اس طرف یا اس طرف ۔ سید معظم معین

پوسٹ پر پوسٹ پڑھ رہا ہوں۔۔۔۔ کوئی نواز شریف کو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جدو جہد کا استعارہ سمجھ رہا ہے تو کوئی اس کی خاطر جان دینے کا عزم ظاہر کر رہا ہے۔ کوئی اسے مظلوم بنا رہا ہے تو کوئی بد عنوان ۔۔۔ بیشتر دوست اس جاری جنگ کو سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کی آپس کی لڑائی گردان رہے ہیں جس میں کوئی ایک طرف ہے تو کوئی دوسری طرف۔

یہ درست ہے کہ ہمارے ملک میں اصل احتساب کبھی کسی کا نہیں ہوا مراد یہ ہے کہ اعلی مقتدر طبقات میں سے کبھی کسی کا احتساب نہیں ہوا اور اصلا یہ سب ایک دوسرے کے مفادات کے محافظ ہی ثابت ہوئے ہیں۔ وڈیرے جاگیردار نواب اور خان کون سا ظلم ہے جو اپنے ہاریوں اور کسانوں کے ساتھ نہیں کرتے اور کتنے سیاستدان ہیں جنھوں نے فوج کی چوکھٹ پر سجدہ نہیں کیا۔ خود میاں نواز شریف ہوں، عمران خان یا ذوالفقار علی بھٹو سب اس لائن میں کھڑے رہ چکے ہیں سوال یہ ہے کہ تب انھیں کیوں پارلیمنٹ اور سیاستدانوں کی بالادستی کی حرمت کا خیال نہیں آتا جب اپنے مفادات پر زد پڑتی ہے تب ہی مرد مجاہد بن کر کیوں میدان میں کھڑے نظر آنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں۔

عدلیہ جب مخالف پارٹی کے وزیر اعظم کے خلاف ووٹ دے تو تب جج منصف اعلی اور جب اپنے خلاف فیصلہ آئے تو مجھے کیوں نکالا۔۔۔۔؟

خدا خوفی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔

دوسری طرف فوج نے بھی اپنے آپ کو خوامخواہ مقدس گائے قرار دے رکھا ہے اگر منتخب وزیر اعظم کا احتساب ہو سکتا ہے وہ جیل جا سکتا ہے سڑکوں پر ذلیل و رسوا ہو سکتا ہے تو فوج کے بدعنوان جرنیل اور بیوروکریسی کے بزرجمہر کیوں عدالت کے کٹہرے میں کھڑے نہیں ہو سکتے۔ بیوروکریسی کے لوگ تو پھر بھی کبھی نہ کبھی عدالت ہتھے چڑھ جاتے ہیں فوجی افسران کا ٹرائل کیوں نہیں ہو سکتا کیا فوج یہ سمجھتی ہے کہ کسی فوجی افسر کے انصاف کا سامنا کرنے سے ملک کی سلامتی خطرے میں پڑھ سکتی ہے؟ اگر فوجی افسران کا احتساب اندرونی طور پر ہوتا ہے تو کم از کم فوج کو ایسے بڑے فوجی جرنیلوں کی فہرست ضرور جاری کرنی چاہئے جن کو “سخت ناراضگی” کا اظہار کرنے کے علاوہ کچھ سزا ہوئی ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   درسگاہیں بنی رقص گاہیں اور برقعے کا نیا استعمال - محمد عاصم حفیظ

اللہ تعالی کا حکم ہے ہم سب کو یاد رکھنا چاہیے

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنفُسِكُمْ أَوْ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ إِنْ يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَى بِهِمَا فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَى أَنْ تَعْدِلُوا وَإِنْ تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا (سورۃ النساء-۱۳۵)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب، اللہ تم سے زیادہ اُن کا خیر خواہ ہے لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ احتساب سے ادارے کمزور نہیں ہوتے مضبوط ہوتے ہیں ہاں احتساب نہ کرنے سے کمزور ضرور ہوتے ہیں۔

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.