آرمی انسٹیٹوٹ آف ملٹری ہسٹری کا قیام - فضل ہادی حسن

چند روز پہلے روزنامہ جنگ کے فرنٹ پیج پر ایک کالمی خبر پڑھی جس میں پاک آرمی نے ملکی عسکری تاریخ کو محفوظ کرنے کے لیے آرمی انسٹیٹوٹ آف ملٹری ہسٹری (AIMH) کے قیام کا ذکر تھا۔ یقینا یہ خبر شائع تو مختصر تھی لیکن میرے لیے یہ ایک بڑی اور اہم خبر تھی۔ جب میں پاک آرمی کی تاریخ کے بارے میں کچھ پڑھتا ہوں تو ہمیں اس کی تاریخ کے بارے میں مختلف زاویوں سے بات کرنا پڑتی ہے۔ اس حوالے سے دو بڑی تقسیم ہمیں نظر آتی ہے اول، تقسیم سے پہلے Pre partition era، دوم، تقسیم کے بعد Post partition۔

بلاشبہ پاک آرمی کی جڑیں برٹش انڈین آرمی سے جڑی ہوئی ہے لیکن قیام پاکستان کے بعد بھی ہماری آرمی کی تاریخ کو پہلے سے جاری تسلسل کا حصہ اگر قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا، میں مانتا ہوں کہ پاکستان (علاقوں) کا جعرافیائی طور برصغیر یا ہندوستان کا حصہ تھا لیکن تقسیم کے بعد ایک نیا ملک وجود میں آنے کے بعد نئے سرے سے آغاز ہونا چاہیے تھا۔ اس حوالے سے پاک فوج کی تاریخ کا مطالعہ بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ تقسیم کے بعد پاک فوج کو پیشہ وارانہ اور انتظامی طور پر وہ کونسی مشکلات تھیں (اور یقیناً یہ معلوم اور واضح تھیں)جن کے بنیاد پر ہمارے پہلے دو سی این سیز برٹش شہری تھے؟ نیزعسکری تاریخ کے ماہرین جب پاک فوج کے بارے رائے دیتے ہیں تو وہ ضرور پاک آرمی کو برٹش انڈین آرمی سے جوڑتے ہیں۔ ان کی اپنی رائے اور فکر ہے اور اس کے وجوہات بھی ہوسکتے ہیں، لیکن بطور طالبعلم میں اس کا قصوروار ہماری آرمی کے اکیڈیمکس اور انٹلیچکول سمجھتا ہوں جنہوں نے ابھی تک اس بارے میں کوئی حتمی رائے دیکر فوجی تاریخ کو تاریخ پاکستان کیساتھ نہیں جوڑا ہے۔ بلکہ بعض فوجی رجمنٹس کی تقریبات سے تو ایسا تاثر بھی ملتا ہے کہ ہماری فوج برطانوی دور کیساتھ اپنی روایات بلکہ تاریخ جوڑنے پر مصر نظر آرہی ہے۔آپ فرنٹرکور رجمنٹ کو ہی دیکھ لیجئے گا ان کی صد سالہ تقریبات کی جشن اسی حساب سے منائی گئی تھی جب انگریز دور میں اس کا قیام عمل میں آیا۔ فرنٹیر کور کی مہمند رائفلز، خیبر رائفلز، چترال اسکاوٹس سمیت (بلوچستان ایف سی) دیگر نیم فوجی دستوں کا مطالعہ کیا جائے تو ابھی تک ہمارے ان اہم دستوں کی تاریخ کو آزادی کے بعد تاریخ پاکستان سے سے منسلک نہیں کیا گیا ہے۔ فرنٹیر کور پشاور کی ویب سائیٹ پر ابھی بھی تعارف اسی طرح لکھا ہوا ہے:

یہ بھی پڑھیں:   موضوع: صوبیدار (ر) خالد محمود بھٹی مرحوم (2) تحریر: حسان بن ساجد

Frontier Constabulary (FC), Khyber Pakhtunkhwa was established by amalgamation of Border Military Police (BMP) and Samana Rifles (SR) in 1913.

جبکہ تعارف کا اختتام کچھ اس طرح ہواہے:

It is pertinent to mention that Frontier Constabulary has completed its 100 years during the year 2013. In order to commemorate and highlight the services rendered by this force, a week long centennial celebrations have been planned in the month of December.

