غرض سے آشیانہ سکیمیں شروع کیں۔ آشیانہ قائداعظم ون اور ٹو مکمل ہو چکی ہیں، انکے گھر بھی الاٹ کئے جا چکے ہیں۔ آشیانہ اقبال سکیم اس سلسلے کی تیسری کڑی ہے۔ پنجاب حکومت نے اور بہت سی کمپنیوں کی طرح اس قسم کے پراجیکٹ کے لئے پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی بنا رکھی ہے، احد چیمہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی یعنی ایل ڈی اے کے چیئرمین اور پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے ڈائریکٹر تھے۔ آج کل احد چیمہ پاورکے حوالے سے بنائی گئی کمپنی کے سربراہ ہیں۔

آشیانہ اقبال تین ہزار کینال پر مشتمل سکیم ہے، آشیانہ قائداعظم ون اور ٹو ایک معروف کمپنی نے بنائے اور وہ پراجیکٹ کامیاب رہے، حیران کن طور پر آشیانہ اقبال سکیم کے لئے اس تجربہ کار اور اچھی شہرت والی کمپنی کو ٹھیکہ نہیں دیا گیا۔ یہ ٹھیکہ پیراگون سوسائٹی کی ایک ذیلی یا سب سڈری کمپنی کاسا کو دیا گیا۔ کاسا سی فور کیٹیگری کی کمپنی تھی ، جو پندرہ بیس کروڑ سے زیادہ بڑا ٹھیکہ لینے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی تھی۔ اس کمپنی کو مگر چودہ ارب روپے کا آشیانہ اقبال پراجیکٹ سونپ دیا گیا۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ پیراگون سوسائٹی مسلم لیگ ن کے معروف رہنما اور وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کی ملکیت تصور ہوتی ہے ۔ اصول یہ طے ہوا کہ ایک ہزار کنال پر کنسٹرکشن کی جائے گی اور دو ہزار کنال اس کے معاوضے کے طور پر کاسا کو دئیے جائیں گے۔ کاسا پچھلے آٹھ دس برسوں کے دوران پراجیکٹ مکمل نہیں کر سکا اور قومی خزانے کے اربوں روپے ڈوبے تصور کئے جا سکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آشیانہ قائداعظم بنانے والی کمپنی نے کاسا کو آشیانہ اقبال کا ٹھیکہ سونپے جانے کا فیصلہ چیلنج کیا اور فیصلہ ان کے حق میں ہوگیا، مگر پنجاب حکومت نے ٹھیکہ انہیں دینے کے بجائے انہیں پچاس یا ساٹھ لاکھ کے قریب جرمانہ ادا کر دیا اور ٹھیکہ بدستور کاسا کے پاس رہا۔

نیب نے آشیانہ اقبال سکیم کی تحقیقات شروع کیں تو ان کے علم میں آ گیا کہ اول تو ٹھیکہ غلط طور پر ایک ناتجربہ کار اور کم اہلیت رکھنے والی کمپنی کو دیا گیا، حالانکہ اسی آشیانہ سکیم کے دو پراجیکٹ مکمل کرنے والی کمپنی ٹھیکہ لینا چاہ رہی تھی، دوسرا انکشاف پہلے سے بھی زیادہ حیران کن ہے۔ مبینہ طور پر نیب کے علم میں آیا کہ احد چیمہ نے اس سکیم میں بتیس کنال زمین بھی حاصل کی ہے۔ بتیس کنال کی زمین کے لئے سوا تین کروڑ کے قریب رقم ادا کی گئی۔ اس رقم کے حساب سے بھی یہ زمین بہت سستی تھی، مگر مزید ستم ظریفی یہ ہوئی کہ احد چیمہ نے صرف پچیس لاکھ روپے ادا کئے اور باقی تین کروڑ رقم پیراگون سوسائٹی کے بینک اکائونٹ سے ادا کئے گئے۔ یعنی مبینہ طور پر پیراگون ہی کی زیلی کمپنی کاسا بتیس کنال زمین احد چیمہ کو بیچنے والی اوراس کے لئے تین کروڑ اسی پیراگون سوسائٹی کے اکائونٹ سے ادا کئے گئے ۔ رشوت دینے کی ایسی بھونڈی مثال کم ہی ملے گی۔ شائد احد چیمہ اینڈ کمپنی کو یقین تھا کہ تاحیات اس ملک پر شریف خاندان ہی مسلط رہے گا اور ان کے تمام تر گھپلے محفوظ رہیں گے، کبھی سامنے نہیں آ سکیں گے۔
نیب نے احد چیمہ کو جب بلایا اور ان سے تحقیق کی کہ کاسا ڈویلپرز کو ٹھیکہ کیوں دیا گیا، حالانکہ وہ سی فور کمپنی ہے اور اتنا بڑا ٹھیکہ ہینڈل کرنے کی استعداد ہی نہیں رکھتی۔ ایک بار پھر مبینہ طور پر چیمہ صاحب نے وزیراعلیٰ کی طرف اشارہ کیا کہ ان کی جانب سے اثر ورسوخ استعمال کیا گیا۔ اس حوالے سے ایک اہم خط بھی نیب کو دے دیا گیا۔

وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کو بھی اسی حوالے سے تفتیس کے لئے بلایا گیا کہ ان پر بھی الزام ہے کہ اس ٹھیکے کے لئے کہا تھا۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف صاحب کو جب نیب نے بلایا تو وہ شروع کا آدھا گھنٹہ آشیانہ قائداعظم کے گیت گاتے رہے، آخر نیب نے انہیں کہا کہ جناب اعلیٰ آپ کو آشیانہ اقبال کے لئے بلایا ہے، آشیانہ قائداعظم کا تو ہم نے نام ہی نہیں لیا۔ جب انہیں کہا گیا کہ آپ نے وہ ٹھیکہ کاسا کو دینے کا خط لکھا تھا تو مبینہ طور پر خادم اعلیٰ سٹپٹائے، بعد میں جب ان کے علم میں اایا کہ یہ کام ان کے منظور نظر بیوروکریٹ نے کیا ہے تو پھر تو کہتے ہیں کہ انکے چہرے کا یہ حال تھا کہ کاٹو تو لہو نہیں۔ اس کے بعد ہی رات بھر میٹنگز چلتی رہیں جن میں میبنہ طور پر یہ فیصلہ ہوا کہ احد چیمہ کو ملک سے باہر بھیج دیا جائے ۔ اسی لئے نیب نے اگلی صبح چیمہ صاحب کو حراست میں لے لیا۔ یہی وہ گرفتاری ہے جس پر جمعہ کے دن پنجاب کی اعلیٰ بیوروکریسی احتجاج کرتی رہے اور سول سیکرٹریٹ پر تالے لگا دئیے گئے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا احتجاج ہے اور یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس کی سرپرستی کہاں سے ہو رہی ہے۔

اس کہانی سے یہ اندازہ لگانا بھی دشوار نہیں کہ نیب آخر احد چیمہ کو اتنے قوی شواہد کے ہوتے ہوئے بھی گرفتار کیوں نہ کرتی؟ بیوروکریسی کا احتجاج البتہ سمجھ میں آتا ہے کہ انہیں پھندا اپنی گردنوں کے گرد تنگ ہوتا لگ رہا ہے۔ کہنے والے تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ احد چیمہ کے خلاف آشیانہ والا معاملہ صرف آئس برک کا معمولی حصہ ہے، اور بہت سی کہانیاں، غیر ملکی اکائونٹس کے معاملات کی بھی چھان بین ہو رہی ہے ۔

نوٹ: یہ وہ کہانی ہے جس کا بیشتر حصہ اخبارات میں شائع ہوچکے اور ٹی وی پر نشر ہو چکے ہیں، میں نے انہیں جوڑ کر ترتیب دی دیا ہے، تاہم یہ ایک سائیڈ کا موقف ہے، اگر کوئی ن لیگی قلمکار یا ن لیگی سوشل میڈیا آرمی کا کوئی کمانڈر اپنی طرف کا سچ بیان کرنا چاہیے تو ہم اسے بھی پیش کر سکتے ہیں۔

.............................

آج کل پنجاب کی حکومت اور وزیراعلیٰ پنجاب کے منظور نظر بیوروکریٹس کی کرپشن کے حوالے سے نت نئی خبریں باہر آ رہی ہیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو احد چیمہ کی گرفتاری کا دفاع کر رہے ہیں یا جن کے خیال میں بیوروکریٹس پر ہاتھ نہں ڈالنا چاہیے ۔ پنجاب حکومت نے جس طرح کرپشن کی اور اپنے منظور نظر افراد کو نوازا، اس کی ایک اور مثال ملاحظہ فرمائے۔

