لفظوں کی جنگ - خواجہ مظہر صدیقی

کسی نے سچ کہا ہے کہ انسان مضبوط اتنا ہے کہ چاہے تو پہاڑوں کا سینہ چیر کے رکھ دے اور کمزور اتنا ہے کہ لہجوں اور لفظوں سے ہی ٹوٹ جاتا ہے۔ قومی منظر نامے کو ملاحظہ فرمائیں تو اس وقت ملک میں بیانات کی جنگ جاری ہے۔ الفاظ کے میزائل برسائے جا رہے ہیں۔ لفظوں کی ایسی گولہ باری پہلے کبھی دیکھی اور سنی نہ تھی۔ عزت اور وقار کی دھجیاں بکھیرنے میں کوئی کسی سے پیچھے نہیں۔ کیا سیاسی رہنما اور کیا انتظامی عہدوں پر براجمان عہدے داران، سبھی الفاظ اور الزامات کی بوچھاڑ میں مصروف عمل ہیں۔ کسی کو دوسرے کے مرتبے کا خیال نہ عزت و آبرو کا تقدس۔ الفاظ کی جنگ ذاتی لڑائی میں بدلتی نظر آ رہی ہے۔ اس جنگ میں ایسے ایسے الفاظ سننے کو مل رہے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ الزامات کے شور و غلغلہ میں انتہائی غلیظ زبان استعمال ہو رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے رہنما بیچ عوام کے گالیوں کی بوچھاڑ سے بھی گریز نہیں کر رہے۔ ایک طوفان بدتمیزی ہے جو برپا ہے۔ عدالت عظمی کے چیف جسٹس کے لیے اول فول بکا جا رہا ہے۔ ایسے ایسے القابات سننے کو مل رہے ہیں کہ جنہیں سن کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر جو جو الفاظ اپنے سیاسی مخالفین کے لیے بولے جارہے ہیں۔ وہ اس جانب اشارہ ہیں کہ مستقبل میں سیاسی مخالفت گالی گلوچ اور غلیظ ترین الزامات کی صورت میں ہی آشکار ہو گی اور انہی بنیادوں پر سیاسی فضا پروان چڑھے گی۔ اپنے مخالفین کے لیے جو زیادہ مکروہ اور غلیظ الفاظ استعمال کرے گا۔ وہی اس میدان کا فاتح ہوگا۔

اللہ نے جب انسان کو بیان کی صلاحیت دی تو بندۂ خدا نے قوت گویائی سے کام لینا شروع کر دیا۔ اس نے پیدائش کے تھوڑے عرصے بعد بولنا شروع کر دیا۔ اس نے ابتدا چھوٹے چھوٹے لفظوں سے کی۔ شروع میں ہکلایا،گھبرایا، خوف کا شکار ہوا اور پھر تیزی اور طراری سے بولنے لگا۔ رفتہ رفتہ وہ اپنا مافی الضمیر بھی بیان کرنا سیکھ گیا۔ اب ایک انسان جب بولتا ہے، تقریر کرتا ہے تو اسے ہزاروں لاکھوں افراد سنتے ہیں اور اس کی اچھی باتوں پر سر دھنتے ہیں۔ اسے داد دیتے ہیں۔ اس کے کہے پر عمل بھی کرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ اچھی اور سچی باتیں کرتا ہے۔ ان باتوں میں تعصب اور نفرت نہیں ہوتی۔ احترام اور محبت میں گندھے الفاظ ہوتے ہیں، جن کی تاثیر کام دکھاتی ہے۔ انہیں دوسروں کا محبوب اور ہر دل عزیز بناتی ہے۔ ان کے الفاظ کا چناؤ بہت اچھا اور منفرد ہوتا ہے۔ ان کے الفاظ کا سحر سامع کے دل و دماغ کو جکڑ لیتا ہے، ایسا انداز بیاں دل کو مجبور کرتا ہے کہ بات سنی جائے اور کانوں کے رستے دل میں بسائی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   بےتکلف گفتگو ضروری ہوتی ہے۔-میاں جمشید

