میرا عظیم قائد ثانی - خرم علی راؤ

ارے بھائی غضب ہوگیا۔ یہ کیا کردیا اعلیٰ عدلیہ نے؟ قائد اعظم ثانی کو پہلے وزارت عظمیٰ سے اور پھر پارٹی کی صدارت سے نا اہل کر دیا؟ افوہ، یار یہ کوئی بات ہے، اب کیا ہوگا؟ ایسا عظیم لیڈر، جس نے رشوت و سفارش کے کلچر میں ایک انقلاب برپا کر دیا، جس نے خرید لو یا ہٹادو کی ایک ایسی زبر دست حکمت عملی سے اس جاہل قوم کو روشناس کرایا جو کامیابی کے تمام دروازےچوپٹ کھول دیتی ہے۔ جس نے بہادری کے ایسے جوہر دکھائے کہ وطن عزیز کو آمر کے رحم و کرم پر چھوڑ کر بمع ساز و سامان دو جہازوں میں جدہ چلا گیا کہ وہ تو خیر مجبوری تھی کیا کیا جاتا، مگر پھر وہاں بیٹھ کر آمریت کے خلاف ایک طویل اور لاثانی جد و جہد کی، جب بھی یہاں اس کے وفادار دار و رسن کے مہیب اندھیروں میں الجھے تو ہمارے قائد ثانی نے رو رو کر دعائیں کییں اور خوب اپنے ورکروں کا حوصلہ بڑھایا۔ نہ صرف حوصلہ بڑھایا بلکہ واپس آتے ہی اور طاقت ملتے ہی ایسے تمام کارکنان کو طویل آرام پر بھیج دیا کہ اب آپ آرام سے اللہ اللہ کرو، تسبیح سنبھالو ، دھندا میں سنبھالتا ہوں، اور ایسا قول و قرار کا پابند لیڈر، جس نے دس سالہ معاہدے کی پھرپور پاسداری کی، وہ تو برا ہو بد خواہوں کا جنہوں نے بیچ میں اکسا کردوبارہ پکستان بھیج دیا تھا ورنہ قائد ثانی تو دس سال سے پہلے آنے کو قطعا تیار نہیں تھے۔

فنون لطیفہ کا دلدادہ، موسیقی اور گلوکاراؤں کا دلدادہ، دلیپ کمار کی اداری کا عاشق ہمارا عطیم قائد آجکل اپنے محبوب اداکار کی ٹریجڈی فلمیں عملا ملک میں چلا کر اور دلپ صاحب سے پہتر ٹریجڈی اداکاری کر کے دکھا رہا ہے۔ وہ تو اچھا ہوا کہ ہمارے ممدوح کو عملا اداکاری کرنے اور فلموں میں کام کرنے کا شوق نہیں تھا ورنہ قائد ثانی اگر فلموں میں چلے جاتے تو ٹریجڈی کنگ کا خطاب مجال ہے جو دلیپ صاحب کو مل پاتا۔ ہمارا قائد ثانی جس نے ملک کو ایٹمی طاقت بنانے کا کریڈٹ کئی دوسرے عظیم قائدین کی طرح فورا لیا اور آج تک لے رہا ہے، گو حاسدین نے تو خوامخواہ افواہ اڑائی تھی کہ قائد دھماکوں پر تیار نہ تھے کہ انڈیا سے اور امریکا سے دیرینہ تعلقات کا ہر وضع دار انسان کی طرح انہیں بھی بہت خیال تھا، "خیال خاطرِ احباب چاہیے ہر دم، انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو" مگر کچھ صحافیوں اور دیگران کے سمجھانے بجھانے پر بہ جبر و اکراہ اس کار عبث پر تیار ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   جج ویڈیو کیس کی سماعت، آج کمرہِ عدالت میں کیا ہوا؟

آپ کو عدلیہ نے عملی سیاست سے تو نکال دیا ہے مگر لوگوں کے دلوں اور انگوٹھوں سے کیسے نکالے گی؟ جی، آپ کو کیا پتہ، ہمارے قائد کئی پتے اپنی آستین میں چپھا کر رکھتے ہیں؟ وہ ایسا پتہ کھلیں گے کہ بازی ہی پلٹ جائے گی۔ میرا عظیم قائد دو تہائی سے زیادہ اکثریت لے کر پھر آئے گا اور اپنی اکثریت کے بل بوتے پر ایسے تمام قوانین کو آئین سے نکال پھینکے گا جو شرفا کی پریشانی کا سبب بنتے ہیں۔ قائد نے حال ہی میں ارشاد فرمایا ہے کہ جب وہ آئیں گے تو کشمیر آزاد ہوجائے گا۔ سوئس بینکوں میں پڑیولوٹی ہوئی کالی دولت فورا واپس آجائے گی، بے روزگاری، مہنگائی، بدامنی صرف قصہ کہانیوں میں رہ جائے گی۔ پڑوسی ملکوں سے تعلقات اتنے اچھے ہوجائیں گے کہ انڈیا پاکستان اور افغانستان ایک وسیع کنفڈریشن پر غور شروع کر دیں گے اور یہ بے کار سی سرحدی لکیریں ڈیورند لائن وغیرہ(جو میرے قائد کو ویسے بھی ایک آنکھ نہیں بھاتیں) ختم کرنے کےلیے سوچ بچار شروع ہوجائے گی تاکہ بے کار کی سرحدی ٹینشن ختم ہوں اور دفاع کے بھاری اخراجات پر خرچ ہونے والا پیسہ ترقیاتی کاموں میں لگے اور عوام کی زندگی میں بہتری ہی بہتری آتی جائے۔ ۔ دیکھا میرے قائد ثانی کتنی دور کی سوچتے ہیں۔ ۔ قائد ثانی بمع ہمنوا زندہ باد...روک سکو تو روک لو...!