سچ اور جھوٹ - نصیر اللہ خان

ترجمہ: ”اے ایمان والو اللہ تعالی سے ڈرو اور سیدھی بات کہو۔70 33۔

اے اہل ایمان! خدا سے ڈرتے رہو اور سچ بولنے والوں کے ساتھ رہو -التوبہ:119

سچ کو مت چھپاؤ۔ 2.283

اللہ ان لوگوں کو بامراد نہیں کرے گا جو جھوٹے اور ناشکرے ہیں۔39.3

رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: ظن و گمان کے پیچھے پڑنے سے بچو یا بدگمانی سے بچو، اس لیے کہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے، نہ ٹوہ میں پڑو اور نہ جاسوسی کرو۔“

دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے فرمایا: کہ جھوٹ گناہ (فجور) کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ دوزخ میں، اور جھوٹ بولتے بولتے آدمی خدا کے ہاں جھوٹا لکھا جاتا ہے۔اسی طرح ایک حدیث مبارکہ میں حضور اکرم ﷺ نےارشاد فرمایا کہ سچ نجات دیتا ہے اور جھوٹ ہلاک کرتا ہے۔

قارئین! میں سمجھتا ہوں کہ انسان کے اس دنیا میں آنے کا مقصد سچائی کے علاوہ بھلا کیا ہوسکتا ہے؟ سچائی ہی دراصل بہترین ایمان ہے۔ جو جتنا سچا ہوگا اتنا ہی وہ اعلیٰ کردار اور خدا تعالی کے قریب ہوگا۔ ہماری آزمائش یہی تو ہے کہ ہم کتنے سچے اور کتنے جھوٹے ہیں؟ البتہ مناسب حالات میں سچائی کی افادیت اپنی جگہ برقرار ہے۔کسی بھی دفتر اور کاروباری امور میں ذمہ داری کے ساتھ قانونی طور پر اپنی ڈیوٹی سر انجام دینا سچائی اور ایمانداری ہے۔ دفتری امور میں ذمہ داری کا ثبوت دینا سچائی ہے اس کے برخلاف ڈیوٹی میں کوتاہی، کرپشن، اقربا پروری، بے ایمانی، خورد برد، فریب کاری صریح جھوٹ ہوتا ہے۔

مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں جھوٹ بولوں؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب جھوٹ کی ضرورت ہوگی تب میں جھوٹ بول سکتا ہوں۔ ملاوٹ، حرام کاری، دروغ گوئی، بے انصافی، بےایمانی سب جھوٹ کے پرتو ہیں۔

میں بلاوجہ کسی پر کیوں تنقید کروں گا اور نہ ہی کسی کا کوئی حق بنتا ہے کہ بلا وجہ کسی پر تنقید کرے۔ تنقید کسی اصلاح مقاصد کے لیے کی جاتی ہے نا کہ کسی کو رسوا کرنے کے لیے۔ سیاسی عملیات میں تعمیری تنقید پر اگر عمل کیا جائے گا تو مزید تعمیری نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ اگر بروقت اس پر عمل نہیں کیا جائے تو وقت گزرنے کے ساتھ اس پر لامحالہ عمل کیا جائے گا۔ اس لیے صاحبان بصیرت تعمیری تجویز کا خیر مقدم کرتے ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آیت الکرسی کا مفہوم اور افواہوں کے متعلق ہدایات - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

شہرت رکھنے والے ہر فرد کے الفاظ اور تقاریر کو لوگ غور سے سنتے ہیں وجہ اس کی یہ ہوتی ہے کہ لوگ اس سے کچھ سننا اور سیکھنا چاہتے ہے۔ وہ شخص اگر اوٹ پٹانگ بولے گا تو لازمی بات ہے اس کی باتوں کو اچھالا جائے گا۔

اصلاح احوال کی غرض سے اہل علم کسی نکتے کی وضاحت اپنی ذمہ داری مانتے ہیں۔کسی غلط بات یا عمل پر چپ رہنا حماقت تو ہوسکتی ہے لیکن ہوشیاری ہرگز نہیں۔ یہی اصول کسی دوست رشتہ دار یا اہل خانہ پر مناسب وقت میں آزمانا چاہیے۔ کسی غلط کام کی مختلف تشریحات اور صورتیں ہوسکتی ہے۔ جتنی اس کی شدت ہوگی اتنی ہی جلدی اس کی تلافی کی ضرورت ہوگی وگرنہ وہ غلطی مزید بگاڑ پیدا کرسکتی ہے دوسری صورت میں اہل خانہ دوست رشتہ دار یا بیٹے کو پیار محبت سے سمجھانا چاہیے۔ اس طرح نہیں کہ سب کے سامنے اس کی بے عزتی کی جائے۔اپنے بچوں اور ماتحتوں اور دکانداری کرتے ہوئے گاہک کے سامنے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ کسی ماتحت یا ایرے غیرے کا حق نہیں کہ وہ اپنے افسر یا بڑے کی عزت پامال کرے۔

جھوٹ فریب اور دھوکہ بازی کو چھپانے کے لیے سو اور جھوٹ بولنے پڑیں گے۔ حقیقت حال ہر حالت میں واضح ہوتی جاتی ہے۔ اس میں وقت کا تو فرق ہوتا ہے لیکن وقت آنے پر سچ کو چھپایا نہیں جاسکتا ہے۔کسی کے لیے جھوٹ بولنا اپنی عاقبت برباد کرنا ہے۔ سچائی کو جانتے بوجھتے ہوئے بھی جھوٹ پر اڑے رہنا نری جہالت ہوتی ہے۔ کسی سیاسی پارٹی، لیڈر، حکمران، کلائنٹ روپوں پیسوں اور مالک کے لیے سچ کو چھپانا اور جھوٹ کو ترویج دینا اخلاقیات اور اصلاح کے اصولوں کے برعکس ہوتا ہے۔ سچ بھی اگر بے جا موقع اور محل کے مناسبت سے بولا جائے تو کچھ فائدہ نہیں دیتا بلکہ الٹا خراب اثرات پیدا کرتا ہے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ سچ کو حکمت کے ساتھ بولنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   آیت الکرسی کا مفہوم اور افواہوں کے متعلق ہدایات - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

دوست اپنے دوست کا آئینہ ہوتا ہے اپنے دوست کی کمزوری اور جھوٹ کو غیر محسوس طریقہ سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ اپنے عمل، گفتار اور کردار کے ذریعے کسی بھی معاشرے اور فرد کی اصلاح ممکن ہے۔ دراصل یہاں مسئلہ یہ ہے کہ خود ٹھیک نہیں ہوسکتے اور دوسروں پر تنقید کے نشتر چلائے جاتے ہیں۔ وعظ اور نصیحت کئے جاتے ہے لیکن پھر بھی اصلاح احوال کے روشنی یا امید پیدا نہیں ہوتی۔

ہم من حیث القوم نصیحت کرنے والے لوگ ہیں لیکن عمل کرنے کے کوئی آثار نہیں۔ تحقیق کیے بناء دوسرے کے پیچھے چلنے کے عادی ہیں۔

دوسرے کے کام میں ٹانگ اڑانا کوئی ہم سے سیکھے۔مفت کے مشورے ہر جگہ ملیں گے۔ اگر آپ نے مشورہ مانگا ہے تو دوسرےکو کسی چیز کا پتہ بھی نہ ہوگا فوراً وہ ڈاکٹر انجنیئر وکیل اور قاضی بن کر فیصلہ صادر فرمائیں گے۔ بھائی اگر اپ کو علم نہیں تو کم از کم اس کو سیدھا کہا جائے کہ مجھے کوئی علم نہیں ہے آپ کسی صاحب علم سے پوچھیں۔لیکن نہیں اس کو خوامخواہ پھنسوانا ہے۔ستم بالائے ستم کسی کی اچھی بھلی بات کو اچھالنا اور اس کو نئے پیرائے میں بولنا کہاں کا انصاف ہے۔نفرت اور عداوت اس حد تک کہ سچ کو بھی چھپایا جائے۔ اپنی ضد انا اور ہٹ دھرمی پر قائم رہا جائے۔

بلا تحقیق افواہوں پر یقین کا یہ عالم ہے کہ سیکنڈوں کے حساب سے افراتفری اور بے چینی پھیل جاتی ہے۔ہونا تو یہ چاہیے کہ افواہ کار کو فوری بھانپ لیا جائے اور اس کو منع کرتے ہوئے تحقیق پر زور دیا جائے۔بہترین انسان وہی ہے جو سچ پر کاربند اور سچ کا متلاشی ہوتا ہے۔ بے جا طور پر تجسس اور کھوج نہیں لگاتا کسی کی ٹوہ میں نہیں رہتا، یقین کے بعد ایمان کی منزل ہوتی ہے۔ ایمان ترقی کرتا رہتا ہے اس لیے کسی بھی شخص کو زیب نہیں دیتا وہ علمی برتری پر فخر کرے اور اپنے اپ کو عقل کل ثابت کریں۔