پنجاب میں پچاس سے زائد خودمختار کمپنیاں قائم کی گئی ہیں، پچھلے کئی برسوں سے وہ کام کر رہی ہیں۔ ان کی تشکیل کی وجہ کبھی سمجھ نہیں آئی۔ آپ خود سوچیں کہ جب ایل ڈی اے یعنی لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی موجود ہے تو پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی بنانےکی کیا ضرورت اور تک تھی کہ ترقیاتی منصوبے تو شہباز شریف نے صرف لاہور ہی میں چلانے تھے، یہاں زمینوں کی ڈویلپمنٹ کے لئے ایل ڈی اے پہلے سے موجود ہے۔ اسی طرح واسا کے ہوتے ہوئے صاف پانی کی کیا ضرورت ہے۔ دیگر محکموں کا بھی یہی حال ہے۔
ایک ن لیگی صحافی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کسی کو اختیار دینے کو تیار ہی نہیں، بلدیاتی ادارے بننے والے ہیں تو اسی لئے میئر کے اختیار سے بلدیاتی حکومت کے تمام اختیارات نکالنا مقصود ہے، اس لئے صفائی، صاف پانی، زمینوں کی ڈویلپمنٹ وغیرہ ہر اہم محکمہ بلدیہ سے نکال کر الگ سے کمپنی بنا دی ہے۔ اس دلیل میں وزن تھا، اس لئے یہ بات مان لی۔ بعد میں ان کمپنوں سے اربوں کی کرپشن کی خبریں باہر آئیں تو معلوم ہوا کہ معاملہ خاصا گہرا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کا نوٹس لیا اور ان کمپنوں کی تفصیل مانگی تو حیران کن باتیں سامنے آنے لگیں۔

اگلے روز ایک سینئر صحافی نے اس معاملے کی تفصیل کھول کر سمجھائی۔ بتایا کہ پرائیویٹ خودمختار کمپنی بنا کر انہیں ایس ای سی پی کے پاس رجسٹرڈ کرایا گیا، اس کے دو بڑے فائدے ہوئے ، ایک تو یہ کمپناں اڈیٹر جنرل آف پاکستان کے دائرہ کار سے نکل گئیں، جس کا کام رقوم کا ایڈٹ کرنا ہے۔ دوسرا پیپرا رولز ان پر عملدرآمد نہیں ہوتے۔ جیسے پیپرا رولز کے مطابق دس کروڑ کا کنٹریکٹ دینے سے پہلے بھی نیب کو بتانا ضروری ہے تاکہ ٹرانسپرینسی برقرار رہے۔ ان کمپینوں پر ایسی کوئی پابندی نہیں۔ قوانین کے مطابق اگر کوئی سرکاری ملازم ڈیپوٹیشن پر کہیں جائے تو وہ بیس فیصد اضافی تنخواہ سے زیادہ کا حق دار نہیں ہوتا۔ وزیراعلیٰ کی بنائی ہوئی ان کمپنیوں میں زیادہ تر افسران پنجاب کے سرکاری ملازم ہیں جو اپنی اصل تنخواہ سےپندرہ بیس گنا زیادہ تنخواہ لے رہے ہیں۔ جیسے مبینہ طور پراحد چیمہ کے ایف بی آر کے گوشواروں کے مطابق بیس لاکھ ماہانہ تنخواہ تھی، یعنی سالانہ دو کروڑ چالیس لاکھ روپے۔ بطور سرکاری ملازم ان کی تںخواہ لاکھ سوا لاکھ ہی بننی تھی۔ اب اندازہ کریں کہ ایک بیوروکریٹ ڈھائی کروڑ سال کا تو ویسے تنخواہ میں کما لے اور باقی اللے تللے الگ ، وہ شریف خاندان کا غلام نہ بنے تو کیا کرے۔

ایک آئی ٹی کمپنی میں ایک سابق چیف سیکرٹری کےصاحبزادے سولہ لاکھ روپے تنخواہ لے رہے ہیں۔ ایک اور لڑکی کے بارے میں علم ہوا کہ سترہ گریڈ میں ہے، تنخواہ پچاس ہزار بننی تھی، ڈیپوٹیشن کے بیس فیصد اضافی لگا کر اسے ستر ہزار کے قریب ملتے، ان کمپنیوں میں سے ایک میں کام کر کے وہ گیارہ لاکھ روپے ماہانہ لے رہی ہے۔

مہاتما صورت کے، حبیب جالب کے انقلابی شعر پڑھنے والے خادم اعلیٰ سے کوئی نہیں پوچھ سکتا کہ یہ کیا تماشا چلتا رہا۔ اٹھارہ ، انیس گریڈ کے من پسند افسروں کو ان سپیشل گریڈ پر ان کمپنیوں میں کیوں لگایا ؟ ان سے کیا کام لینا مقصود تھا؟ کوئی اعتراض کرو تو ہمارے ن لیگی دوست شکوے شکایتیں شروع کر دیتے ہیں کہ ظلم ہو رہا ہے، جمہوریت اور آمریت کی جنگ ہے وغیرہ وغیرہ۔ یارو ان سوالات کا بھی جواب دو؟

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.