میں نہیں جانتا! میں تو بہت زمانوں سے مسلمان ہوں - ابو حسن

شیخ محمد العریفی سعودی عرب کے ایک نوجوان نہایت ہی خوبرو عالم دین ہیں ان کا شمار فی البدیہ اور دور حاضر کے مشہور ترین علماء میں ہوتا ہے، اپنی بذلہ سنجی، ظرافت اور پر مزاح طبیعت کی وجہ سے عوام میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں، ذیل میں ان کے کچھ ذاتی اور دوسروں کے ان کی زبانی دلچسپ واقعات پیشِ خدمت ہیں:

شیخ محمد العریفی نے کسی اور عالم کے ساتھ گزرا ایک واقعہ سنایا وہ عالم بتاتے ہیں کہ میرا گھر مسجد سے متصل تھا اور رات کے پہر میرے گھرکی گھنٹی بجی میں اٹھا پلنگ سے اور جاکر دروازہ کھولا سامنے ایک سعودی نوجوان کھڑا تھا اور حلیے سے کو ئی لاابالی سا لگتا تھا اس نے سلام کیا میں نے جواب دیا، دونوں کے درمیاں ہونے والی گفتگو پیش خدمت ہے

نوجوان : اے شیخ، دو ہندو میرے ہاتھ پر اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں

شیخ : تعجب سے تمہارے ہاتھ پر؟ کیونکہ جیسا اس کا ظاہری حلیہ تھا، اس بات نے مجھے چونکنے پر مجبور کردیا اور مجھے لگ رہا تھا کہ کہیں اس نے کوئی نشہ تو نہیں کیا ہوا؟ میں نے پوچھا وہ لوگ کہاں پر ہیں؟

نوجوان : وہ لوگ میری گاڑی میں ہیں

شیخ : ٹھیک ہے میں ابھی آتا ہوں کپڑے تبدیل کرکے تم یہیں ٹھہرو، میں نے جلدی سے کپڑے تبدیل کیے اور باہر آیا اور پوچھا کہاں ہے تمہاری گاڑی؟

نوجوان : آپ میرے ساتھ چلیں میں آپ کو گاڑی تک لے جاتا ہوں

شیخ : ٹھیک ہے، اور جب میں گاڑی کے پاس پہنچا تو کھڑکی سے مجھے دو ہندی بیٹھے دکھائی دیے اور اس کی بات کی تصدیق ہوگئی کہ وہ جو کہہ رہا تھا وہ سچ تھا، اندر سے ان لوگوں نے مجھے سلام کیا اور ٹوٹی پھوٹی عربی میں بولے ہم اسلام میں داخل ہونا چاہتے ہیں، میں اس نوجوان کی طرف متوجہ ہوا اور اس سے پوچھا تم مجھے ان کا پورا قصہ سناؤ

نوجوان : میری گاڑی خراب ہوگئی تھی اور میں ٹھیک کروانے جس ورکشاپ میں گیا یہ لوگ وہاں کام کرتے ہیں، میں نے ان سے پوچھا مسلمان ہو؟ جواب ملا نہیں، میں نے کہا تم مسلمان کیوں نہیں ہو؟ جواب ملا ہمیں کسی نے اسلام کے بارے میں بتایا ہی نہیں، تو ہمیں کیا خبر کہ اسلام کیا ہے؟ میں نے کہا ٹھیک ہے میں تمہیں ہندی زبان میں اسلام کے متعلق کچھ کتابیں لاکر دوں گا تم لوگ پڑھنا، یہ کہہ کر میں آگیا

شیخ : میں اس نوجوان کی فکر پر بہت حیران ہوا حالانکہ عمومی طور پر لوگ ورکشاپ میں جاتے ہیں اور یہ سوال کسی کو بھی پوچھنے کی ضروت نہیں پڑتی " تم مسلمان ہو یا نہیں؟ " ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے کہ گاڑی اچھے سے ٹھیک کرنا، لیکن اس کی فکر لوگوں کے دین کی تھی، اللہ اکبر