بولنا اور بات کرنا اچھی بات ہے۔ لیکن یہ سلیقہ سیکھنے میں بہت وقت لگتا ہے کہ کب بولنا ہے؟ اور کیا بولنا ہے؟۔ لفظ تو زبان سے ادا ہونے کو بے تاب رہتے ہیں کہ ان الفاظ سے جملے بنائے جائیں یا انہیں برتا جائے۔ لیکن آپ کو یہ ماننا پڑے گا کہ اچھے، دل کش، دل چسپ اور خوب صورت الفاظ کی تسبیح کو پرونا ہر ایک کے بس میں نہیں ہوتا۔ اس فن سے آٹے میں نمک کے برابر لوگ آشنا ہیں۔ اچھے،جادوئی اور میٹھے الفاظ کوشش کے باوجود ہر ایک کی زبان پر نہیں آتے۔ کڑوے اور کسیلے الفاظ تو بہت سوں کی پہچان بنتے ہیں۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ الفاظ کے دانت نہیں ہوتے مگر یہ کاٹتے بھی ہیں۔ ان کا زہر بھی خطرناک ہوتا ہے۔ یہی الفاظ کسی کی جان لے لیتے ہیں اور قتل و غارت گری کا سبب بھی بنتے ہیں۔ یہی الفاظ کہیں مرہم اور علاج بنتے ہیں۔ تو کہیں امید اور زندگی بھی۔۔۔

میں نے دیکھا ہے کہ اکثر لوگ بے محل اور بے موقع نا مناسب الفاظ اور جملوں کا سہارا لیتے ہیں۔ الل ٹپ بولتے اور نان سٹاپ بولنے پر رسوا ہوتے، شرمندگی اور نقصان اٹھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ غلط ملط بول کر اپنا امیج اور شخصیت خراب کرتے،اور ساتھ ہی دوسروں کی سمع خراشی کا سبب بھی بنتے ہیں۔

یاد رکھیں کہ "پہلے تولو پھر بولو" جیسے قول زریں کو اپنی ذات کا خاصا بنانا نہ صرف شخصیت کو متوازن بناتا ہے بلکہ ہمیں کو دوسروں کے درمیان انفرادیت بھی بخشتا ہے۔ جب ہم سوچ سمجھ کر موقع محل کی مناسبت سے بولنا سیکھ جاتے ہیں تو اس باوصف ہماری فکری صلاحیتوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔ ہمارا ہر لفظ وعمل حالات سے مطابقت و موافقت اختیار کرتا چلا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ عمر و تجربہ بھی بڑھتا ہے۔ سو انسان کی گفتگو زندگی کے مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے اس کی سوچوں کی عکاس رہتی ہے۔ سوچ کا انداز مثبت ہوگا تو انسان کا ہر قول و عمل خیر پر مبنی ہوگا۔ تبھی بھلائی کی اشاعت کی جا سکے گی اور برائی کے تدارک کی کوشش قول و فعل سے عملی طور پر ظاہر ہو گی۔ الغرض بر محل گفتگو کا فن سیکھنے کے لیے صورت حال کے درست و بروقت ادراک کے ساتھ مثبت سوچ و افکار کو موقع کی مناسبت سے ذخیرۂ الفاظ کے ذریعے استعمال میں لانا شامل ہیں۔ بصارت و بصیرت پر دسترس رکھ کر ہی فن گفت گو میں ملکہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ ذخیرۂ الفاظ کو بروئے کار لانا لازم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بےتکلف گفتگو ضروری ہوتی ہے۔-میاں جمشید

ہمارے ہاں کے بعض لوگ بھی عجیب ہیں۔ جن کے سامنے خاموش رہیں تو وہ معترض ہوتے اور کہتے ہیں کہ کچھ تو بولو۔ پہلے اصرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بولو، جب ہم بولنے لگیں تو پھر چپ رہنے اور خاموش رہنے کی نصیحت کرتے ہیں۔ اب آپ ہی بتائیے کہ ایسوں کے سامنے بولنے سے چپ رہنا بھلا بہتر نہیں۔۔۔؟ آئیے کہ بولنے سے پہلے سوچ سمجھ کر بولنے کو اپنی عادت بنانے کی کوشش کا آغاز کرتے ہیں۔ کیوں کہ زبان ایک تالا ہے جب یہ تالا کھلتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اندر کیا رکھا تھا۔ یاد رکھیں کہ بولتے ہوئے صرف الفاظ ہی ہمارا تعارف بنتے ہیں، کہ ہم کس گھر اور خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لیے لفظوں کے عمدہ انتخاب سے ہم کسی کے دل میں اتر سکتے ہیں یا کسی کے دل سے اتر سکتے ہیں۔

Comments

خواجہ مظہر صدیقی

خواجہ مظہر صدیقی

خواجہ مظہر صدیقی بچوں کے ادیب، کالم نگار، تربیت کار و کمپیئر ہیں۔ تین کتابیں بعنوان نئی راہ، دھرتی ماں اور بلندی کا سفر، شائع ہو چکی ہیں۔ تجارت پیشہ ہیں، ملتان سے تعلق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.