غزل کہتے ہیں - یوسف ثانی

غزل کے معروف شاعر جگر مراد آبادی کے بارے میں مشہور ہے کہ مرحوم خواتین کی غزل گوئی کے سخت خلاف تھے۔ ان کا موقف تھا کہ 'مجسم غزل' کی غزل گوئی چہ معنی دارد؟ کاش آج مرحوم زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ آج کی غزل تو معنی خیز ہی اس وقت ہوتی ہے جب کسی شاعرہ نے کہی ہو۔ اگر کسی کو اس بات سے اختلاف ہو تو وہ کسی بھی شاعرہ کے مجموعہ کلام کو دیکھ لے۔ غزل کے اشعار پڑھتے وقت ذہن میں جب تک تخلیق کار کی جنس واضح نہیں ہوتی شعر کا مفہوم غیر واضح ہی رہتا ہے۔ اب خوشبو کی طرح اپنی پذیرائی اور اس پذیرائی پر شاکر رہنے والی شاعرہ ہی کی مثال لے لیں جن کی شناسائی والی بات کوبکو اس طرح پھیلی تھی کہ اخباری رپورٹروں تک جا پہنچی تھی۔ کم از کم کسی نیک پروین سے تو ایسی باتوں کی توقع سودائیوں کی بستی میں بھی نہیں کی جاتی۔

آئیے ہم آپ کو ماضی کے جھروکوں سے اُس وقت کی واحد سرکاری دور درشن کی ایک ادبی نشست بزم میں لئے چلتے ہیں .بزم کی اس نشست میں اردو کی ایک معروف صنف سخن غزل پر بحث کی جا رہی تھی۔ بحث کیا ہو رہی تھی بس یوں سمجھ لیجئے کہ ایک مجسم غزل کے سامنے (جو خیر سے غزل گو شاعرہ بھی ہیں) عصر حاضر کے چند نامور اہل قلم غزل سرائی فرما رہے تھے۔ اگر یہاں غزل سرائی والی بات آپ کی سمجھ میں نہ آئی ہو تو سمجھے سمجھانے کی خاطر یہ واقعہ سن لیجئے جس کےجھوٹا یا سچا ہونے کی ذمہ داری حسب دستور راوی پر ہی عائد ہوتی ہے۔ ہاں تو راوی کی روایت ہے کہ ایک طالبہ اپنے استاد کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کئے بیٹھی تھی اور استاد محترم تنگنائے غزل کی گتھیاں سلجھا رہے تھے کہ یکایک کچھ سوچ کر بولے : تمہیں معلوم ہے کہ غزل کے اصل معنی کیا ہیں؟ فرمانبردار شاگردہ کیا جواب دیتی سوالیہ نگاہوں سے استاد کی شکل تکنے لگی۔ استاد نے مسکراتے ہوئے کہا : بھئی! غزل کے لغوی معنی ہیں :عورتوں سے باتیں کرنا۔ طالبہ جو ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ شوخ بھی تھی اپنی سیاہ چمکدار آنکھیں گھماتے ہوئے بولی : استاد محترم ! ایک بات تو بتائیں۔ آپ مجھے پڑھا رہے ہیں یا غزل سرائی فرما رہے ہیں؟