نوجوان : میں واپس آکر" دعوت و ارشاد " کے مرکز میں گیا اور ہندی زبان میں غیر مسلموں کو اسلام کی دعو ت و تبلیغ کے متعلق کتابیں لیں اور دوسرے دن ان لوگوں کو دے دیں، ایک ہفتہ بعد میں ان کے پاس گاڑی متعلق پوچھنے کے لیے آیا تو انہوں نے مجھ کہا کہ ہم نے وہ کتب پڑھ لیں ہیں اورہمیں مزید کتب لادو، میں نے ان کو مزید کتب لاکر دیں۔

کچھ عرصے کے بعد جب میں واپس ان کی ورکشاپ میں گاڑی پر آیا اور جونہی میں نے گاڑی روکی ایک دائيں اور دوسرا بائيں طرف سے آیا اور آتے ہی بولے ہم نے اسلام میں داخل ہونا ہے اب ہمیں بتاؤ ہمیں کیا کرنا ہوگا اس کے لیے؟ میں اس حالت سے خود پریشان ہوگیا اور ان کو کہا "دیکھو دوست میں تو خود بہت زمانوں سے مسلمان ہوں مجھے نہیں پتہ کہ اس کے لیے کیا کرنا ہوگا؟ " ہاں میں تمہیں کسی عالم کے پاس لے جاتا ہوں وہ اس معاملے میں مدد کردینگے، اور میں ان کو لے کر آپ کے پاس اس وقت حاضر ہوں -

دوسرا واقعہ یوں ہے کہ ایک بھارتی مسلم گرمیوں کے ایام میں دوپہر کے وقت بیت اللہ کاطواف کررہا تھا، گرمی کی شدت سے بے ہوش ہوگیا اس کو جلدی سے اٹھا کر "اجیاد ہسپتال " منتقل کیا (اگر آپ بیت اللہ کے دروازے ا جیاد سے باہر نکلیں تو یہ سامنے اجیاد روڈ کے کونے پر ہی یہ ہسپتال واقع ہے ) اس کو گلوکوز وغیرہ لگادیا گیا کچھ چار گھنٹے بعد اس کو افاقہ ہوا اب اس کو ہوش آنا شروع ہوا اور دواؤں کے اثر سے اس کی کیفیت عجیب تھی اس کو خبر ہی نہیں کہ یہ کہاں ہے؟ کمرہ صاف ستھرا اور سفید دیواریں کمرے میں دوائيوں کی بو سے اور بیڈ پر سفید چادریں، اب اس اللہ کے بندے کو لگا کہ مرنے کے بعد یہ جنت میں پہنچ گیا ہے، ابھی اس نے بیڈ پر سے ٹانگیں لٹکائیں ہی تھی کہ دروازہ کھلا اور فلپین سے تعلق رکھنے والی نرسیں اندر داخل ہوئیں، یہ رنگت میں سفیدی مائل اور لباس بھی سفید اور مریض نے ایک دم آواز لگائی " حور العین " اب ان نرسوں کو سمجھ ہی نہیں آئی کہ یہ کیا کہہ رہا ہے اور یہ یک بعد دیگر کمرے چاروں داخل ہوئی اور مریض حور العین کہتے ہوئے بیڈ سے نیچے اترنے لگا تو نرسیں جلدی سے اس کی طرف لپکیں کہ کہیں گر ہی نہ جائے کیونکہ ابھی اس پر دوائیوں کا اثر ہے اور دوسرا پہلے بھی یہ گر کر بے ہوش ہوا تھا اور جب یہ مریض کی طرف بڑھیں تو وہ عربی میں بولا " واحد واحد " ایک، ایک کرکے آؤ-

تیسرا واقعہ یوں ہے کہ مجھے وعظ کے لیے ایک دیہات میں جانا تھا ائيرپورٹ سے گاؤں کا ایک نوجوان مجھے لینے آیا اس نے لباس ماشاء اللہ بہت صاف ستھرا پہنا تھا سر پر نیا شماغ تھا ( سعودی لوگ سرخ دھاری دار رومال جو سر پر اوڑھتے ہیں) سلام ودعا کے بعد وہ مجھے اپنی گاڑی تک لے آیا جوکہ بہت پرانی تھی اور رنگ اکھڑا ہوا تھا تو میں نے کہا تم ظاہری طور پر تو بہت صاف ستھرے دکھائی دیتے ہو اور گاڑی کی حالت؟

نوجوان : میری ابھی دو ہفتے قبل ہی شادی ہوئی ہے

شیخ محمد العریفی : اللہ کے بندے تم قسطوں پر کوئی گاڑی لے لیتے تاکہ تمہاری بیوی کو بھی اچھا لگتا

نوجوان : دو لاکھ ریال تو میں نے مہر ادا کیا ہے اور 4 ہزار ریال میری تنخواہ ہے اب اس میں، میں اور کیا کرسکتا ہوں؟

شیخ محمد العریفی :اتنا زیادہ مہر تم لوگ مہر ميں کمی کیوں نہیں رکھتے؟

نوجوان : ایک گزارش ہے کہ آپ وعظ کے آخر میں مہر کے بارے میں بھی تھوڑی بات کرنا تاکہ باقی کے نوجوانوں کے لیے آسانی ہو نکاح میں۔

شیخ محمد العریفی : اس سے میں نے وعدہ کیا کہ إن شاء الله میں ضرور یہ بات بھی کروں گا، مسجد پہنچے نماز کے بعد میں نے تقریر شروع کی جو "والدین کے حقوق" پر تھی اور مسجد میں سب لوگ ایک خاص قبیلے سے تعلق رکھنے والے تھے اوراس گاؤں میں اسی قبیلے کے لوگ تھے، میں نے تقریر آخری حصے پر پہنچ کر تقریر کو مہر کے موضوع پر تبدیل کرنے لگا کہ اتنے میں ایک شخص نے سوال کردیا مہر کے متعلق، میں نے اس کو جواب دینے کے بعد تقریر کو مہر کے موضوع میں بدل کر تقریر کی اور کہا کے اے بنو فلاں (قبیلے کا نام لے کر) تمہاری بیٹیاں نبی ﷺ کی بیٹیوں سے افضل ہیں؟ انہوں نے تو مہر یوں بڑھا چڑھاکر نہیں لیا تو تم لوگ ایسا کیوں کرتے ہو؟

میرے سامنے ہی ایک ضعیف العمر شخص بیٹھا تھا اب وہ سمجھا میں نے ان کے قبیلے کی لڑکیوں کو گالی دی ہے، وہ بولا کیا ہوا ہماری بیٹیوں کو؟ اتنے میں دوسرا اس کو پوچھتا ہے، یہ ہماری بیٹیوں کے بابت بات کر رہا ہے؟ تیسرا کھڑا ہوا، تم ہماری بیٹیوں کے متعلق بات کرتے ہو؟ بس پھر کیا مسجد میں شور برپا ہوگیا قریب تھا کہ وہ مجھے مارنے شروع کرتے، اس مسجد میں شہر کے قاضی بھی موجود تھے جو کہ وعظ سننے کے لیے آئے تھے وہ کھڑے ہوئے اور غصے سے سب کو ڈانٹا اور کہا اللہ کا ذکر کرو، دیہاتی پھر سے کہنے لگے اس نے ہماری بیٹیوں، قاضی صاحب نے کہا خاموشی اختیار کرو اور اللہ کے ذکر پر دھیان دو، ان کا علاقے میں بہت رعب اور دبدبہ تھا، سبھی خاموشی سے بیٹھ گئے، قاضی صاحب نے مجھے کہا شیخ آپ اپنا وعظ جاری رکھیں کوئی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

میں نے تقریر شروع کی اور کہا کہ تمہاری بیٹیاں سب سے اچھی، تمہاری بیٹیوں جیسی بیٹیاں پوری دنیا میں کہیں نہیں، میں آپ کی بیٹیوں کو برا نہیں کہہ رہا تھا میرا مقصد آپ کو احکامات دینی بتانا تھا، نبی ﷺ کے نزدیک مہر کا مال زیادہ اہم نہیں تھا بلکہ آپ ﷺ کے نزدیک دین اور اخلاق افضل تھا اور یہی بات میں آپ لوگوں کو سمجھانا چاہ رہا تھا۔

Comments

ابو حسن

ابو حسن

میاں سعید، کنیت ابو حسن، 11 سال سعودی عرب میں قیام کے بعد اب 2012ء سے کینیڈا میں مقیم ہیں الیکٹرک کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ دین کے طالب علم اور اسلامی کتب و تاریخ سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔ دعوت الی اللہ اور ختم نبوت کو اپنا مقصد سمجھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */