مغربی ممالک کا حجاب اور حجاب زدہ مسلمان - ابو حسن

ترقی پذیر مغربی ممالک میں حجاب زدہ اکثریت سے آمنا سامنا بھی ہوا چند ایک واقعات تحریری شکل میں درج کررہا ہوں۔ چونکہ اِن ممالک میں بسنے والے عام مسلمان گھرانوں کی عورتوں اور لڑکیوں میں حجاب کا مقصد یہ ہے کہ آپ نے حجاب سر پر اُوڑھ لیا تو سمجھو بحثیت مسلمان عورت کے "ستر" کا حق ادا ہوگیا۔ اب نیچے تنگ لباس پہنا ہوا ہے یا ٹائٹ، "مِنی سکرٹ" یا پھر "نیم عُریاں لباس" حتی کہ ایک کو تو ساحل سمندر پر "بِکَنِی" پر حجاب پہنے ہوا دیکھا حالت دیدنی ہوگئی اور اہلیہ کو بتایا تو وہ دیکھ کر ششدر رہ گئی۔

ٹورنٹو کے ساحل سمندر کی طرف ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جس کو "سنٹرل آئس لینڈ" کہتے ہیں اور اس کے ساتھ کچھ اور چھوٹے چھوٹے جزیرے ہیں جن میں ایک منشیات اور اسلحہ کے سمگلروں کی آماج گاہ تھی اور پھر اس پر حکومت نے دھیان دیا اور اِن پر کارروائی کرکے اِن سب چیزوں سے اِس کو صاف کیا۔ گزشتہ برسوں وہاں پر جانے کا پروگرام بنا جس میں خاندان کی 7 فیملیاں تھیں۔ گھر سے پکا کر لے گئے اور ساحل سے فیری پر سوار ہوئے اور سنٹرل آئی لینڈ پہنچ گئے۔ اب ظہر کے بعد اہلیہ، اس کی بہن اور میری بیٹی نے پُل پر جانے کا ارادہ کیا اور یہ آدھے پُل کی شکل کا بنا ہوا ہے اور 300 میٹر سمندرکے اندر تک میں ہے اور کچھ 50 فٹ اونچائی پر ہوگا اور آپ اُوپر جاکر آرام سے دور دور تک دیکھ سکتے ہیں۔

اب ہم اس طرف کو چلنے لگے اور میری نظریں اچانک ایک منظر کو دیکھ کر حیران رہ گئیں اوروہ ایک پل ابھی تک کی زندگی کا عجیب تجربہ تھا اور میں نے جلدی سے اپنا رخ دوسری طرف کرلیا اور اہلیہ کو کہا میری داہنی طرف دیکھو حجاب کا بہترین استعمال۔ اس کی جو نظر پڑی تو ششدر رہ گئی اور استغفار پڑھنے لگی۔

یہ منظر کچھ یوں تھا کہ ایک عرب لڑکی "بِکَنِی" پر حجاب اُوڑھے ہوئے تھی اور وہ ظاہری طور پر اپنے مسلمان ہونے کی پہچان دکھا رہی تھی اور یہ واقعہ واپس آکرجب اہلیہ نے سب رشتہ دارعورتوں کو سنایا تو سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے کیونکہ یہ سبھی برقعہ اور نقاب والیاں تھیں۔

ایک مرتبہ چھٹی کے دن میرا برادر نِسبتی مجھے کہنا لگا کہ میں "اقبال فوڈ" پر جارہا ہوں آپ نے کچھ لینا ہے تو چلیں۔ یہ ایک بڑی دکان ہے جہاں پر سودا سلف کی تمام چزیں اور ہر قسم کا تازہ گوشت بھی موجود ہوتا ہے اور گوشت والا حصہ الگ ہے جہاں پر 15 کے قریب قصاب کام کرتے ہیں اور ٹوکن لیکر اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور باری آنے پر جو چاہیے وہ آپ کو دے دیتے ہیں۔ اب یہ گوشت والے حصہ کی طرف چلا گیا اور میں دوسری طرف۔ بہرحال جب ہم دونوں لائن میں لگے اور قیمت ادا کرکے نکلے۔ اس دوران مجھے بتانے لگا کہ بھائی ابھی ایک لڑکی آئی اور اس نے یوں لباس پہنا تھا اور وہاں پر ایک نقاب والی آپا کھڑی تھیں جن کے ساتھ دو بیٹیاں حجاب پہنے تھيں 8 سے 10 برس کی اور وہ اپنی ماں سے پوچھ رہی تھی کہ ایسا لباس پہن سکتے ہیں؟ اب ماں ان کو بتا رہی تھی کہ ابھی ادھر نہیں دیکھو، گھر جاکر سب بتاؤں گی۔