ہاں تو تذکرہ ہو رہا تھا مجسم غزل کی غزل سرائی کا۔۔۔ معاف کیجیے گا تذکرہ ہو رہا تھا، اہل بزم، کی غزل سرائی کا۔ بھئی قلم آخر قلم ہے جب چلتا ہے تو کبھی کبھی بہک بھی جاتا ہے۔ بالخصوص اس وقت جب بہکنے کی معقول وجوہ بھی موجود ہوں۔ ایسے میں تو اچھے اچھے ادیبوں کی زبان تک بہک جاتی ہے ہمارا تو صرف قلم ہی بہکا ہے جو بہکنے کے بعد کم از کم بہکے ہوئے لفظوں کو قلمزد بھی کر سکتا ہے جبکہ زبان سے نکلی ہوئی بات تو اس تیر کی مانند ہوتی ہے جو کمان سے نکل جائے۔دیکھئے ہم پھر اپنے موضوع سے بھٹکتے جا رہے ہیں۔ بات غزل کے تذکرے سے چلی تھی اور تیر کمان تک آ پہنچی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تیر اسی قلم ناتواں پر چل جائے اور جب کمین گاہ کی طرف نظر پڑے تو اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو جائے۔ یہ تو طے ہے کہ یہ وہی دوست ہوں گے جن کی دوستی پر آسماں اپنی دشمنی تک بھول جاتا ہے اور بھول کیا جاتا ہے اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا۔ لہذا آئیے ہم آپ کو دوبارہ اسی بزم میں لئے چلتے ہیں جہاں اُن کے آتے ہی بقول طرفداران میر، علم و ادب کے جملہ چھوٹے بڑے حاضر چراغوں کی روشنی ماند سی پڑ گئی تھی۔ اگر آپ میر کے طرفداران میں شامل نہیں ہیں تو کوئی بات نہیں خود انہی کا اعتراف نامہ ملاحظہ فرمائیے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ سج گئی بزم رنگ و نور ایک نگاہ کے لئے بام پہ کوئی آ گیا، زینت ماہ کے لئے اب جب بزم میں آنے والا خود اپنی آمد کو بزم کی سجاوٹ قرار دے تو ہم اور آپ کون ہوتے ہیں اعتراض کرنے والے۔ یہاں یہ واضح رہے کہ ہم نے 'آنے والا' کا صیغہ شعر میں موجود لفظ 'آ گیا' کی رعایت سے لکھا ہے۔ ورنہ آپ بھی بخوبی واقف ہیں کہ یہاں ہم دونوں کو با لترتیب 'آ گئی' اور ' آنے والی' لکھنا چاہیے تھا۔ کم از کم اس طرح تذکیر و تانیث کی اتنی بڑی غلطی تو نہ ہوتی۔ البتہ یہ درست ہے کہ ایسا کرنے سے شعر وزن سے گر جاتا۔ لیکن اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ جب اخلاق سے گرے ہوئے اشعار شامل دیوان کئے جا سکتے ہیں تو اوزان سے گرے ہوئے اشعار میں کیا برائی ہے۔ ایک انٹرویو میں جب اسی شاعرہ سے پوچھا گیا کہ آپ کی شاعری کا مقصد کیا ہے تو موصوفہ نے نہایت بھولپن سے جواب دیا کہ میری شاعری کا کوئی مقصد نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک بے مقصد شاعری کا کیا مقصد ہو سکتا ہے۔ تاہم بار بار کے اصرار پر انہوں نے فرمایا : میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچےع آج ان کا پیغام جہاں تک پہنچ چکا ہے، اس کا یہاں اعادہ کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔اخبارات میں پہلے ہی بہت کچھ چھپ چکا ہے۔ زیر گفتگو بزم میں غزل پر گفتگو کے دوران جب قومی مقاصد کے تحت کی جانے والی شاعری کے حوالے سے علامہ اقبال کا ذکر آیا تو موصوفہ کو اقبال کی جملہ کلیات میں سے صرف ایک ہی مصرعہ قابل ذکر نظر آیا، مسکراتے ہوئے فرمانے لگیں : اقبال نے : بھری بزم میں اپنے عاشق کو تاڑا , تری آنکھ مستی میں ہشیار کیا تھی ع جیسی شاعری بھی تو کی ہے۔

غزل اور اینٹی غزل کے حوالے سے گفتگو ہو رہی تھی کہ گھٹن کی فضا میں روایتی غزل کبھی حالات کا ساتھ نہیں دے سکتی۔ اس کے لہجہ میں لامحالہ جھنجھلاہٹ اور احتجاج کا عنصر شامل ہو جاتا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ زندگی کی بے معنویت اور لغویت ہماری غزل میں در آئی ہے ,جسے بعض نقادان ادب نے اینٹی غزل کا نام دے رکھا ہے۔ تو بزم کی جان, میرا مطلب ہے بزم کی میزبان نے فرمایا : سابقہ گیارہ سالہ عہد آمریت میں ایسا ہی ہوا ہے۔ اب یہ ہمارا منصب نہیں کہ ہم سابقہ عہد آمریت اور موصوفہ کے مابین رابطہ کی کڑیاں تلاش کریں کیونکہ سب ہی جانتے ہیں موصوفہ آج جس 'پوزیشن' میں ہیں, اس میں سابقہ عہد آمریت کا کتنا بڑا ہاتھ ہے۔ اس نشست میں غزل کے حوالہ سے ترقی پسند تحریک کا بھی تذکرہ ہوا اور پھر اس تحریک کے حوالے سے نام نہاد انقلاب کی باتیں بھی کی گئیں۔ ظاہر ہے مقصود بھی یہی تھا وگرنہ یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ تحریک کا تعلق اگر کسی صنف شاعری سے تھا تو وہ نظم تھی نہ کہ غزل۔ گفتگو جاری تھی۔۔۔ اور میں اپنے دور درشن کے سامنے بیٹھا یہ سوچ رہا تھا، کیا عام گھریلو ادبی نشتوں کا معیار اس بزم سے بہتر نہیں ہوتا۔ صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے

ٹیگز

Comments

یوسف ثانی

یوسف ثانی

یوسف ثانی پیغام قرآن ڈاٹ کام کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ 2008ء سے اردو، سندھی اور انگریزی زبانوں میں قرآن و حدیث پر مبنی کتب کی تصنیف و تالیف میں مصروف ہیں۔ ان کی کتب "پیغام قرآن، " "پیغام حدیث،" "قرآن جو پیغام،" "اسلامی ضابطہ حیات" اور "اسلامک لائف اسٹائل " کے تا حال پندرہ ایڈیشنز شائع ہوچکے ہیں۔ آپ ایم اے صحافت بھی ہیں اور بطور صحافی خبر رساں ادارے پاکستان پریس انٹرنیشنل اور جنگ لندن سے برسوں وابستہ رہنے کے علاوہ گزشتہ چار دہائیوں سے قومی اخبارات و جرائد میں بھی لکھ رہے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے کیمیکل ٹیکنا لوجسٹ ہیں۔ کیمیکل ٹیکنالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کے بعد 1981ء سے قومی و کثیر القومی آئل اینڈ گیس فیلڈز سے وابستہ ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.