مایوسی کے سوداگر - محمدعامر خاکوانی

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(FATF) ایک بین الاقوامی تنظیم ہے، جس پر جی سیون ممالک کا گہرا غلبہ اور اثر و رسوخ ہے۔ اس تنظیم کا مقصد منی لانڈرنگ وغیرہ کے معاملات پر نظر رکھنا اور اسے کنٹرول کرنے کی تدابیر کرنا ہے۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کی لہر آئی تو منی لانڈرنگ کے ساتھ ٹیررازم فنانسنگ بھی شامل ہوگئی۔ یہ تنظیم دنیا بھر کی حکومتوں پر ان دوحوالوں سے نظر رکھتی ہے۔ کسی ملک کی حکومت اگر ایسی پالیسیاں بنائے جن سے منی لانڈرنگ یا ٹیررازم فنانسنگ کو تقویت مل سکے تو اس کا نوٹس لیا جاتا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نامی اس تنظیم کے پاس دو الگ الگ فہرستیں ہیں، ایک بلیک لسٹ اور دوسری گرے لسٹ۔ مجرم حکومت بلیک لسٹ ہو جاتی ہیں اور جن کے بارے میں شکوک ہوں یا ان سے اینٹی ٹیررازم اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین بنوانے، انتظامی اقدامات کرانے مقصود ہوں، ان کو گرے لسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس لسٹ میں شامل ہونے والوں کے مالی معاملات ، پیسہ باہرجانے، آنے پر نظر رکھی جاتی ہے۔ اسے واچ لسٹ کہہ سکتے ہیں۔ جس میں شامل ہونے والے ممالک انڈر آبزرویشن رہتے ہیں۔ دو ہفتے قبل بھارتی میڈیا نے ایک مہم شروع کی، بعض عالمی نشریاتی اداروں نے اس کی سپورٹ کی۔ یہ تمام حلقے دعویٰ کر رہے تھے کہ پاکستان کے خلاف شواہد اکٹھے ہوچکے ہیں اور اس بار اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال دیا جائے گا، یہ اب زیرنگرانی رہیں گے۔

یہ خبر بھارتیوں کےلئے تو خوشی کا باعث بن سکتی ہے، خاص کر شدت پسند ہندو حلقوں کی مسرت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، پاکستانیوں کے لئے یہ تشویش کا باعث ہونی چاہیے تھی۔ پاکستان میں مگر ایک حلقے نے اس خبر کو یوں خوشی اور مسرت کے ساتھ شیئر کرنا شروع کیا، جیسے ان کے دل کی کلی کھل اٹھی ہے ۔ اس حلقے نے اس پر قبل از وقت واویلا شروع کر دیا۔ وہی مخصوص ماتمی زبان اور گھسا پٹا ماتمی بیانیہ کہ دیکھیں پاکستان کی ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے کہ اب ہمیں انڈر آبزرویشن رکھا جائے گا، باہر سے آنے والے ہر ڈالر کی پڑتال ہوگی، اکانومی تباہ ہوجائے گی، ممکن ہے کچھ عرصہ بعد مکمل طور پر پابندی لگ جائے، ایکسپورٹ بند ہوجائے گی، امپورٹ کے لئے ڈالر نہیں بچیں گے، دیوالیہ ہونے کی نوبت آجائے گی وغیرہ وغیرہ۔ ہر طرف یہی شور تھا۔ ہمارے جیسے جلد پریشان ہوجاتے ہیں کہ خدا خیر کرے، کہیں ملک نئے بحران میں نہ پھنس جائے۔ ادھر ادھر سے سن گن لی، معلوم ہوا کہ ایسی بھی کوئی پریشانی والی بات نہیں، تین سال تک ہم اسی گرے لسٹ میں رہ چکے ہیں، دو ہزار بارہ سے پندرہ تک۔ باہر سے ڈالر بھی آتے رہے، امپورٹس بھی چلتی رہیں اور عالمی منڈی میں ہمارے بانڈ بھی ایشو ہوئے۔ یہ بھی علم ہوا کہ جی سیون ممالک کا اس تنظیم پر اثر ہے اور امریکہ جس کا بازو مروڑنا چاہتا ہے، اسے تنگ کرنے کے لیے یہ پلیٹ فارم بھی استعمال کرتا ہے، اس لیے کسی لسٹ میں آنے کا مقصد محض اس ملک کی ناکام پالیسیاں نہیں بلکہ امریکی باتیں نہ ماننا بھی ہوسکتا ہے۔ اب یہی دیکھ لیں کہ اس وقت بلیک لسٹ میں ایران اور شمالی کوریا دو ممالک ہیں، دونوں کے خلاف امریکی جذبات کیا ہیں، وہ سب جانتے ہیں۔

