مدارس کے طلباء بہتر کیریئر کے لیے - وسیم گل

۱۔ اس چیز کو یقینی بنائیں کہ انکی عربی زبان کی مہارت “ادب الجاہلی” کا احاطہ کرتی ہو کیونکہ اسے سمجھے بغیر فہم قرآن میں نقص رہ جانے کا احتمال ہوسکتا ہے۔

۲۔ جس مکتب فکر کے مدرسے میں بھی تعلیم حاصل کریں’ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اپنے مکتب فکر کی آراء کی دلیل کا علم حاصل کریں۔

۳۔ اپنے مکتب فکر کے ساتھ ساتھ دیگر مکاتب فکر کی آراء اور متعلقہ دلیل کا بھی علم ہو۔ اس کے لیے ھر مکتب فکر کے اوریجنل مصادر علم سے رجوع کریں ورنہ غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں

۴۔ مختلف مکاتب فکر کےفقہی اصولوں کو مخالفانہ و معاندانہ نظروں سے دیکھنے کی بجائے انکو معاون و مفید گردانیں اور سب کے فقہی اصول و قواعد سے فائدہ اٹھائیں۔

۵۔ کسی بھی دوسرے شعبہ علم مثلاً عصری علوم و نیچرل سائنسز کے سامنے کسی بھی قسم کے احساس کمتری کا شکار نہ ہوں بلکہ پوری خود اعتمادی کے ساتھ اپنے شعبہ علم میں گہرا رسوخ پیدا کریں

۶۔ خود کو عصری علوم کے حاملین سے برتر سمجھنے کی غلطی دوسری انتہا ہے جس کا کوئی جواز نہیں کیوں کہ علوم سارے کے سارے اللہ ہی کے ہیں۔ اس سے معاشرہ مولوی و مسٹر کی تقسیم سے محفوظ ہو جاتا ہے

۷۔ روزگار و معاش سے غفلت کی غلطی نہ کریں اور اپنے آپ کو صرف مسجد یا مدرسہ تک محدود نہ سمجھیں کیونکہ اسطرح ویژن محدود رہ جانے اور معاشرے پر انحصار کا احتمال پیدا ہو جاتا ہے جو کہ محمود نہیں

۸۔ اپنی سند کے ساتھ ساتھ بیچلرز و ماسٹرز لازمی کریں بلکہ فی زمانہ اسے فرض عین سمجھیں۔ کوشش کریں کہ یہ ڈگریاں جن مضامین میں ہوں وہ عملی ذندگی میں غیر متعلق نہ ہوں

۹۔ اردو’ عربی کے علاوہ ایک مزید بین الاقوامی زبان مثلاً انگلش’ فرنچ’ جرمن’ چائنیز میں مہارت پیدا کریں۔ نیز ماڈرن ریسرچ میتھاڈالوجی بھی سیکھیں

یہ بھی پڑھیں:   مولانا فضل الرحمن کی خدمت میں - آصف محمود

۱۰۔ سرکاری و غیر سرکاری اداروں’ مقابلے کے امتحان میں دلچسپی لیں اور خود کو معاشرے سے متعلق بناتے ہوئے اپنے حاصل کردہ علم شرعی و عصری کے زریعے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

Comments

وسیم گل

وسیم گل

وسیم گل ٹیلی کام کے شعبے سے وابستہ ہیں اور مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اسائنمنٹس کے سلسلے میں دنیا کے مختلف ممالک میں خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.