خوشحالی کے اندھے خواب - رمضان رفیق

پچھلے دنوں لیبیا سے اٹلی جاتے ہوئے تارکین وطن کی ایک کشتی الٹی اور درجن بھر پاکستانی جان بحق ہو گئے، خوشحالی کے اندھے خواب لیے لوگ بنا کسی ہنر و تربیت ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں، میرے خیال میں اب یورپ میں ایسے اچھے حالات نہیں کہ آدمی بنا ہنر باہر آنے کا سوچے۔

ہمارے ایک دوست ہیں پولیس میں سب انسپکٹر ہوں گے، ایک دن کہنے لگے بڑی ضروری بات کرنی ہے، میں نے کہا جی کہیے، جی مجھے کسی طرح ملک سے باہر بلا لیجیے، میں نے کہا کہ ایسا کیوں سوچ رہے ہیں؟ کہنے لگا کہ یہاں گزارہ نہیں ہوتا، کچھ سال باہر رہ کر کام کروں گا اور پھر واپس چلا آؤں گا، میں پاکستان کے بغیر نہیں رہ سکتا۔

اسی طرح دو تین ماہ قبل فیس بک کے توسط ایک بچے نے رابطہ کیا کہ وہ باہر آنا چاہتا ہے اور اس کے والدین دنیا سے گزر چکے ہیں، اپنے چچا کے ساتھ رہتا ہے، اس کے پاس پانچ چھ لاکھ روپے بھی ہیں، وہ باہر آ کر کچھ کرنا چاہتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کی تعلیم کیا ہے؟ اس نے کہا ایف اے کیا ہوا ہے۔

پچھلے ماہ ہی ایک بڑے سرکاری آفیسر سے بات ہوئی، وہ سی ایس پی تو نہ تھے لیکن گریڈ 19 کے ملازم ہوں گے، کہنے لگے ہمارے ان دوستوں نے اچھا فیصلہ کیا جو اس وقت کینیڈا یا امریکہ چلے گئے، یہاں زندگی کا پریشر بہت ہے۔

درجنوں چھوٹے چھوٹے واقعات ہر آئے دن پیش آتے ہیں جن سے بہت سے دوستوں کی اس خواہش کا پتہ چلتا ہے کہ وہ ملک سے باہر آ کر سیٹل ہونا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے وہ کسی حد تک جانے کو بھی تیار ہیں، پچھلے دنوں لیبیا سے اٹلی جاتے ہوئے تارکین وطن کی ایک کشتی الٹ گئی اور درجن کے قریب پاکستانی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس سے ملتے جلتے درجنوں واقعات آپ نے سن رکھے ہوں، ایجنٹس کو لاکھوں روپے دے کر برباد کرنے والوں کی کہانیاں بھی آپ نے پڑھ رکھی ہوں گی۔

میں آپ کی ملک سے باہر خوشگوار زندگی کے خواب کو چکنا چور نہیں کرنا چاہتا لیکن آپ کو ایک سوال کا جواب ضرور آنا چاہیے کہ آپ ملک سے باہر آ کر کریں گے کیا؟ اور کریں گے تو اس کا روڈ میپ کیا ہوگا؟ وہ کیا ہنر ہے جو آپ کو آتا ہے جو آپ کے لیے ذریعہ معاش بنے گا؟

ہماری ہاں اکثریت بے روزگار یورپ کو کاروبار یا نوکری کی جنت تصور کرتے ہیں، جہاں بس چند گھنٹے کام کرنے سے آپ کے سبھی پرانے معاشی دکھ دور ہو جائیں گے اور چند ہی سالوں میں خوشحالی آپ کے در و دیوار پر دستک دے گی، ہمارے کھاریاں کی طرف رہنے والے ایک دوست کا کہنا ہے کہ ہمارے علاقے سے لوگ شریکہ بازی اور مقابلہ بازی میں بھی چلے آتے ہیں کہ اچھا فلاں کا بچہ باہر ہے تو ہمارا بھی جائے گا، اور اس کے لیے چاہے کوئی بھی حیلہ کیوں نہ اختیار کیا جائے۔

باہر کی روشن زندگی کے خاکے میں رنگ بھرنے والی درجنوں کہانیاں ہمارے اردگرد موجود ہیں جو لوگوں کے لیے مہمیز کا کام کرتی ہیں، کیسے ستّر کی دہائی میں آئے ہوئے پاکستانیوں نے یہاں نام اور پیسہ کمایا اور ان کی نسلیں کی نسلیں اب یورپ آ کر آباد ہو گئیں، اور انہی لوگوں نے اپنے اپنے گاؤں میں محلات کھڑے کر رکھے ہیں۔

لیکن تیس چالیس سال پہلے حالات آج سے بہت مختلف تھے، اس زمانے میں تو اکثریت یورپی ملکوں کے لیے ویزہ بھی درکار نہ تھا، بس پاسپورٹ اور ٹکٹ لی اور ملک سے چلے آئے، تیس چالیس پہلے تو یہاں کی کرنسی بھی پاکستان سے طاقتور نہ تھی، ملک میں تھوڑی بہت زمین رکھنے والے بھی سمجھتے تھے کہ اپنی زمین، جائیداد کو چھوڑ کر پردیس کاہے کو جائیں گے؟ اس لیے ہی سب سے پہلے ان علاقوں کے لوگ ملک سے باہر نکلے جن کے پاس زرخیز زمینوں کی کمی تھی۔

پھر پاکستان کے معاشی حالات برے ہوتے چلے گئے، روپے کی قیمت گرتی چلی گئی، مسائل میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور بیرون ملک بہتری آتی چلی گئی، یہاں کمایا ہوا روپیہ پاکستان جا کر ضرب کھانے لگا، یہاں افرادی قوت کی کمی تھی اس لیے یہاں ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور اکثریت کی قسمت بدل گئی۔

لیکن آج کا یورپ آج کے تیس سال پرانے یورپ سے بہت مختلف ہے، پہلے کی طرح سے نوکری کرنے کے مواقع موجود نہیں، سمارٹ مشینزی نے لوگوں کی ضرورت کو کم کردیا ہے، سچ یہ ہے کہ پچھلے دنوں گرین کارڈ پر اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی کھیپ ڈنمارک میں آئی ہے، اس گرین کارڈ کو کلین کارڈ کا طنزیہ نام دیا گیا کیونکہ کم از کم ماسٹر تعلیم رکھنے والے لوگ صفائی ستھرائی اور معمولی کاموں پر مجبور ہیں، جب ایک کم تعلیم یافتہ کے مقابل ایک پڑھا لکھا مزدو دستیاب ہو تو ان پڑھ کو کیونکر کام ملے گا؟

لیکن پھر بھی کچھ ایسے کام ہیں جن کی یہاں پر مانگ ہے، جیسے اگر آپ کو پلمبگ، الیکٹریشن، یا موٹر مکینکی میں مہارت ہے، یا ایسا ہنر آتا ہے جو کم لوگوں کے پاس ہے تو آپ کے گزارے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں، لیکن ان کے لیے بھی یہاں آ کر آپ کو بہت سے کڑے مراحل سے گذرنا پڑتا ہے لیکن پھر بھی اگر آپ کو کوئی ہنر آتا ہے تو آپ کے زندہ بچنے کی امید زیادہ ہے۔ اس لیے اگر آپ نے طے کر ہی لیا ہے کہ پاکستان سے باہر قسمت آزمائی ضرور کرنی ہی ہے تو تو خدا کے لیے کوئی ہنر ضرور سیکھ لیں۔

اگر کوئی ہماری حکومتوں کو سمجھا پائے کہ کہ وہ پاکستان میں بین الاقوامی معیار کے ووکیشنل ادارے قائم کریں جہاں کم پڑھے لکھے لوگوں کو تربیت دی جا سکے اور وہ کسی بھی ملک میں جا کر باآسانی روزگار کے قابل ہو سکیں، اور ایسے ادارے حکومتی لیول پر دوسرے ممالک سے رابطہ کرکے کسی بھی ملک کی مطلوبہ مہارت کے مطابق بھی لوگوں کو تیار کر سکیں۔ بس اندھے خوابوں کے سہارے ایسے بے چارے کشتیوں پر چڑھ جاتے ہیں، جانوروں سے بدتر زندگی اختیار کرتے ہیں کیونکہ سنٹرل سسٹم میں بغیر رجسٹریشن کے آپ کسی ڈاکٹر کے پاس بھی نہیں جا سکتے، جس کی وجہ ایسے لوگ کسی نہ کسی دیسی کی عملی طور پر غلامی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ وہ بدتر زندگی جس سے بھاگ کر بے چارے آئے ہوتے ہیں، اس سے بھی بدتر زندگی کا شکار ہو جاتے ہیں، اگر ایجنٹ کے پیسوں کے لیے لوگوں سے ادھار کھا چکے ہوتے ہیں تو ایسے لوگوں کے واپسی کے راستے بھی مسدود ہو چکے ہوتے ہیں۔ یہ جن لوگوں کے سہارے اپنے وطن سے نکلے ہوتے ہیں، ایسے سجن ان کو پہچاننے سے انکار کر دیتے ہیں۔

کاش کی والدین اپنے بچوں کو باہر بھیجنے سے پہلے ایک سوال خود سے اور اسے بچے سے پوچھیں کہ وہ باہر جا کر کیا کام کرسکتا ہے؟ کاش حکومتیں سوچیں کہ ان کے شہری اس حد تک تنگ کیوں آئے ہوئے ہیں کہ دس دس لاکھ روپیہ خرچ کرکے باہر بھاگنے کی سوچ رکھتے ہیں؟ اتنے سرمائے سے وہ اپنے ملک میں کاروبار کیوں نہیں کرنا چاہتے؟

Comments

رمضان رفیق

رمضان رفیق

رمضان رفیق دنیا گھومنے کے خواہشمند ہیں اور اسی آرزو کی تکمیل کے لیے آج کل کوپن ہیگن میں پائے جاتے ہیں۔ وہ پاکستان میں شجر کاری اور مفت تعلیم کے ایک منصوبے سے منسلک ہیں۔ انہیں فیس بک پر یہاں فالو کریں۔ ان کا یوٹیوب چینل یہاں سبسکرائب کریں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.