دو دن پہلے تنظیم کا اجلاس ہوا۔ اس میں پاکستان کے روایتی دوست ممالک چین، ترکی، سعودی عرب اور خلیجی کونسل نے ڈٹ کر پاکستان کی حمایت کی اور گرے لسٹ میں ڈالنے کی تجویز مسترد کر دی۔ چین کا کردار بہت اہم رہا، کہتے ہیں کہ روس نے بھی اپنا اثرورسوخ استعمال کیا، مگر سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی حمایت بہت اہم تھی کہ یہ امریکہ کے قریبی اتحادی ہیں اور امریکیوں کے لیے سعودی عرب کی اس قدر واضح پوزیشن کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ بھارتی لابی کو شکست فاش ہوئی۔ ساتھ ہی ہمارے ان بھولے بادشاہ قسم کے فیس بکی دانشوروں کو بھی سمجھ آگئی، جنہیں تشویش تھی کہ سعودی عرب فوجی دستے کیوں بھیجے گئے اور یہ بھی کہ پاکستان کے سعودی عرب سے تعلقات گہرے کیوں ہیں؟ ویسے حق تو ترکی نے نبھایا، جب امریکی دباﺅ پر دوسری رائے شماری میں بھی ترکی ثابت قدم رہا، جبکہ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب اور چین اس میں مزاحمت نہ کر پائے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کے بعد بطور قوم پاکستان میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی، مگر ہم نے دیکھا کہ سوشل میڈیا پر افسوس اور کرب کی شدید لہر دوڑ گئی۔ بات بات پر پاکستان کو گالیاں دینے والے ہمارے لبرل، سیکولر دانشور اور بعض مذہبی حلقے بھی صدمے کے مارے نڈھال ہوگئے، چہرے فرط غم سے سیاہ، زبانیں گنگ ہوگئیں۔ اسی دن ایک اور اہم کامیابی ملی کہ یورپین یونین سے جی ایس پلس سٹیٹس کی تجدید ہوگئی۔ اس سے ہماری ایکسپورٹس کو فائدہ پہنچنے کا قوی امکان ہے، اس لیے معیشت کے نقطہ نظر سے یہ اہم خبر تھی، اس پر بھی یار لوگوں کی مایوسی دیدنی تھی۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس کے حوالے سے ایک اور دلچسپ ڈرامہ چلا۔ بھارتی میڈیا نے یہ خبر اڑا دی کہ پاکستان کانام گرے لسٹ میں آ گیا ہے۔ اگلے ایک دو گھنٹوں میں سوشل میڈیا میں طوفان آگیا۔ سینکڑوں، ہزاروں پوسٹیں، لاتعداد ٹوئٹ تخلیق ہوئے۔ پاکستان، پاکستانی قوم، پاکستانی اداروں پر لعن طعن کی شدید بوچھاڑ۔ ہماری خارجہ پالیسی ناکام، ہم ناکام، فوج ناکام، ریاست ناکام غرض کہ ہمارے پاس کچھ بھی اچھا نہیں وغیرہ وغیرہ۔ ایک سے بڑھ کر ایک نیا الزام۔ فیس بک کی ن لیگی پلٹن نے ایک اور بیانیہ نکال لیا، انہوں نے نواز شریف کی نااہلی کا ایشو بھی اس کے ساتھ جوڑ دیا کہ دیکھیں اگر سویلین مقبول لیڈر وزیراعظم ہوتا تو یہ نہ ہوتا۔ کسی کے نزدیک یہ ناکامی فوجی بوٹ کے تحت چلائی جانے والی خارجہ پالیسی کی وجہ سے ہوئی، بعض نے تو سٹریٹجک ڈیپتھ کی اصطلاح کوایک بار پھر تختہ مشق بنا لیا، حالانکہ ان کے فرشتوں کو بھی علم نہیں کہ یہ اللہ ماری سٹریٹجک ڈیپتھ ہے کیا بلا۔ جو دل میں آیا لکھتے رہے ، مایوسیاں پھیلاتے رہے۔

ان غریبوں کے ساتھ ظلم یہ ہوا کہ اس ادارے نے اپنی آفیشل سائٹ سے یہ اعلان کر ڈالا کہ پاکستان اس گرے لسٹ میں شامل نہیں ہے اور یہ جو افواہیں پھیلائی گئی ہیں، اس میں ہمارا قصور نہیں۔ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بات بات پر پھوڑی یعنی صف ماتم بچھانے والوں پر کیا گزر ی ہوگی، پچھلی رات گزارنا کس قدر کٹھن ہوگیا ہوگا۔ اگلے روز البتہ ایک ”دل خوش کن“ خبرانہیں مل گئی کہ یہ مہلت تین ماہ کے لیے ہے اور پاکستان اینٹی ٹیررفنانسنگ کے حوالے سے جو اقدامات کر رہا ہے، جن کا اس نے وعدہ کیا ہے، جون میں ان کا جائزہ لیا جائے گا۔

بات فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یا اس کی گرے لسٹ، بلیک لسٹ کی نہیں، یہ تو ویسے مثال کے طور پر واقعہ لکھ ڈالا، کہنا یہ چاہتا ہوں کہ ایسا کیوں ہے کہ ہم پاکستانیوں کا ایک حصہ ہر وقت اپنی قوم، حکومت اور ملک پر لعن طعن برساتا رہے گا۔ ان کے دہن سے ہمیشہ زہر آلود تیر ہی نکلیں گے اور بانچھوں سے نفرت اور بغض کی جھاگ ہی بہے گی۔ ہم میں بے شمار خرابیاں ہیں، انہیں درست کرنا چاہیے۔ درست کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے کی طرف بڑھنے کا زیادہ محفوظ ، زیادہ بہتر راستہ ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ وہ تمام خامیاں ہم مان لیتے ہیں، جن کا الزام یہ دریدہ دہن مادر وطن پر عائد کرتے ہیں۔ عرض صرف یہ ہے کہ اپنے گھر ، اپنے خاندان، اپنے بچوں کی اصلاح کا طریقہ کار کیا یہی ہوتا ہے؟اپنی ذات ، اہل خانہ کے حوالے سے بھی ان کا رویہ ایسا سفاکانہ، بے رحم اور سنگ دلی پر مبنی ہوتا ہے۔ کیا اپنے بچوں کی خامیاں بھی یوں بیان کرتے اور اس کا ٹھٹہ اڑاتے ہیں؟ ہمیشہ خرابی اور خامی بیان کی جاتی ہے تو کیا جب کوئی اچھا کام ہو، کہیں پر کامیابی حاصل کی جائے، اسے بیان کرتے زبان اینٹھ کیوں جاتی ہے؟انصاف اور دیانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ منفی پہلوﺅں کے ساتھ مثبت باتیں بھی بیان کی جائیں۔ دانشور کا کام مایوسی پھیلانا نہیں بلکہ امید اور حوصلہ کا سبق پڑھانا ہے۔ اپنی غلطیوں سے سیکھنے اور آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔ ایک زمانے میں لگڑ بگڑ خاندان کی کہانی پڑھی۔ اس میں پہلی بار پتہ چلا کہ لگڑ بگڑ والدین کہیں سے شکار مل جائے تو اس سے پیٹ خوب بھر لیتے ہیں اور پھر واپس جا کر بچوں کے کھانے کے لیے وہ کھایا پیا قے کر دیتے ہیں، بچے وہی متلی کھا کر پیٹھ بھر لیتے ہیں۔ ہمارے بعض مایوسی کے سوداگر وں کا رویہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ دن بھر مختلف جگہوں پر پاکستان دشمن راتب ڈھونڈتے ، پڑھتے، سنتے ہیں، رات کو سوشل میڈیا پر اپنے جیسوں کے سامنے اسے قے کر دیتے ہیں تاکہ دوسرے اس سے اپنا پیٹ بھریں اور سکون حاصل کریں۔ یارو کہیں ایک لمحے کے لیے رک کر اپنی ان اداؤں پر بھی غور کر لیں۔ یہ جینے کا قرینہ تو نہیں۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */