صرف جج صاحبان کے لیے-محمد کامران خان

خود اعلیٰ عدلیہ کے معزز جج صاحبان کا ماننا ہے کہ جج مقدس گائے نہیں ہوتے بلکہ آئین و قانون نے انصاف کی فراہمی کا جو فریضہ انہیں سونپا ہے در اصل وہ فریضہ مقدس ہے ۔اور اسی مقدس فریضے کو احسن انداز میں نبھانے کے لیے آئین نے اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کو منصبی تحفظ دیا ہے ۔ناقدین وقت کہتے ہیں کہ پارلیمان کا رکن بننے کے لیے تو آئین میں آرٹیکل ۶۲ اور۶۳کی صورت میں فرشتوں جیسی صفات درکار ہوتی ہیں تو پھر ایک جج کے منصب کا تقاضا ہے کواس عہدے کے لیے جج کو اس سے بھی ذیادہ اعلیٰ صفات کا حامل ہونا چا ہیے ۔ موجودہ نظام کے تحت تو اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن ہے ۔ جسکے سربراہ بھی چیف جسٹس آف پاکستان ہیں اور اس کمیشن میں دیگر سٹیک ہولڈرز بھی موجود ہیں لیکن اکثریت جج صاحبان کی اپنی ہے ۔ اور یہ اکثریت بھی عدلیہ نے اٹھارویں ترمیم کے بعد پارلیمنٹ سے اپنی خواہش پر منوائی ہے ۔ یہ جوڈیشل کمیشن ہائی کورٹ، فیڈرل شریعت کورٹ یا سپریم کورٹ کے لیے جس اہل امیدوار کو بھی نامزد کر دے یہ سفارش حتمی تصور ہوتی ہے ۔

اگرچہ یہ نامزدگی ایک پارلیمانی کمیٹی کو بھی جاتی ہے لیکن اس کمیٹی کا اختیار صرف اتنا ہی ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر مہر تصدیق ثبت کر دے۔ یعنی اس پارلیمانی کمیٹی کی حیثیت ایک ربر سٹیمپ سے ذیادہ نہیں ہے۔ ججوں کی ؂تعیناتی کا اصل اختیار جج صاحبان نے اپنے ہی ہاتھوں میں رکھا ہوا ہے۔ رہی بات صادق اور امین ہونے کی شرط کی تو جناب اس سے بھی ذیادہ صفات جج صاحبان سے منسوب کی جاتی ہیں لیکن عہدہ سنبھالنے کے بعد ۔ آئین کا آرٹیکل ۲۰۹ تقاضا کرتا ہے کہ جج اپنے ضابطہ اخلاق کا پابند ہو اور اس ضابطہ اخلاق میں ایک جج کے لیے کو کون سی خوبیاں ، صفات، عادات و خصائل ضروری ہیں ۔ ذرا ملاحظہ ہوں ۔ ججوں کے ضابطہ اخلاق کا آرٹیکل ۲ کہتا ہے :’ایک جج خدا سے ڈرنے والا، قانون پر عمل پیرا، پرہیزگار،زبان کا سچا،رائے سازی میں عقلمند، محتاط و بردبار، الزامات سے پاک، اور لالچ سے مبرا ہونا چاہیئے ۔ انصاف کی فراہمی کے دوران اسے اکھڑ ہوئے بغیر صمیم ہونا چاہیئے ،کمزور ہوئے بغیر نرم گو ہونا چاہیئے، اسے اپنے الفاظ کا پکا ہونا چاہیے اور اسکے انتباہ میں ایک جاہ ہونا چاہیئے ، اسے ہمہ وقت پر سکون نظر آنا چاہیئے اور جو معاملات اسکے سامنے ہوں ان تمام معاملات میں درست نتیجے تک پہنچنے کے لیے اسے منصفانہ طرز پر مکمل غیرجانبداری اپنانی چاہیئے ‘۔

یہ بھی پڑھیں:   کبھی میں کبھی عدلیہ - حبیب الرحمن

یہ اس ضابطہ اخلاق کی صرف چند سطریں جبکہ پورا ضابطہ اخلاق ہی ہمارے جج صاحبان سے فرشتہ صفت ہونے کا تقاضا کرتا ہے ۔اور یہ ایک آئینی تقاضا ہے کیونکہ آئین کے آرٹیکل ۲۰۹ کی ذیلی شق۸ کے تحت ہر جج ضابطہ اخلاق پر عمل پیرا ہونے کا پابند ہے اگر کسی جج کے طرز عمل میں یہ خوبیاں اور صفات موجود نہیں تو یہ طرز آئین سے رو گردانی شمار ہو گا اور اس آئینی خلاف ورزی پر کسی بھی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں نا اہلی کا ریفرنس دائر ہو سکتا ۔ یہ الگ بات کے سپریم جوڈیشل کونسل بھی جج صاحبان پر ہی مشتمل فورم ہے جو اپنے ساتھی ججوں کے خلاف شکایات کا جائزہ لیتی ہے ۔کونسل میں ججوں کے خلاف شکایات تو بے شمار ہیں لیکن ان شکایات پر ججوں کے خلاف حتمی کاروائی اور عہدوں سے بے دخلی کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ جو ہمارے عدلیہ کے احتسابی عمل پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ذرا ضابطہ اخلاق کا آرٹیکل ۵ ملاحظہ ہو : ’چونکہ ایک جج کلی طور پر عوام کے لیے کام کرتا ہے اس لیئے اسے وہ عوامی شہرت مل ہی جاتی ہے جو اسکے لیے اچھی ہے ۔اسے اس سے ذیادہ شہرت کا طلبگار نہیں ہونا چاہیئے ۔ خاص طور پر اسے کسی سیاسی بحث میں نہیں شامل ہونا چاہیئے اور کسی سیاسی سوال میں تو بالکل مداخلت نہیں کرنی چاہیئے چاہے اس سیاسی سوال میں قانونی نکتہ ہی کیوں نہ پنہاں ہو‘۔

آج اگر سپریم کورٹ میں ہائی پروفائل مقدمات کا ایک سطحی جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ مقدمات کی ایک کثیر تعداد وہ ہے جن کی اسا س سیاست ہے۔ یعنی بادی انظر میں ان مقدمات میں قانونی نکتہ ہے لیکن قانونی بحث پر سیاسی بحث مقدم نظر آتی ہے۔ ضابطہ اخلاق کو بھلاتے ہوئے پھر بھی جج صاحبان ان مقدمات کو سنتے ہیں ۔اورساتھ ساتھ ریمارکس بھی دیتے ہیں کہ سیاسی مقدمات عدالتوں میں نہیںآنے چاہیءں ۔ شہرت کے حوالے سے بھی جج صاحبان پر قد غن موجود ہے لیکن پھر بھی ایسے بیانات جو اخبارات یا چینلز سکرین کی زینت بنتے رہتے ہیں ۔ پھر انہی ریمارکس کے نتیجے میں جنم لینے والی غلط فہمی پر جج صاحبان کو وضاحتیں بھی دینے کی ضرورت پڑتی ہے جو کہ کسی طور کسی اعلیٰ عدلیہ کے جج کے شایان شان نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا وزیراعظم عمران خان کو جواب: ’احتیاط کریں، طاقتور کا طعنہ ہمیں نہ دیں‘

ضابطہ اخلاق کا آرٹیکل ۱۰ کہتا ہے : ’اس عدالتی کام میں ایک جج مقدمات کو جلد نبٹانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا،مقدمات جلد نبٹانے کی راہ میں جو رکاوٹیں ہونگی ان پر موثر انداز میں قابو پائے گااور مناسب تحریری فیصلوں کے ذریعے مقدمات کا جلد فیصلہ کرکے سائلین کی مشکلات کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ اگر کوئی جج اپنے فرائض منصبی کے اس پہلو سے غافل ہے یا لا تعلق ہے تو وہ جج اپنے کام سے مخلص نہیں ہے جوکہ ایک بہت ہی سنگین خامی ہے ‘۔ اب اس آرٹیکل کے تناظر میں ججوں کے اقدامات اپنی جگہ ، جوڈیشل پالیسی اپنی جگہ ، لیکن سائلین کی مشکلات دیکھی جائیں تو فوری انصاف کا حصول بڑے عرصے سے ایک خواب ہے جسکی تعبیر کا انتظار ہو رہا ہے ۔

کہا جا سکتا ہے کہ اگر جج صاحبان اپنے ضابطہ اخلاق پر اسکی روح کے مطابق عمل کریں تو عدلیہ اور انتظامیہ یا مقننہ کے درمیان بالواسطہ اور اشاروں کنایوں میں جو لفظی حملے ہو رہے ہیں اورحدود و اختیارات کی جو سرد جنگ جاری ہے اسکی نوبت ہی نہ آئے ۔کون بالادست ہے اور کون با اختیار یہ بحث اسی وقت جنم لیتی ہے جب ضابطہ اخلاق کو پس پشت رکھا جاتا ہے ۔کوئی بھی ادارہ ہو یا فرد ، حکمران ہو یا جج جب بھی ضابطے سے باہر نکلیں گے تو اخلاقی حدود کہیں نظر نہیں آئیں گی۔