بس تھوڑا بے ایمان ہو جاؤں - خالد ایم خان

بس تھوڑا سا… پھر کعبہ میں جا کر زم زم سے نہا لیں گے، پاک وصاف ہو جائیں گے، سب گناہ بخشوا لیں گے، یہ حال ہے ہمارے آج کے چلتے زمانے میں آج کے ہر انسان کا بشمول بقلم خود۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ انسان کو سب سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے، اپنے اندر کی گندگی صاف کرنی چاہیے اور پھر اپنے اردگرد نگاہ دوڑانی چاہیے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے ہاں ایک عجیب رسم چل پڑی ہے کہ جہاں کے لوگوں میں اب رسم وفا ناپید ہو چلی ہے، بے وفائی اور بے ایمانی عام ہو چلی ہے، حرص اور لالچ اس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔ جیسے ہی ہم دنیا کی رنگینیوں کو اپنے اوپر حاوی کرتے ہیں، دنیاوی آسائشوں کے دلدادہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ دنیاوی عزت و شہرت، اسٹیٹس کو میں ڈوب کر اپنی خود ساختہ اونچی سوسائیٹی میں اپنا بھرم قائم رکھنے کی خاطر جائز وناجائز کی ہر دیوار کو پھاندتے نظر آتے ہیں۔

یہاں تک کہ ہمارے اندر کاضمیر بھی مرچکا ہوتا ہے اور ہم بتدریج آہستہ آہستہ گناہوں کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔ جہاں ہمیں اس بات کی کبھی فکر نہیں ہوتی کے مال و دولت حرام ہے کہ حلال، ایمانداری سے کمایا ہے یا بے ایمانی سے، بس مال آنا چاہیے۔ کیسے اور کہاں سے، ان سب باتوں کو چھوڑیں، یقین کریں اب تو حالت ایسی ہو گئی ہے کہ جس کو مل جائے وہ زیر لب مسکرا کر اکڑتا پھرتا ہے اور جس کو نہیں ملتا وہ میری طرح ہر ایک بات پہ کہتا ہے کہ تو کیا ہے؟ اس حرام حلال کے چکر میں کس کے ساتھ بے ایمانی ہوئی اُس کو بھی جانیں دیں، کس کی جیب کٹی اور کس کی گردن، یہ سب باتیں بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ جب بندہ ہی بے ایمان ہو گیا تو پھر کیا کیا جائے؟ خوب کہا تھا کسی نے

عظیم تر عبادت ہے شباب کی

لیکن یہی گُناہ کا موسم ہے کیا کیا جائے

لیکن ایک بات جس نے مجھے تشویش میں مبتلا کردیا وہ بے ایمانی ہے جو ہم انجانے میں اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ کرتے چلے آرہے ہیں۔ جس کا ادراک شاید ہم میں سے کسی کو بھی نہیں، اس ایمانداری اور بے ایمانی کے گرداب میں ہم نے خود کو اس قدر اُلجھا لیا ہے کہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ہم کتنا دور نکل آئے ہیں۔ جہاں آ ج نہیں تو کل، ایک نہ ایک دن، کسی بھی وقت آپ ضرور سوچیں گے کہ کاش ہم سب کچھ کرتے، چوری، جھوٹ، کرپشن، دغا بازی، بے ایمانی لیکن کاش ہم ایک صرف اور صرف ایک رستہ واپسی کا ضرور رکھتے اپنے اور اپنی نسلوں کے لیے جو اب ہمارے ہاتھوں سے نکلتا چلاجارہا ہے۔ ذرہ کچھ دیر کو اپنے دلوں پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ ہم کیا سکھا رہے ہیں اپنی اولادوں کو، کیا تعلیمات دے رہے ہیں اُن کو، مخلوط کلچر اور لبرل ازم، کیا اس سے بڑی بے ایمانی کوئی اور ہوسکتی ہے جو ہم اپنی اولادوں کے ساتھ کررہے ہیں؟ کیا ان کے ذریعے ہماری اولادوں کی نجات ممکن ہے، کیا ہم انجانے میں اُن کے لیے تباہی کا سامان نہیں کر رہے؟

اور یقین جانیں مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ ہم لوگ اپنی ذاتی انا کی تسکین کی خاطر، تو کہیں رواداری میں، دوسروں کو خوش کردینے والی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔ اور وہ بھی اُن کو جو کہ خود معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے ہیں لیکن ہم نہیں جانتے کہ جو کچھ آج ہم بو رہے ہیں وہ آنے والے کل ہماری آنے والی نسلوں نے کاٹنا ہے۔ آنے والی نسلوں کی بات تو شاید آنے والا کل جانے لیکن آج ہم خود محسوس کررہے ہیں کہ ہمارے قدم دن بدن ڈگمگا رہے ہیں۔ ہم اپنے لیے خود ہی ایک ایسا گڑھا کھود رہے ہیں یا پھر کھود چکے ہیں جس میں کل خود ہم ہی نے گر کر فنا ہو جانا ہے۔ آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ہم اس بات کا تعین کرنے کی اہلیت قریبا کھو چکے یا کھوتے چلے جارہے ہیں جس کے تحت ہم ایک بہترین کامل مؤمن اور ایک اصول پسند منافق کے مابین تفریق کرسکیں۔ اور اس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہماری، ہم سب کی دین سے دوری ہے۔ کیونکہ جیسے ہی ہم دین سے دوری اختیار کرتے چلے جاتے ہیں اللہ کے دین کے علم کی کمی کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ایمان کی کمزوری کا شکار ہو چکے ہیں۔

قرآن سے دوری، نماز سے دوری، احادیث کے علم سے دوری، ، آج ہم اُس اسٹیج پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں اپنے آنے والے کل کے لیے بے انتہا جدوجہد کرنی پڑے گی۔ معذرت کے ساتھ جس انداز میں محترمہ عاصمہ جہانگیر کا جنازہ پڑھا گیا وہ لمحہ فکریہ ہے۔ آپ اور ہم سب کے لیے، عالم اسلام کے لیے، کیا اس طرح نماز جنازہ پڑھنا یا پڑھانا اسلامی روایات کے عین مطابق تھا اور اگر تھا تو کس کتاب کی رو سے؟ کس قانون کی رو سے؟ کس دین کی رو سے؟ اور اگر نہیں تھا تو حیدر فاروق مودودی کو کس نے اجازت دی شعائر اسلام کا مذاق بنانے کی یا پھر اس معاملے میں بھی جانتے بوجھتے حیدر فاروق مودودی کو استعمال کیا گیا؟ پے در پے گھٹنے والے معاملات سے میرے اس خدشہ کو ضرور تقویت ملتی ہے کہ کیا یہ معاملہ بھی دین اسلام کے خلاف کسی نئی سازش کا عندیہ دے رہا ہے، اور اگر اس بات کا جواب ہاں میں ملتا ہے تو پھر ہم سب کے لیے غور وفکر کرنے کا مقام ہے کیونکہ اس مرتبہ بڑی گہری چوٹ ماری گئی ہے ایک ایسے انسان کے ذریعے جو ایک ایسے شخص کا فرزند ہے جس کی دین اسلام کے لیے خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں، اور اس مذاق میں وہ تمام لوگ، خواتین و حضرات شامل ہیں جو اس جنازے میں شامل ہوئے۔

اگر یہ تمام لوگ قادیانی تھے تو پھر اس طرح کھلے عام قادیانیت کے پرچار کی اجازت کیوں کر دی گئی؟ بلا مبالغہ کہوں گا کہ یہ سب اسلام دشمنی ہے، ہمارے اندر منافقت گھر کرتی چلی جارہی ہے اور ہم خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں، اللہ خود انتقام لے گا جیسی باتیں کرکے اپنے دلوں کو بہلایا جارہا ہے۔ اللہ کے عذاب سے تو یہ لوگ شاید ہی بچ پائیں لیکن کیا ہمیں حُکم اذاں نہیں ہے، اور اگر نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟ کوئی جواب ہے اس ملک کے تمام لبرل دانشوروں کے پاس، ہمیں درگزر کا درس دینے والے اپنے گریبانوں میں کیوں نہیں جھانکتے، کیا فرزندان اسلام نے کسی کے مذہب کی تکذیب کی ہے؟کیا اسلام کے پیروکاروں نے دنیا میں دیگر مذاہب کے شعائر کا کبھی مذاق بنایا ہے، یقیناً اس کا جواب نہیں میں ہوگا، تو پھر میرا سوال ہے دنیا کے تمام مذاہب کے ساتھ ساتھ ہمارے اندر کے لبرل منافقین سے کہ کیوں ہمیں تختۂ مشق بنایا جانا آپ لوگوں کا فرض اولین بن چکا ہے؟ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ کسی کے تو کیا دشمن کی موت پر بھی خوشی نہیں منانی چاہیے یا پھر اُس مرنے والے کی بُرائی یا تنقید نہیں کرنی چاہیے لیکن جناب جواز تنقید بھی تو یہ لوگ خود ہمیں فراہم کرتے ہیں اور پھر یہ کہنا کہ ان باتوں کو درگُزر کردیں تو بھائی آج اگر درگُزر کیا تو کل ایسے بے دین لوگ حوصلہ پاتے ہوئے ہمارے سروں پر چڑھ کر ناچیں گے۔

مُشرک اور منافق میں بڑا فرق ہوتا ہے اور اسی طرح منافق اور مرتد میں بھی بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ گھوڑے کی پُشت پر تو اپنے وقت کا بقول خود (نعوذ باللہ) خدا، ، شداد بھی جہنم واصل ہوا تو اس کا کیا مطلب ہوا کہ ہم اُس کا موازنہ کسی بھی صورت میں کسی ایسے انسان سے کر سکتے ہیں، جو اللہ کا انتہائی مقرب گُذرا ہو۔ عاصمہ جہانگیر اپنی زندگی میں اپنے نام کی خاطر، اپنے فائدے کے لیے سو کالڈ جنگ لڑتی رہی لیکن بھائیو اصحاب رُسول ﷺ صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے اپنی جانیں اللہ کی راہ میں قربان کرتے رہے۔ بڑے کرب کے ساتھ یہ سطور تحریر کرہا ہوں خدا کے لیے دنیا کے ہر معاملے میں بے ایمانی کریں لیکن خدارا دین کو تو بخش دیں، ہر معاملے میں تھورا سا کیا، زیادہ بے ایمان ہو جائیں لیکن اللہ کے دین کے لیے اپنی ایمانداری کو دھبہ نہ لگنے دیں۔ اس ایک معاملے میں تو اپنا ایمان بچا لیں، کیوں کہ لے دے کر ہمارے پاس یہ توٹا پھوٹا ایمان ضرور بچ گیا ہے وگرنہ جسے جہاں موقع ملتا ہے اپنے دل کو سمجھاتا نظر آتا ہے کہ بس تھورا سا بے ایمان ہو جاؤں۔ ۔ ۔ ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */