دنیا نہیں مردان جفاکش کے لیے تنگ - بنت طاہر قریشی

سن تیرہ نبوی چل رہا ہے، مہاجر صحابہ کرام ؓ کے قافلے جوق در جوق یثرب پہنچ رہے ہیں۔ میزبان انصار صحابہ ؓ دیدہ دل فرش راہ کئے ہوئے ہیں، انصار اور مہاجرین کے درمیان رشتہ اخوت "قائم کر دیا گیا ہے،انصار صحابہ ؓ محبت و قربانی کی لازوال داستانیں رقم کئے جارہے ہیں۔

انہی میں ایک انصاری صحابی ؓ بھی ہیں جو جذبہ اخوت اور محبت میں اتنے سرشار ہیں کہ اپنے جن مہاجر بھائیوں سے "مواخاۃ" کے بندھن میں بندھے ہیں، ان کو اپنا نصف مال تو پیش کر ہی رہے ہیں، مزید یہ بھی درخواست کررہے ہیں کہ "میری دو بیویاں ہیں، آپ کو ان میں سے جو اپنے لیے مناسب لگتی ہیں، بتادیجیے میں اس کو طلاق دے دیتا ہوں تاکہ آپ اس سے نکاح کرسکیں"

قربان جائیے اس انصاری صحابی کے جذبہ ایثار پر اور مہاجر صحابی کے استغنا اور توکل علی اللہ پر جو جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:

"میرے بھائی! یہ مال و دولت اور آپ کی شریک حیات آپ کو مبارک ہو، آپ بس مجھے دو درہم ادھار دیدیں اور مجھے بازار کا راستہ بتادیجیے"

بازار کا علم ہونے کے بعد وہ دو درہم لے کر بازار چلے گئے اور شام کو جب لوٹے تو پنیر اور گھی منافع کی صورت میں ساتھ تھا۔مستغنی طبعیت، اولو العزمی اور توکل الا اللہ کی برکت سے جلد ہی مالدار تاجروں میں آپ کا شمار ہونے لگا یہاں تک کہ کے قریش کے سب سے امیر ترین تاجر بن گئے اس دولت کو آخری سانس تک اللہ کی راہ میں دونوں ہاتھوں سے لٹاتے رہے۔یہ عظیم مہاجر صحابی حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ تھے، جو عشرہ مبشرہ صحابہ میں بھی شامل ہیں۔

اگر ہم "شارٹ کٹس کے شیدائیوں" کو ایسے مفت کی دولت ملتی تو کیا ہم لاکھوں کی دولت اور عیش و آرام کی زندگی چھوڑ کر بازار میں محنت مزدوری کرنا پسند کرتے؟

یقیناً نہیں، کیونکہ بحیثیت مجموعی ہمارا حال تو "مال مفت، دل بے رحم "والا ہے۔

ہم محنت، مزدوری کو عار سمجھتے ہیں، ہم پیشوں کو حلال اور حرام کے تناظر میں نہیں بلکہ عزت، ذلت کے پلڑے میں رکھ کر تولتے ہیں۔ہماری نظر میں دن بھر لوگوں کے جوتے صاف کرکے حلال رزق کمانے والا ذلیل اور حقیر جبکہ سود کی حرام کمائی سے گلچھڑے اڑانے والا نہایت ہی معزز اور قابل تکریم انسان ہے۔

ہمارے نوجوانوں کا المیہ یہ ہے کہ ان کو چودہ، سولہ جماعتیں پڑھ کر "باعزت نوکری" کی تلاش میں سالوں در در کی ٹھوکرے کھانا تو منظور ہے مگر اپنے زور بازو پر بھروسہ کرکے چھوٹے پیمانے پر"باعزت کاروبار" شروع کرنا منظور نہیں۔

یہ نوجوان بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں میں نوکری کو زندگی کی سب سے بڑی کامیابی گردانتے ہیں مگر سرتوڑ محنت کرکے خود کوئی چھوٹے کاروبار یا کمپنی کی بنیاد رکھنا پسند نہیں کرتے جو مستقبل میں ان بڑی بڑی کمپنیوں کے مدمقابل کھڑی ہوسکے۔

ایک مشہور انگریز بزنس مین کا قول ہے:

"یونیورسٹی میں جو طلباء پڑھائی میں مجھ سے کہیں آگے تھے آج میں ان کا باس ہوں اور وہ میرے ایمپلائیز"

"ہارلینڈ ڈیونڈ سینڈرز " پوری دنیا میں معروف فوڈ چین کے مالک ہیں، انہوں نے اپنے کیرئیر کی ابتداء برگر کا ٹھیلا لگا کر کی۔"ولیم کولگیٹ" ایک کسان کے بیٹے تھے، انہوں نے اپنے ہی نام پر ایک کمپنی کی بنیاد ڈالی اور آج وہ کمپنی "کولگیٹ پام اولیو" کے نام سے جانی جاتی ہے، جس کے پوری دنیا میں کم ازکم 200 ذیلی ادارے ہیں۔

غیروں کی مثال چھوڑیے، اپنے ہی ملک کے ایک محنتی انسان کی کہانی سنیے:

1996 میں ایک چھوٹے سے آفس اور دو ساتھیوں کے ساتھ اپنے کیرئیر کی ابتداء کرنے والے "سلیم غوری" آج پاکستان کی سب سے بڑی آئی ٹی کمپنی NetSol کے CEO ہیں۔ انتھک محنت کی بنا پر انہوں نے اس کمپنی کو CMMI لیول 5 تک پہنچایا اور بین الاقوامی معیار کا ایسا سافٹ ویئر بنایا جس کی بنا پر سلیم غوری سافٹ ویئر کی بین الاقومی دنیا میں ایک بااعتماد نام اور پاکستان کے "آئی ٹی ٹائیکون" بن گئے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کے نشیب وفراز کے واقعات پر ایک کتاب "کچھ نہیں سے سب کچھ" تحریر کی، جو ان تمام نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے جو کچھ کر دکھانے کا عزم رکھتے ہیں۔

کچھ "بننا" چاہتے ہیں تو کچھ "کرنا" پڑے گا، صرف خواب دیکھ لینے سے تعبیریں نہیں مل جایا کرتیں، تعبیروں کو پانے کے لیے انتھک محنت کرنا پڑتی ہے۔اپنا عیش آرام تیاگنا پڑتا ہے، کل کے سکھ کو پانے کے لیے آج کا چین قربان کرنا پڑتا ہے تبھی کامیابی قدم چوما کرتی ہے۔

بہادر شاہ ظفر فرماتے ہیں:

محنت سے ہے عظمت کہ زمانے میں نگیں کو

بے کاوش سینہ نہ کبھی ناموری دی

بغیر محنت کے کامیابی اور ناموری کا حصول شیخ چلی کا خیالی پلاؤ ہی تو ہوا کرتا ہے۔

لہٰذا نو جوان انتھک محنت کو شعار بنائیں۔

ٹیگز