الٹا بیانیہ - محمد عامر خاکوانی

میاں نواز شریف کی سپریم کورٹ سے ایک بار پھر نااہلی کا فیصلہ ممکن ہے کچھ حلقوں کے لئے حیرت کا باعث رہا ہو، قانونی معاملات کو سمجھنے والوں کے لئے یہ ایک سادہ کیس تھا اور یہی فیصلہ آنا ہی متوقع تھا۔ میاں نواز شریف کو صادق اور امین نہ ہونے کی بنا پر نااہل کیا گیا، ان کی وزارت عظمیٰ ختم ہوئی۔ اس فیصلے کا منطقی نتیجہ یہ تھا کہ وہ کسی بھی قسم کے پبلک اہمیت رکھنے والے عہدے کے اہل نہیں ہیں۔ میاں نواز شریف کے قانونی ماہرین پرافسوس ہوتا ہے جنہوں نے انہیںالیکشن ایکٹ 2017 کے ذریعے مسلم لیگ ن کا سربراہ رہنے کا مشورہ دیا۔ جب یہ قانون اسمبلی سے منظور ہوا، اس وقت اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ عدالت جوڈیشل ریویو کرکے یہ شق 203ختم کر دے گی۔ ممکن ہے مسلم لیگ ن کی قیادت نے یہ سوچا ہو کہ عدلیہ کے خلاف مہم چلا کر، جلسوں میں ججوں کا نام لے کر ان پر طنز کے تیر چلانے سے عدلیہ دباﺅ میں آ جائے گی۔ انکی بدقسمتی کہ عدلیہ نے دباﺅ میں آنے کے بجائے اس کا مقابلہ کرنے اور آزادانہ فیصلے کرنے کی ٹھان لی۔

قانونی اعتبار سے اس فیصلے کو سمجھنا مشکل نہیں۔ آئین کا آرٹیکل تریسٹھ اے کے تحت سیاسی جماعت کے سربراہ کی ذمہ داریوں میں سے تین ایسی ہیں جو پارلیمانی پارٹی کو پارٹی لیڈر کی ہدایات کا پابند بناتی ہیں۔وزیراعلیٰ/وزیراعظم کے عہدے کے لئے ووٹنگ، اعتماد یا عدم اعتماد کی تحریک پر رائے شماری،بجٹ یا آئینی ترمیم پر ووٹنگ۔ پارلیمانی پارٹی ان تمام امور پر پارٹی لیڈر کی ہدایات پر عمل کرنے کی پابند ہے اور نہ ماننے پر پارٹی لیڈر کسی رکن اسمبلی کے خلاف الیکشن کمیشن کو خط لکھ سکتا ہے کہ اسے نااہل قرار دیا جائے ۔ عدالت نے بجا طور پر یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر کوئی شخص رکن اسمبلی بننے کا اہل نہ ہو یا پھر بعد میں عدالت نے اسے نااہل قرار دیا ہو تو ایسا شخص کس طرح اپنی پارلیمانی پارٹی کو کنٹرول کر سکتا ہے؟ دستور کی دفعہ سترہ میںلوگوں کا یہ حق تسلیم کیا گیا ہے کہ وہ سیاسی جماعت بنا سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے بھی یہ بات کی ،مگر یہ لکھا کہ قانون نے ان پر کئی حدود وقیود مقرر کی ہیں، جن کی پابندی کرنا ہوگی۔

رہی یہ بحث کہ پارلیمنٹ سپریم ہے یا آئین ، پارلیمنٹ کے قوانین کو عدالت کس طرح ختم کر سکتی ہے؟ ان سوالات پر دو دن سے بہت کچھ لکھا اور کہا جا رہا ہے۔ ہر ایک پر یہ واضح ہوچکا کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ پاکستانی پارلیمنٹ کے کئی قوانین کو عدالتوں نے پہلے بھی آئین سے متصادم ہونے پر ختم کیا، ایک دو بار میاں صاحب ہی کے پچھلے ادوار میں کیا گیا۔ یہ نکتہ بھی سمجھ آ گیا ہوگا کہ بات کسی کے سپریم ہونے کی نہیں، ہر ایک کے اپنے دائرہ کار کی ہے۔ جو کام عدالت نے کرنا ہے، وہ اسی کی ذمہ داری ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کو قانون سازی کا حق ہے، مگر انہیں آئین اور اس کی روح کو سامنے رکھنا ہوگا۔ ایسا نہیں کہ الل ٹپ جو جی میں آئے یا جوکسی اکثریتی جماعت کا لیڈر طے کر لے، وہ قانون بن جائے گا۔ ایسا کہیں پر نہیں ہوتا۔ ہمارے پڑوسی ملک بھارت اور نہ امریکہ جیسے جمہوری ممالک میں ایسا ہوتا ہے۔ہر ملک کی پارلیمنٹ اگر حدود سے تجاوز کرے ، آئین سے متصادم قانون سازی کرے تو اعلیٰ عدالتیں ہی انہیں آئین کی کھینچی گئی لکیر سے باہر نہیں نکلتے دیتیں۔ کسی کو اچھا لگے یا برا، یہ کام عدالت ہی کرتی ہے، اسی نے کرتے رہنا ہے۔دوسروں پر تنقید کرنے کے بجائے اراکین پارلیمنٹ کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ ایک نااہل شخص کے پارٹی صدر بن جانے کا قانون پاس کر کے انہوں نے اخلاقیات کی دھجیاں اڑا دیں۔ مقام شکر ہے کہ عدالت کی مداخلت سے ان کا بھرم رہ گیا۔ تاریخ کی کتاب میں جو سیاہ باب انہوں نے رقم کرنے کی کوشش کی، وہ جلدبندی ہونے سے پہلے ہی پھاڑ کر نکال باہر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کا خطاب، وابستہ توقعات اور میری رائے - منیم اقبال

ایک سوال یہ پوچھا جا رہا ہے کہ میاں نواز شریف صاحب کو نشانے پر کیوں رکھا ہے، باقیوں کا احتساب کس لئے نہیں ہو رہا؟ایک معروف فیس بکی بلاگر نے لکھا کہ شریف خاندان کا ایک فرزند مع اہل خانہ عدالتی گرفت میں ہے اور دوسرا مع اہل خانہ مکمل طور پر آزاد ہے۔ انہیں نوید ہو کہ دوسرے فرزند کے خلاف متعدد کیسز میں تحقیقات شروع ہو چکی ہیں، ان کے دست راست بیوروکریٹ احد چیمہ کو نیب نے حراست میں لے لیا ہے، دوسرے منظورنظر بیوروکریٹس کے خلاف بھی گھیرا تنگ ہو رہا ہے، معاملہ بڑھے گا تو ممکن ہے شاہی فرزندگان تک جا پہنچے۔ ہمارا تو ماننا ہے کہ جس نے کرپشن کی ہو، اس کا احتساب ہونا چاہیے، وہ بیٹا ہو یا باپ ، بھائی ہو یا بہن۔

جہاں تک میاں نواز شریف کے خلاف فیصلوں کا تعلق ہے، اس میں تعجب کیسا؟ پانامہ سکینڈل آیا تو میاں نواز شریف اور ان کی اولاد ہی سب سے بڑے ملزم بن کر سامنے آئے تھے۔اگر یہ حکومت میں نہ ہوتے تو شائدان پر اتنی توجہ نہ دی جاتی۔ حکمرانوں کا احتساب پہلے اور ترجیحاً کیا جاتا ہے۔ آف شور کمپنی بنانا کوئی جرم نہیں، مگر ان آف شور کمپنیوں کی دستاویزات نے میاں نواز شریف کی اپوزیشن کا وہ الزام ثابت کر دیا جو وہ پچھلے تیس برسوں سے عائد کر رہے تھے۔ لندن کی جائیداد کی ملکیت ماننے سے شریف خاندان ہمیشہ گریزاں رہا۔ پانامہ سکینڈل سے وہ جائیدادیں ثابت ہوگئیں اور پھر یہ سوال اٹھا کہ لندن کی جائیداد کیسے خریدی گئی؟ اگر پاکستان سے پیسہ گیا تھا تو ثبوت دکھائے جایں، اگر غیر قانونی گیا تو وہ منی لانڈرنگ ہے جو ایک سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔ نواز شریف صاحب کے اہل خانہ کا دعویٰ تھا کہ پاکستان سے پیسہ نہیں بھیجا گیا اور انہوں نے جدہ سٹیل مل بیچ کر پیسے بھیجے۔ پھر نت نئے سوالات اٹھتے گئے، جن کے جواب میں قطری خط لانا پڑا، بات نہ بنی تو کیلبری فونٹ سے لکھی دستاویزات اور نجانے کیا کیا کچھ عدالت میں پیش کرنا پڑا۔ عدالت نے شواہد مضبوط ہونے پر وہ کیسز نیب کو بھیج دئیے ،البتہ تکنیکی نکات پر نواز شریف صاحب کو نااہل کر دیا۔ نیب کیسز اب دھڑادھڑ چل رہے ہیں اور اطلاعات یہی ہیں کہ چند ہفتوں میں وہاں سزائیں ملنا شروع ہوجائیں گی ۔ ثبوت مضبوط ہیںاور شریف خاندان کے بچنے کے امکانات بہت کم رہ گئے ۔ مریم نواز کے خلاف کیلبری فونٹ کیس تو ماہرین کے مطابق اوپن اینڈ شٹ کیس ہے۔ اس میں ان کی سزا اور نااہلی یقینی نظر آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لمبے خطبے، بڑے رتبے اور انصاف کی اصل کہانی - سید طلعت حسین

سزائیں ہوئیں تو ایک بار پھر شور مچے گا کہ شریف خاندان کیوں؟ بھائی یہ تو سامنے کی بات ہے کہ ان کے خلاف ہی سارا معاملہ شروع ہوا، ظاہر ہے وہ کسی نتیجے پر تو پہنچے گا۔ یہ بری ہوجائیں گے یا انہیں سزائیں ہوں گی۔ عدالتوں میں یہی تو ہوتا ہے۔ عمل البتہ اس بارتیز ہے کہ عدالتیں کمپرومائز نہیں کر رہیں، نظریہ ضرورت وہ ترک کر چکی ہیں۔ سیاسی جماعت کی صدارت سے نااہلی والا طوق تو اپنی خوشی سے نواز شریف صاحب نے پہنا ہے ۔ اگر قانون میں تبدیلی نہ لاتے تو یہ کیس عدالت میں جاتا ہی نہیں اور نہ فیصلہ آتا۔ اس میں سپریم کورٹ کا کیا قصور ہے؟ کل کو ایسا کوئی اور پنگا نواز شریف صاحب کر بیٹھے، وہ چیلنج ہوجائے تو عدالت کو فیصلہ تو دینا پڑے گا۔

ن لیگی احباب کی ایک اور ادا سمجھ نہیں آرہی۔ ایک طرف وہ خوشی کا اظہار کر رہے ہیں کہ عدالتی فیصلوں سے میاں صاحب کی مقبولیت بڑھ رہی ہے اور اب وہ الیکشن سمجھو جیت ہی گئے ، دوسری طرف شدید پیچ وتاب بھی کھا رہے ہیں کہ عدالت نے فیصلہ کیوں دیا، یہ متعصب، ظالم اور پتہ نہیں کیا کیا ہیں۔ خواجہ نصیرالدین کا واقعہ یاد آتا ہے کہ پڑوسی نے پلیٹ بھیجی تھی ، واپس مانگی تو خواجہ نے اپنا بیانیہ جاری کیا ، پلیٹ میں نے لی ہی نہیں، اگرپڑوسی نے بھیجی تھی تو واپس کر دی تھی اور ویسے بھی پلیٹ پہلے سے ٹوٹی ہوئی تھی۔ سوشل میڈیا پر متحرک ن لیگی پلٹن کا تازہ بیانیہ کچھ یوں ہے، ”ججوں نے فیصلہ دےکر میاں صاحب کو نئی سیاسی زندگی اور بے پناہ مقبولیت دے دی ہے، یہ جج بڑے ظالم اور متعصب ہیں انہوں نے میاں صاحب کے خلاف فیصلہ کیوں دے دیا، فیصلے میاں صاحب کے خلاف کیوںآرہے ہیں، دوسروں کے خلاف کیوں نہیں کئے جارہے؟“یارو! اپنا بیانیہ تو پہلے سیدھا کر لو، تھوڑا صبر کر لو، احتساب کا عمل جب ایک بار شروع ہوجائے تو پھر اسے روکنا شروع کرنے والوں کے بھی اختیار میں نہیں رہتا۔ تھوڑا انتظار کر لیں، سب کھرا کھوٹا ان شااللہ الگ ہو جائے گا۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.