خربوزہ، چھری، خربوزہ - حبیب الرحمٰن

بہت عوامی سا محاورہ ہے، خربوزہ چھری پر گرے یا چھری خربوزے پر، نقصان خربوزے کا ہی ہوتا ہے۔ پوری مسلم امہ گزشتہ کئی برس سے زیر عتاب آئی ہوئی ہے چہار سو مارا ماری مچی ہوئی ہے، قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے، گلے کٹ رہے ہیں، سینے چھلنی ہورہے ہیں لاشوں سے میدان پٹ رہے ہیں اور خون پانی کی طرح بہہ رہا ہے نہ مارنے والے کو پتہ ہے کیوں مار رہا ہے نا مرنے والے کو خبر کس جرم میں اس کی جان لی گئی ہے؟ مارنے والے کا نعرہ اللہ اکبر، مرنے والے کے لب پر بھی کلمہ طیبہ کا ورد۔

عالم یہ ہے کہ کبھی خربوزہ چھری پر گر رہا ہے اور کبھی چھری خربوزہ پر اس میں کوئی شک نہیں کہ چراغِ مصطفوی کو بجھا نے کے لیے دنیا جہان کی ساری طاغوتی قوتیں جمع ہو کر پھونکوں پر پھونکیں مار رہی ہیں لیکن ان سب میں سب سے زیادہ زوردار پھونک کلمہ گوؤں کی ہے اس میں کوئی دو آراء نہیں کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف کھچڑی پک رہی ہے سارا عالمِ کفر اسلام اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہے (جبکہ اس کی کوئی خاص ضرورت تو نہیں) جب خربوزہ خود ہی کہے کہ آئو مجھ پر گرو، آئو مجھ پر گرو، ورنہ میں خود ہی تجھ پر گر پڑوں گا۔

تو،چھری کی تو چاندی ہوئی ناں جب تک ہم اپنے گریبانوں میں نہیں جھانکیں گے، اپنے اندر کے چھید نہیں گنیں گے۔ چاند ستاروں پر تھوکا جانے والا تھوک اپنے ہی منہ پر برستا رہے گا جان لیجئے، اپنی اصلاح کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ جھوٹ بولنا، کم تولنا، ناجائز منافع خوری، خواتین کے ساتھ ظلم و دست درازی، عدل و انصاف کی عدم فراہمی، اشیاء میں ملاوٹ، گالم گلوچ اور فحش گفتاری، گھریلو ناچاقیاں، بھتہ خوری، قتل و غارت گری، عیب جوئیاں، چغل خوریاں، لگائی بجھائی، دلوں اور کلیجوں میں کچوکے لگانا، نمازیں نہ پڑھنا، روزہ خوری کرنا، زکوٰة خیرات دیتے ہوئے دل میں تنگی محسوس کرنا، حقوق العباد کی قطعا ًپرواہ نہ کرنا، اقلیتوں پر قہر بن کر ٹوٹ پڑنا اور بیسیوں گھر جلادینا، نوجوانوں کو مار کر درختوں اور کھمبوں سے جانوروں کی طرح لٹکا دینا، خواتین پر تیزاب کی بارش برسانا، انہیں برہنہ کرکے سر بازار پھرانا، جیتے جاگتے انسانوں کو بھٹیوں میں جھونک دینا۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلمانو متّحد ہوجاؤ - سلیم مغل

کیا ان سارے سنگین جرائم اور گناہ گارانہ اعمال کی پشت پر بھی طاغوتی قوتیں ہیں؟ شرم کا مقام ہے کہ ہم اپنے سارے جرائم اور اللہ کی نافرمانیوں کو چھپانے کے لیے سازشوں کی چادر اپنے اوپر ڈال کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ سارے سیاہ کرتوت چھپالیے۔ یاد رکھیں اگر اصلاح احوال نہیں کی تو خربوزے کا مقدر صرف اور صرف کٹ کے مر جانے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