بچوں پر بستوں کا بوجھ - محمد اسماعیل ولی

ایک زمانہ تھا جب دنیا میں کتابوں کا وجود نہیں تھا لیکن علم کا وجود ضرور تھا۔ لکھنے کا ہنر بھی تھا۔ شاید لکڑی کی تختی اور "پر" یا گھاس کا بنا قلم اس ہنر کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ کتابیں چھاپنے کا آغاز گٹن برگ کی ایجاد سے ہوا اور کتابیں کاروباری بنیادوں پر چھپنے لگیں۔ پھر کیا تھا؟ کتابیں چھاپنے کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا اور کتابیں اور تعلیم ایک دوسرے کے لیے ناگزیر بن گئںں۔ آج صورت حال یہ ہے کہ کتابوں کا وزن اسکول جانے والے بچے یا بچی کے وزن سے زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن کسی بالغ نے یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ کیا یہ معصوموں کے حقوق پر ڈاکہ ہے کہ نہیں؟ اس بوجھ کا اثر ان کی پیٹھ اور ریڑھ کی ہڈی پر پڑے گا۔ مغرب میں اس پر تحقیق شروع ہے۔ ہم اس وقت ہوش میں آئیں گے، جب مستقبل کے معمار پیٹھ کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوں گے۔ ہم انسانی صحت کو "تعلیم" پر ترجیح دیتے ہیں حالانکہ صحت بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور صحت کے مقابلے میں تعلیم کی کوئی حیثیت ہے ہی نہیں۔ یعنی پہلے جان پھر جہان۔ لیکن ہم نے "جہاں" ہر حال میں فتح کرنے اور ہر بچے کو سکندر اعظم بنانے کا تہیہ کیا ہوا ہے، اس ہوس کا نتیجہ یہ ہے۔ کہ ہم نے معصوم بچوں اور بچیوں پر "بستوں" کی صورت میں جو بوجھ ڈالا ہے۔ وہ ظلم ہے، نا انصافی ہے، بنیادی انسانی حقوق کی خلاق ورزی ہے اور جہالت ہے۔

اس بات کا تعین کرنے کی ذمہ داری ہڈیوں کے ماہر پر ہے کہ مختلف عمروں کے بچے اور بچیاں کتنا وزن اٹھا سکتے ہیں؟ اس کے بعد سکولوں کو اس بات کا پابند بنانا چاہیے کہ وہ مقررہ وزن زیادہ بوجھ معصوموں پر نہ ڈال سکیں۔ حقوق انسان والوں کوبچوں سے جسمانی مشقت لینے کا غم ہے۔ فنڈ لینے اور مغربی مربیوں کو خوش کرنے کے لیے شور مچاتے رہتے ہیں۔ لیکن بستے کی صورت میں جو بوجھ سکول جانے والے بچوں اور بچیوں پر ڈالا جاتا ہے، اس پر نہ کوئی بات کرتا ہے، نہ کوئی میڈیا والا اس "بوجھ" کی تصاویر کی تشہیر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سوال۔جواب۔ نثار موسیٰ

اب سوال یہ ہے کہ کیا اس بوجھ کے بغیر تعلیم دی جاسکتی ہے؟ بحیثیت استاد میرا جواب یہ ہے کہ بالکل دی جاسکتی ہے۔ استاد کو تربیت دینے کی ضرورت ہے، اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پہلی سہ ماہی میں بچوں کو کیا پڑھانا چاہیے؟ اسی طرح سال کا نصاب تیار کرکے استاد کو دینا چاہیے اور استاد اس نصاب کے مطابق بچوں کو زبان، حساب اور اخلاق میں تعلیم فراہم کرے۔ بصری اور سمعی آلات استعمال کرے۔ زور اس بات پر ہو کہ زبان کی تعلیم کتاب کے بغیر دی جائے۔ لکھنے کا فن سکھانے کے لیے ایک ہی کاپی استعمال کی جائے۔ اخلاق سکھانے کے لیے بھی کتاب پر انحصار کم سے کم کیا جائے۔ سائنس کو ماحول میں موجود اشیا کی مدد سے سکھانے کی کوشش کی جائے۔ کتابوں کا استعمال چھٹی جماعت سے شروع کرنے کا بندوبست کیا جائے۔

اصل مسئلہ کیا ہے؟ دراصل تعلیم ایک صنعت بن گئی ہے، ایک ایسی صنعت جو ڈگریاں بانٹتی ہے لیکن علم و ہنر فراہم نہیں کرتی۔ بلکہ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ سکولوں اور پبلشرز کے درمیاں کسی "معاہدے" کے تحت یہ سب کچھ ہوتا ہے اور کتابوں کا بوجھ بچوں پر ڈالا جاتا ہے۔ بستے ہمارے دور میں بھی تھے لیکن اب بستوں کا الگ کاروبار ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ میڈیا والے "علم کے بوجھ تلے" راستے میں جاتے ہوئے بچوں اور بچیوں کی تصاویر نکال کر ماہرین تعلیم اور ماہرین صحت کو دکھائیں۔ کیا یہ مہارت ہے یا کتابوں کے بغیر بھی مہارتیں سکھائی جا سکتی ہیں؟

Comments

Avatar

اسماعیل ولی

بالائی چترال سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اسماعیل ولی کی ایم-اے سے لے کر پی ایچ ڈی تک تمام ڈگریاں انگریزی زبان و ادب میں ہے۔ ان کا تحقیقی مقالہ ولیم شیکسپیئر کے ایک طربیے پر ہے جبکہ ایم فل مقالہ میتھیو آرنلڈ کی شاعری پر تھا۔ سرکاری ملازمت سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز، پشاور میں درس و تدریس کر رہے ہیں۔ اسلام، فلسفہ، مغربی ثقافت، نفسیات اور تصوف کا مطالعہ رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بہت اعلی سر لیکن اس طرح کے بہت سے کالم میرے نظر سے گزرے اور لکھنے کے حد تک محدود رہے۔
    عمل نہیں یوتا سر جی