مہمند رائفلز (یا مہمند فیلڈ فورس، اس کی صد سالہ جشن کی تقریبات بھی منائی گئی تھی ) کو دیکھ لیجئے 1897 میں مہمند ایجنسی کے مختلف علاقوں، نخقئ، زروبی، سمیت شبقدر اور دیگر علاقوں میں کس کے خلاف لڑی تھی ؟ جنگ آزادی اورتحریک پاکستان کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو برطانوی افواج نے مقامی اور علاقائی بنیادوں پر اس قسم کی فورسز کے قیام کو کیوں ناگزیر سمجھاتھا؟ یہ ایک الگ اور تفصیل طلب موضوع ہے لیکن یہاں ایک دوتصویروں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان رائفلز کا برطانوی دور میں کیا کردار رہا تھا اور آیا قیام پاکستان کے بعد بھی اس طرف نسبت رکھنا اور اپنی تاریخ کو جوڑنے پر اصرار کرنے سے ہم نئی نسل کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ اگر ہم برطانوی دور سے اپنا ناطہ نہیں توڑ سکتے تو ہماری نسل کے لیے فرنیٹرکور کے مختلف شاخوں کے وہ پرانے ’’لڑاکے‘‘ ہیرو ہونگے جو قبائیلی علاقوں میں برطانوی افواج کے تحت لڑ رہے تھے یا وہ مقامی رہنما، حاجی صاحب ترنگزئی، فقیر ایپی اور ہڈہ ملا سمیت دیگر، جو انگریز سامراج کے خلاف لڑنے نکلنے تھے؟(چند دھشت گرد گروہ پاک فوج کی اس سوچ کو بطور دلیل بھی پیش کرتے رہتے ہیں) ہم تاریخ کو جس زاویہ سے بھی پڑھنے کی کوشش کریں لیکن جنگ آزادی سے لیکر تحریک افاغنہ اور تحریک بنگال تک انگریز افواج کے خلاف مسلح مزاحمت، تحریک پاکستان میں ایک کلیدی حیثیت اور نمایاں مقام رکھتا ہے۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ کی طرف سے آرمی ہسٹری کے لیے انسٹیٹوٹ کا قیام بہت خوش آئند اقدام سمجھتا ہوں۔ عسکری تاریخ کو مرتب کرنا یا محفوظ رکھنا اقوم کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ آج بھی اگر فاٹا یا ملاکنڈ ڈویژن میں برطانوی افواج کے حوالے سے کوئی چیز ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے برطانوی اداروں کے ارکائیوز یا مصنفین کی کتب سے ملتی ہے۔ اسی طرح پاکستان کی ستر سالہ تاریخ کے لیے عسکری تاریخ کو مرتب اور حفاظت بھی ناگزیر سمجھتا ہوں۔ مارڈرن دنیا کی افواج کے حوالے سے ایک ریسرچ پراجیکٹ کے بعد بحیثیت ایک طالبعلم اس حوالے سے چند تجاویز کو ضروری سمجھتا ہوں۔AIMH کی ضرورت و اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اس لئے ضروری سمجھتا ہوں کہ

یہ بھی پڑھیں:   صوبیدار (ر) خالد محمود بھٹی مرحوم (1) - حسان بن ساجد

1. پاکستان کی اہم اور منتخب یونیورسٹیوں، مطالعہ پاکستان سنٹرز، ہسٹری ڈیپارٹمنٹس، ایریا اسٹڈی سنٹرز اور دفاعی و اسٹریٹجک اداروں کے اشتراک سے انٹر نیشنل معیار کی تحقیق پر آغاز کیا جائے۔ صرف ملٹری اداروں تک تحقیق کو محدود رکھنا مناسب نہیں ہوگا۔

2. تاریخ کے ازسر نو تعین تو تاریخ دان، مطالعہ پاکستان اور دفاعی ماہرین ہی کرسکتے ہیں لیکن کم از کم ہمیں اپنی فوج کی تاریخ کو قیام پاکستان سے کرنا چاہیے۔ اور اسی حساب اور مناسبت سے رجمنٹل سرگرمیاں ہوں۔

3. ماضی، یعنی برطانوی دور سے تعلق برصغیر کی بنیاد پر، ریفرنس کے طور پر رکھا جائے لیکن جس طرح اس خطہ ارض پر پاکستان کےنام سے ایک نیا مملکت وجود میں آگیا اسی طرح تاریخ کا آغاز بھی 14 اگست 1947 سے ہو۔ ہمارے پڑوسی ممالک کی تاریخ کئی ہزار سال تک پرانی ہے اور اسی پر وہ قومیں فخر کرتی چلی آرہی ہیں ہمارے پاس بے شک70 سالہ تاریخ ہے لیکن ہمارے تمام اداروں کی تاریخ اور قیام کو تقسیم ہند کے بعد سے شروع کرنا چاہیے۔ تاکہ ہم بطورقوم آئندہ نسلوں کو ایک شناخت اور پہچان دے سکیں۔

4. قوموں کی اٹھان میں بہترین اور مضبوط دفاع ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے لیکن اس کے لیے نظریاتی پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہماری فوج جہاں ایک نظریاتی ریاست کی نگہبان ہے وہی ہماری فوج بطور ادارہ سیکولر ہونے پر بھی فخر کرتی ہے، سیکولر اس بنیاد پرکہ جہاں مسلمانوں کے علاوہ دیگر اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے بھی موجود ہیں نیز ان کے لیے مذہبی ازادی پر کوئی قد عن نہیں نہیں ہوتا۔ اس لیے عسکری تاریخ کیساتھ پاکستان کا نظریاتی پہلو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

5. جنگی ڈاکٹرائن(War Doctrine) وقت اور حالات کے حساب سے بدلتی رہتی ہے اوریہ عسکری تاریخ کا حصہ ہوتاہے لیکن نظریاتی بنیادوں میں بنی ڈاکٹرائن میں بار بار اور جلدی تبدیلیاں کرنا نقصان دہ ہوسکتی ہے وہاں نظریاتی وابستگی کمزور پڑ نے کا خدشہ اور امکان زیادہ ہوتا ہے۔

6. ملٹری موٹیویشن (Military Motivation) اس وقت مارڈرن فوج کے لیے ایک اہم ضرورت اور شعبہ بن چکا ہے جس کے لیے جدید ٹولز کیساتھ ساتھ سئیکالوجی(Psychology)، مذہب، قوم اور طن پرستی سے مددلیکر سامنا کرنے والا ’دشمن‘ (Enemy) قرار پاکر مقاملہ کیا جاتا ہے۔امید ہے AIMH اس حوالے سے بھی ایک مناسب پلٹ فارم ثابت ہوسکتا ہے۔

Comments

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن اسلامک سنٹر ناروے سے وابستہ ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ ائی آر میں ماسٹر اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے۔ مذہب، سیاست اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.