شکوۂ ثانی - خرم علی راؤ

سعی مودبانہ ہے یہ کہ اک شکوہ اب اور بھی ہو

یعنی خوگرِ حمد ملت کا تھوڑا گلہ اب اور بھی ہو

جارہے ہیں مارے تیرے نام لیوا کس بے رحمی سے

بلکتے تڑپتے مسلمانوں کی ہے فریاد بس تجھی سے

اہل باطل تو ہیں ہمیشہ سے ہی دشمنِ حق کھلے ہوئے

کچھ اور دشمنِ دیں بھی آگئے زمزم سے دھلے ہوئے

بحر و بر میں، زمین و زمن میں ہر اک جگہ پر ہی

کیوں آ جاتی ہے بس امت محمدی پر ذلت برائی و تباہی

ہم ہی کیوں بنتے ہیں فساد و ظلم کا یوں بے بس شکار

امتیں اور بھی ہیں ہم ہی ہیں کیوں یوں زبوں و خوار؟

خاکم بہ دہن کیا یہی دینِ حق کی تیرے طاقت ہے

کیا اب تا قیامت امت کے لیے بس خواری و ذلت ہے

تیری شان ہے عالی تیری مصلحتیں ہم سمجھ نہیں سکتے

بس ہے دعا کہ یہ حالت بدل دے واسطے مصطفیﷺ کے


گرم ہے سارے جگ میں کفر و شرک و ظلم و جفا کا بازار

اڑاتے رہتے ہیں دلیری سے دین کا تیرے مذاق یہ ظالم کفار

تیرے محبوبﷺ کی توہین مسلسل کرنا بن گیا ہے ان کا شعار

کوئی ڈر ہی نہیں ہے انہیں تیرا، کیوں، اے منتقم اے قہار اے جبار

مسلمانوں کو آپس میں ہی لڑا لڑا کر دیکھ، کیسا الجھا سا دیا ہے

وہ ہمارا ایک امت کا سبق بڑی عیاری سے انہوں نے مٹا دیا ہے

تیرے محبوب کا چمن ترے دیں کا گلشن دیکھ خزاں کا شکار ہے

اہل باطل کا ہر اک شعبہ مگر اک کمال اک زبردست شاہکار ہے

علم ہے ان پر مہربان اور عمل میں کافر بڑے تیز و طرارہے

بالمقابل اس کے تیرا مسلم کیوں ایسا کاہل و جاہل و بے کار ہے؟

سلیقۂ شکوہ ہو یا شعور گلہ مجھے تو کچھ بھی مولا نہیں آتا ہے

بس اس حالت امت مرحوم پر مجھ سے فاسق کو رونا ہی آتا ہے

میں اک جاہلِ بے نوا ہوں میری کیا مجال گلہ، کیا مری اوقات ہے

حضرتِ اقبال کی گھٹیا سی اک نقل کر رہا ہوں، بس اتنی بات ہے


یہ ابتری، یہ زبوں حالی ہماری، یہ پستی کیوں کر ہے

دین علم و عمل کے پیروکاروں میں یہ سستی کیوں کر ہے

اہل حق کوبس ذلت و شکست، اہل باطل کو ملے فتح و نصرت

تیرے ہوتے ہوئے یہ بدتر ابتر حالت ہماری بنتی کیوں کر ہے

کیوں یہ دیں فروش یہ دکان دار بن گئے ہیں ہمارے رہبر و سردار

علم دیں کے یہ ٹھیکے دار فی الحقیقت ہیں جہالتوں کے شاہکار

قرآں و حدیث کی من مانی تشریحات بھی یہ خوب کر دیتے ہیں

خود کو تو بدلتے نہیں پر فرامینِ الٰہی کو فوراہی بدل دیتے ہیں

کفر و شرک کے فتوے تو رہتے ہیں گویا ان کی نوکِ زباں پر

کسی کو بھی کبھی بھی حق ناحق یہ کافر بھی ثابت کردیتے ہیں

علماء و صوفیا، سلاطین، وزراء، حکماء اور دیگرانِ امت

شرم آتی ہے ان کی یہ رغبت- مال و دنیا سے دیکھ کر حالت

ہم بے کس مسکین بندے اب تو ہی بتا کہ جائیں تو جائیں کہاں

تو تو ہوگیا ہے ناراض، تو اب کریں کیا ہم سے بے سر و ساماں

ٹیگز