اب یہ مجھے بتا رہا تھا اور میرا دھیان کچھ خاص اس بات پر نہ تھا اور ہم گاڑی میں بیٹھے اور سرخ لائٹ کی وجہ سگنل پر جاکر رکے اور پیدل چلنے والے سامنے سے گزر رہے تھے کہ میری نظر سامنے کے منظر پر پڑی تو ساری بات ایک فلم کی صورت میں آنکھوں میں چل گئی۔

ایک افغانی نژاد لڑکی سڑک پار کرنے کے لیے چل رہی تھی اور اس نے سر پر حجاب اوڑھا ہوا اور نیچے "منی سکرٹ" پہنی ہوئی جس میں اس کی تقریباً پوری ٹانگیں ننگی دکھائی دے رہی تھیں نظر پڑتے ہی "لاحول ولا قوۃ " پڑھا۔

وہ بچیاں اپنی ماں سے حجاب کے ساتھ "منی سکرٹ" پہننے کے بارے میں سوال پوچھ رہی تھیں کہ ایسا لباس ہم بھی پہن سکتے ہیں؟ اور ماں فی الوقت خاموش کروا رہی تھی اور ایسے گھٹیا پن پر پیچ و تاب کھارہی تھی کہ اب اس کا برا اثر میری بیٹیوں کے ذہن میں نہ کہیں بیٹھ جائے۔

کینیڈا میں میرا پہلا رمضان تھا۔ اب تراویح کے لیے قریبی مسجد میں ہم دونوں میاں بیوی جاتے اور تراویح ختم ہونے پر مرد حضرات کھڑے ہوکر اپنی عورتوں کا "کار پارکنگ" میں انتظار کر رہے ہوتے اور اس دوران ایک دوسرے سے سلام و دعا کا تبادلہ ہوتا رہتا۔ ایک بات مجھے پریشان کررہی تھی اور وہ ایک پاکستانی بھائی کی اہلیہ تھی جو باقاعدگی سے مسجد آتیں لیکن ان کا لباس ایسا ہوتا کہ سمجھو نماز کے بعد مرد حضرات کے صالحہ اعمال غارت یعنی "دعوت نظارہ"!

ایک شام اس بھائی سے سلام و دعا کے بعد بات کی کہ آپ دونوں اتنی محبت اور طلب سے تراویح کے اہتمام کے لیے آتے ہیں اور ظاہری سی بات ہے اپنے لیے اور اللہ کو راضی کرنے کے لیے آتے ہیں لیکن کبھی آپ نے اپنی اہلیہ کے لباس پر غور کیا ہے؟ وہ "نائٹی" پہن کر آتی ہیں جسم میں واضح جسم دکھائی دے رہا ہوتا ہے اور یہ لباس گھر میں اپنے شوہر کے لیے ہے نہ کہ مسجد میں پہن کر آنے کے لیے اللہ کے لیے اس بات پر دھیان دیں اور یہ نہ سمجھیں کہ کینیڈا میں ہیں تو اسلام نے اس قسم کے لباس کی اجازت دے دی بلکہ 10 قسم کی عورتوں پر سیدالاولین و الاخرین ﷺ نے خود لعنت فرمائی "جن میں ایک ننگے بدن دکھنے والی" اور ساتھ میں یہ فرمایا کہ 10 قسم کی عورتیں جنت میں داخل نہ ہوں گی حتیٰ کہ اس کی خوشبو بھی نہ سونگھ پائیں گی حالانکہ جنت کی خوشبو 500 سال کی مسافت سے سونگھی جاسکے گی، أو كما قال۔ تو جناب اگر میری کوئی بات بری لگی ہو تو معذرت چاہتا ہوں اور مزید جاننے اور تصدیق کے لیے آپ امام و خطیب سے ضرور رابطہ کیجیے گا۔

یہ بھائی بولے کہ نہیں نہیں معذرت والی کوئی بات نہیں۔ آپ نے اچھا کیا مجھے بتایا اور پھر سلام کیا اور چلے گئے۔ اہلیہ نے پوچھا کن سے باتوں میں مشغول تھے؟ میں نے مذاقاً کہا کہ تمہاری "دعوت نظارہ" والی سہیلی کے شوہر سے، تو اہلیہ نے مجھے تلملا کر جواب دیا "میری کوئی سہیلی ایسی نہیں۔"

ٹورانٹو میں ہر سال دسمبر کے آخری دنوں میں ایک اسلامی کانفرنس منعقد ہوتی ہے جس کا نام "RIS" یعنی "Reviving the Islamic Spirit" اور اس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شرکت کرتے ہیں اور اس کے بانی دو نوجوان ہیں جن میں ایک میرا بہت قریبی رشتہ دار ہے اور اسے چونکہ شروع سے دینی اعتبار اور میرے عقیدہ کے بارے میں علم ہے تو کبھی بھی مجھے اس نے کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہیں دی۔ اہلیہ 10 برس قبل 2 مرتبہ اس میں شرکت کرچکی ہے کیونکہ خاندان کے لوگ اس میں مدد کے لیے شمولیت کرتے لیکن جب اس کانفرنس کے اصل حالات سے واقفیت حاصل ہوئی تو جانا چھوڑ دیا۔ اس کانفرنس کے بارے میں اہلیہ نے کچھ اس انداز میں بتایا ہے کہ یہ ایک اسلام کے نام پر مسلمان لڑکے لڑکیوں کا "ڈیٹنگ یا سیٹنگ پوائنٹ" ہے یا جن کی ابھی تک شادی نہیں ہوئی تو ان کو لوگ اس کانفرنس میں شرکت کا مشورہ دیتے ہیں اور اس سال تبلیغی جماعت کے مبلغ "مولانا طارق جمیل صاحب" بھی آئے تھے اور پھر پاکستان جاکر انہوں نے ایک بیان میں اس کانفرنس کے متعلق بات کی جس میں کہا کہ "وہاں پر99.9 فیصد لڑکیوں کے سر پر سکارف ہوتا ہے، نيچے چاہے پتلون اور شرٹ ہو اور 2، 4 سو اگر بغیر حجاب کے ہیں تویہ کوئی بڑا عدد نہیں ہے۔"

چونکہ یہاں پر رہتے ہوئے خریداری کے لیے شاپنگ مال میں جانا ہوتا ہے اور کئی ایک دکانوں پر مسلمان بچیاں اسی طرح کے لباس پہنے کھڑے ہوتی ہیں اور جب مسجد کی طرف سے پارک میں پروگرام ہوتا ہے تو بعض برقعہ نقاب والیاں بھی ایسی ہوتی ہیں کہ جن کے لیے میں یہ کہتا ہوں "ایسے پردے کو شرعی پردے کی اشد ضرورت ہے۔"

جیسے پاکستان میں پرانی چیزیں بیچنے کے لیے "OLX" ویب سائٹ ہے ایسے ہی یہاں پر "Kijiji" ہے اور اہلیہ نے بیٹیوں کے لیے کچھ دھاگے اور موتی خریدے اور اس عورت سے کہا کہ اگر تو میرے گھر پہنچادے تو بہت اچھا ہوگا میرے لیے۔ یہ میرے گھر سے کچھ 25 کلو میٹر کے فاصلہ پر رہتی تھی تو اس نے کہا کل میں اس طرف آنے والی ہوں تو میں پہنچا دوں گی۔

اب ایڈریس لے لیا اور فون نمبر کا تبادلہ کیا دوسرے دن وہ آئی اور"کار پارکنگ" سے فون کیا۔ میری اہلیہ بیٹیوں کو لیکر نیچے گئی اور جب اس عورت سے سامنے ہوا تو اس کو "نقاب برقعہ" بہت عجیب لگا۔ یہ تقریباً 50 برس کی گوری عیسائی عورت تھی۔ اب اس کے اور اہلیہ کے مکالمات ہوئے

اہلیہ: آپ کے یہاں تک آنے کا بہت شکریہ

گوری: کوئی بات نہیں پر مجھے تمہیں اس طرح دیکھ کر بہت عجیب لگ رہا ہے

اہلیہ: آپ کے لیے تعجب والی بات کون سی ہے؟

گوری: یہی جو تم نے اپنا سر منہ چھپا رکھا ہے

اہلیہ: لیکن مجھے اس میں کوئی بھی عجیب بات نہیں لگ رہی

گوری: ہم عورتوں کے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں اور تم ہی یوں حالت بنائے پھر رہی ہو؟

اہلیہ: عورتوں کے حقوق یہی ہیں نا کہ ان کو ان کی مرضی سے سب کچھ کرنے کی اجازت ہو؟

گوری: ہاں! بالکل یہی بات

اہلیہ: تو میں نے یہ اپنی مرضی سے ایسا کیا ہے پھر دوسرے کو اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں

گوری: یہی تو تم "ان پڑھ" لوگوں مسئلہ ہے کہ بات کو سمجھتے نہیں

اہلیہ: آپ میرے ظاہر حلیے سے اندازہ قائم کرنے کی کوشش نہ کریں

گوری: یہی بات ہے! تو میں نے کہا اور اگر تم پڑھی لکھی ہوتی تو یوں حلیہ نہ بناتی؟

اہلیہ: چلو آپ کا یہ اندازہ غلط ثابت کردیتی ہوں میں "LLB Degree" ہولڈر ہوں اور اس کے علاوہ "تین ڈگریاں" میرے پاس ہیں۔

اب اسے یہ دوسرا جھٹکا لگا ڈگریوں کا سن کر۔

گوری: تم اتنی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اس طرح بنی ہوئی ہو؟

اہلیہ: علم انسان کو شعور دیتا ہے نہ کہ بے راہ رو بناتا ہے اور میرے رب اور مذہب مجھے اسی کی تلقین کرتا ہے جس کو میں بخوشی اپنا رہی شعور رکھتے ہوئے۔

گوری: تم اپنی بیٹیوں کو بھی ایسا بناؤ گی

اہلیہ: میں ان کو اپنے مذہب کی تعلیمات بتاؤں گی اور صحیح اور غلط کا بتاؤں گی۔

گوری: میں تمہاری بچیوں کے لیے دعا کروں گی کہ وہ ایسی نہ بنیں

اہلیہ: میری بیٹیاں ان شاءاللہ صحیح و غلط کی پہچان کرنے کا شعور حاصل کرلیں گی تو وہ خود ہی اس پر عمل پیرا ہوجائیں گی

گوری: میں یہ سامان تمہیں نہیں دینا چاہتی اور میں کسی اور کو بیچوں گی۔

اہلیہ: یہ آپ کی مرضی ہے اور میں زبردستی آپ سے خریدنا نہیں چاہتی لیکن آپ قرآن کے ترجمہ کو پڑھنا اور اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو تحفہ میں آپ کے گھر بھیج سکتی ہوں

گوری: میں ٹرائی کروں گی

اور پھر سامان دیے بغیر چلی گئی، اب بیٹیاں ماں سے پوچھتی ہیں کہ وہ آنٹی سامان نہیں لائیں؟

اہلیہ: بیٹا! وہ آنٹی نے کسی اور کو دینا تھا اس ليے نہیں دیا اور"تمہارے بابا" اس سے بھی اچھا والا لادیں گے۔

اللہ تعالىٰ سے دعا ہے كہ وہ مسلمانوں كى حالت درست كرے اور ہم سب كو صحيح راہ كى توفيق نصيب فرمائے۔ يقيناً اللہ تعالىٰ سننے والا اور قبول كرنے والا اور قريب ہے، اللہ تعالىٰ ہمیں اس دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ جس دین کو لیکر سید الاولین و الاخرین ﷺ آئے اور جس پر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو گزارا اور جنت کی بشارتیں پاتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے اللہ تعالىٰ ہمیں بھی ان کے نقشے قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ تعالىٰ ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور ان كے صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے۔ آمین!

Comments

ابو حسن

ابو حسن

میاں سعید، کنیت ابو حسن، 11 سال سعودی عرب میں قیام کے بعد اب 2012ء سے کینیڈا میں مقیم ہیں الیکٹرک کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ دین کے طالب علم اور اسلامی کتب و تاریخ سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔ دعوت الی اللہ اور ختم نبوت کو اپنا مقصد سمجھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */