یہ انصاف نہیں ہے - محمد اشفاق

سپریم کورٹ کے گزشتہ روز کے جانبدارانہ فیصلے کے دفاع میں عامر خاکوانی بھائی نے ایک آرٹیکل لکھا جس میں فیصلے کے متعلق ذہنوں میں اٹھنے والے چار ممکنہ سوالات کے انہوں نے پاکستانی آئین، عدالتی فیصلوں اور تاریخی مثالوں کے ذریعے جوابات دیے۔ یہ عامر بھائی کی دیانتدارانہ رائے تھی، تاہم مجھے اس سے دیانتدارانہ اختلاف ہے۔

فیصلے کا پس منظر سمجھنے کے لیے آئینِ پاکستان کے پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کے سیکشن فائیو (ون) کو سمجھنا ضروری ہے- اس سیکشن کے مطابق:
"ہر پاکستانی جو کہ پاکستان کا سرکاری ملازم نہ ہو، سیاسی جماعت بنانے، اس کا رکن بننے، اس سے کسی بھی طرح وابستہ ہونے، سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے یا کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار بننے کا حق رکھتا ہے۔"
یہ سیکشن آئین کے بنیادی حقوق کے آرٹیکل سترہ کی روح کے عین مطابق ہے جو ہر پاکستانی شہری کو سیاسی سرگرمیوں کا حق دیتا ہے۔

1965ء میں پہلے فوجی آمر کے دور میں اس کے ساتھ ایک شرط یا proviso لگایا گیا۔ یعنی
" کوئی شخص کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار نہیں ہوگا اگر وہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 63 یا کسی دیگر نافذالعمل قانون کے مطابق پاکستانی مجلس شوریٰ کا رکن بننے کی اہلیت نہیں رکھتا یا نااہل قرار پایا ہے۔''
اس کا مقصد آمر کے لائے ہوئے ایبڈو کے کالے قوانین کا نشانہ بننے والے سیاستدانوں کو سیاسی جماعتوں کی سربراہی سے روکنا تھا۔

یہ شرط 1975ء میں پاکستانی پارلیمنٹ نے ختم کر دی۔ 2002ء کے پولیٹکل پارٹیز آرڈر میں ایک اور فوجی آمر پرویز مشرف یہ شرط دوبارہ لے کر آیا۔ مقصد اس آمر کے دو سب سے بڑے سیاسی مخالفین بینظیر بھٹو شہید اور میاں نواز شریف کا راستہ روکنا تھا۔ نومبر 2014ء میں انتخابی اصلاحاتی کمیٹی میں پولیٹکل پارٹیز آرڈر پر بحث کے دوران پیپلزپارٹی کے رکن نے تجویز دی کہ اس آمر کی لائی ہوئی شرط کو ختم کر دیا جائے، مسلم لیگ نون نے اس سے اتفاق کیا، تاہم جب نواز شریف کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد الیکشن بل ایوان میں پیش کیا گیا تو پی پی ہی کے اعتزاز احسن نے یہ شرط کلاز 203 شق 1 کے ساتھ دوبارہ لاگو کرنے کی ترمیم پیش کی جسے ایوان نے مسترد کر دیا۔

قارئین اب سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ شرط دو فوجی آمروں کی نشانی اور آئین کی بنیادی روح سے متصادم تھی، اس لیے پارلیمنٹ نے اسے کثرتِ رائے سے ختم کر دیا اور آئین کو اس کی اصل صورت میں بحال کر دیا۔

اس موقع پر پہلے اسی بل میں موجود ایک فارم کو بہانہ بنا کر ختم نبوت کا مسئلہ کھڑا کیا گیا تاکہ پورا قانون ہی متنازعہ بنا دیا جائے۔ جب اس طرح دال نہ گلی تو تحریک انصاف، عوامی مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی اس مذکورہ بالا شق کے خلاف سپریم کورٹ پہنچ گئیں۔

اب آتے ہیں عامر بھائی کے سوالوں اور جوابوں کی جانب

سوال نمبر 1: کیا عدالت پارلیمنٹ کے کسی قانون کو منسوخ کر سکتی ہے؟
عامر بھائی نے جو جواب دیا اس سے اتفاق ہے۔ جوڈیشل ریویو کے تحت عدالتیں بالکل ایسا کر سکتی ہیں بشرطیکہ جیسا کہ عامر بھائی نے فرمایا قانون آئین کی روح، کسی شق یا بنیادی حقوق سے متصادم ہو۔ اوپر آپ سب پڑھ چکے کہ درحقیقت یہ ترمیم آئین کی بنیادی روح کے عین مطابق کی گئی اور یہ آرٹیکل سترہ میں دیے گئے بنیادی حق کو یقینی بناتی تھی۔ ہماری عدلیہ نے آرٹیکل سترہ اے کو یعنی بنیادی حقوق کے آرٹیکل کو آرٹیکل باسٹھ، تریسٹھ کے تابع کرنے کی کوشش کی ہے۔ بنیادی حقوق کی شقیں ہی دراصل آئین کی روح ہیں اور باقی پورا آئین ان شقوں کی تعبیر، تشریح اور عملی اطلاق کو یقینی بناتا ہے۔ یہاں گنگا الٹی کیوں بہائی گئی، یہ ہم سب جان چکے۔ امریکی سپریم کورٹ کا میڈیسن بمقابلہ ماربری مقدمہ بہت مشہور ہے اور جوڈیشل ریویو کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ اس مقدمے میں امریکی سپریم کورٹ نے خود اپنے اختیارات پہ قدغن عائد کی تھی اور یہ قرار دیا تھا کہ عدالت اس مقدمے میں سماعت کا اختیار ہی نہیں رکھتی تھی۔ ہماری سپریم کورٹ اس سے بالکل مخالف سمت جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا - حبیب الرحمن

دوسرا سوال: کسی پاکستانی عدالت نے پارلیمنٹ کے کسی قانون یا ترمیم کو ختم کیا؟
جی بالکل کیا، کرتی ہی رہتی ہیں۔ پاکستانی سپریم کورٹ دنیا کی واحد عدلیہ ہے جو نہ صرف ایک مارشل لاء کو جائز قرار دیتی ہے بلکہ فوجی آمر کو آئین میں من پسند ترامیم کا اختیار بن مانگے بھی عطا کر دیتی ہے۔ البتہ پارلیمنٹ کے بنائے قوانین پر چھری چلانا اس کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ عامر بھائی نے جس اینٹی ٹیررسٹ ایکٹ کی بات کی، وہ ظاہر ہے انصاف کے بنیادی تقاضوں ہی کے منافی تھا۔ یہاں اٹھارہویں ترمیم کے کیس کا حوالہ دینا بے جا نہ ہوگا جہاں عدالت کو قانون کی بعض شقوں یا ان کی تعبیر سے اختلاف تھا تو اس نے ترمیم کو رد کرنے کے بجائے واپس پارلیمنٹ کے پاس بھیج دیا۔ یہ اعتراف تھا کہ قانون سازی صرف اور صرف پارلیمنٹ کا اختیار ہے، اگر کسی قانون میں کوئی خامی یا نقص پایا جائے تو اسے درست کرنا بھی پارلیمنٹ ہی کا کام ہے۔ یہاں احباب کو آئین کی ایک اور شق سے متعارف کرانا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ آرٹیکل 239 کی شق 5 کہتی ہے: " آئین کی کوئی ترمیم، کسی بھی عدالت میں، کسی بھی بنیاد پر چیلنج نہیں کی جا سکتی"۔ اسی آرٹیکل کی شق 6 اعلان کرتی ہے: " کسی شک یا ابہام کو دور کرنے کے لیے یہ واضح کیا جاتا ہے کہ آئین میں مہیا کردہ کسی بھی قانون میں ترمیم کرنے کی پارلیمنٹ کی طاقت کی کوئی حد نہیں ہے۔"

سوال نمبر تین: جب پارلیمنٹ سپریم ہے تواس کا قانون کیوں چیلنج ہوا؟
عامر بھائی کے مطابق ہمارا قانون چونکہ تحریری شکل میں موجود ہے، اس لیے ہمارے ہاں پارلیمنٹ کو سپریم کہنا مغالطہ یا کلیشے ہے۔ اسی تحریری آئین کی ایک شق جیسا کہ اوپر آپ نے پڑھا واشگاف اعلان کر رہی ہے کہ "آئین کی کوئی ترمیم، کسی بھی عدالت میں، کسی بھی بنیاد پر چیلنج نہیں کی جا سکتی" اب بھی اگر کسی کو پارلیمنٹ کی سپریمیسی پر شک ہے تو اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ صرف اور صرف آئین میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق کی محافظ ہے اور ان سے متصادم قوانین کو معطل کرنے یا پارلیمنٹ میں واپس بھیجنے کا اختیار رکھتی ہے۔ اس سے بڑھ کر سپریم کورٹ جو بھی کرتی ہے، وہ جوڈیشل ریویو نہیں جوڈیشل ایکٹوازم کہلاتا ہے۔ قانون سازی نہ سپریم کورٹ کی اجازت کی محتاج ہے، نہ منظوری کی۔

یہ بھی پڑھیں:   بلف کارڈ اور مولانا کا دھرنا - اعزاز سید

آخری سوال: کیا چند افراد عوامی مینڈیٹ کو رد کر سکتے ہیں؟
اس کا سیدھا سا جواب یہ کہ معاملہ آئین اور قانون اور ان میں موجود اختیارات کا ہے۔ عوامی مینڈیٹ لے کر آئے ہوئے شخص یا اشخاص کی طاقت پارلیمنٹ ہوا کرتی ہے۔ وہ پارلیمنٹ میں اپنی عددی اکثریت کی بدولت آئین اور قانون کی حدود میں رہتے ہوئے کوئی بھی قانون بنا سکتے ہیں۔ اگر اس قانون کو معقول عوامی حمایت بھی میسر ہو، وہ آئین سے متصادم بھی نہ ہو اور پھر بھی کسی ادارے میں بیٹھے چار، پانچ افراد اپنی آئینی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے اس قانون کو بلڈوز کر دیں، تو اس پر سوالیہ نشان کھڑا ہوگا۔

اس فیصلے سے متعلق ایک اور بہت بڑا سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے، جس کا عامر بھائی نے ذکر نہیں فرمایا۔

اوپر کی گئی مفصل بحث کو نظر انداز کرتے ہوئے اگر ہم یہ فرض کر بھی لیں کہ جو عدلیہ فرما رہی اور جو ان کے مداحین باور کرا رہے، وہ سب درست ہے، اور ہم غلط، تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب تک میاں نواز شریف کی پارٹی صدارت پر عدالت کا فیصلہ نہیں آیا، یعنی کل تک وہ بجا طور پر پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے ایک قانون کے تحت پارٹی سربراہ کا منصب سنبھالے ہوئے تھے، آپ نے قانون غلط قرار دے دیا، مگر ان کے سابقہ فیصلوں کو کس بنیاد پر کالعدم اور غیرقانونی قرار دیا؟ اس کی بنیاد کیا ہے؟ اگر آپ کی دلیل یہ کہ چونکہ تقرر ہی غیرقانونی تھا اس لیے تمام فیصلے لامحالہ غلط ہونے تھے تو de jure اور de facto میں فرق کرنے میں آخر آپ کو کیا امر مانع تھا؟ پارٹی سربراہ کے تمام فیصلے انتظامی نوعیت کے تھے، جن سے دیگر جماعتوں، پارلیمنٹ، ریاست کے دیگر ستونوں یا سب سے بڑھ کر عوام کے بنیادی حقوق کو کوئی زد نہیں پڑی، پھر عدلیہ نے ایسا کیوں کیا؟

اسی عدالت نے اوقاف کے چئیرمین کو اس کے عہدے سے سبکدوش کیا ہے، یہی عدالت پی ٹی وی کے چئیرمین کی تقرری کا بھی نوٹس لیے بیٹھی ہے۔ عدالت نے صدیق الفاروق کے تمام فیصلوں کو منسوخ کیوں نہیں کیا، جبکہ وہ عوام کے پیسے سے چلنے والے ادارے کے سربراہ تھے۔ عدالت عطاءالحق قاسمی کے ساتھ جو بھی سلوک کرے، ان کے دو سال میں کیے فیصلوں کو منسوخ کیسے کرے گی، جبکہ پی ٹی وی بھی عوام کے پیسوں پر پلنے والا سرکاری ادارہ ہے؟ پھر ایک سیاسی جماعت کے سیاسی سربراہ کے سیاسی فیصلوں کو منسوخ کیوں کیا گیا؟ آخر کیوں؟ کیا ایسا کرنے کی کوئی نظیر آپ کہیں سے ڈھونڈ کر لا سکتے ہیں؟ امریکا، برطانیہ، بنگلہ دیش، بھارت۔۔۔ کہیں سے بھی؟ شاید نہیں، اور شاید اسی لیے آپ نے یہ سوال کرنا اور اس کا جواب دینا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ اس کیوں کا جواب آپ، میں اور اس ملک کا ہر پڑھا لکھا با شعور شہری جانتا ہے۔ یہ الیکشن مینج کرنے کے لانگ ٹرم پلان کا ایک چھوٹا مگر اہم حصہ ہے، الغرضیکہ باقی جو کچھ بھی ہے، یہ انصاف نہیں ہے.