حج کے لیے کون گیا؟ - مریم عبید

"یہ کون سا مہینہ ہے"؟ علی نے امی جان سے پوچھا "یہ جنوری ہے" انہوں نے جواب دیا۔ "نہیں دوسرے والا" علی بولا، امی جان مسکرائیں اور بتایا کہ یہ ربیع الثانی ہے۔ "آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟"

"وہ احمد کے ماما، بابا اور ان کی ہانی آپا حج کرنے جائیں گی۔ مجھے آج احمد نے بتایا تھا۔ "علی نے جواب دیا۔ پھر علی سوچ میں پڑ گیا۔ اس نے اسلامی مہینوں کے نام دہرائے اور ان کو انگلیوں پر گنا۔ ابھی تو ذی الحج بہت دور ہے۔۔۔ اچھا شاید وہ ابھی سے تیاری کر رہے ہوں۔ اس نے سوچا۔پھر اس نے امی جان سے پوچھا، حج کی تیاری کب سے کرتے ہیں؟ امی جان علی کی بات سمجھ گئیں۔ انھوں کہا آپ فارغ ہو کر میرے پاس آ جائیں، میں بتاتی ہوں۔ عشاء کی نماز کے بعد امی جان کام سے فارغ ہوئیں تو انہوں نے محسوس کیا کہ علی بہت بے چینی سے ان کا منتظر ہے۔ امی جان کے بستر میں گھستے ہوئے اس نے بے تابی کہا " جلدی بتائیں نا!"

امی جان نے پوچھا" اچھا تو پہلے یہ بتاؤ کہ آپ امتحان کی تیاری کب سے شروع کرتے ہیں؟ "پہلے ہم سبق پڑھتے ہیں۔ پھر اس کی مشق کرتے ہیں، اس کے بعد اس کی دہرائی کرتے ہیں پھر اس سبق کا امتحان ہوتا ہے۔ اچھا تو حج کی تیاری بھی ایسے ہی کرتے ہیں۔ "جی بالکل! حج کی تیاری میں اور بھی بہت سے کام کرنے ہوتے ہیں۔ "

"وہ کیا؟" اس نے پوچھا۔امی جان نے جواب دینے کے لیے ابھی منہ کھولا ہی تھا کہ علی نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روکا اور بولا " ٹھہریں میں بتاتا ہوں، ٹکٹ بھی لینے ہوتے ہیں"۔ امی جان مسکرائیں۔۔۔ "جی بالکل، اچھا کوئی اور بات سمجھ آئی یا میں بتانا شروع کروں۔ "نہیں اب آپ بتائیں" علی نے جواب دیا " اچھا سب سے پہلے حج کا ارادہ کرتے ہیں، پھر۔۔۔اچھا اچھا! جیسے آپ نے ولید کو سکول داخل کروانے کا ارداہ کیا تھا؟ امی جان نے اپنی بات کو علی کی سوچ سے جوڑا " جی ایسے ہی ہے"

"پھر؟" اگلا سوال فوراً ہی موجود تھا اور علی کے شوق کا مظہر بھی۔۔۔ امی جان کا دل چاہا کہ کھل کے مسکرائیں۔۔۔ انہوں نے بتانا شروع کیا " ارادہ کرنے بعد حج کی درخواست جمع کرواتے ہیں۔ "اچھا! درخواست۔۔۔ ہم نے بھی لکھنی سیکھ لی ہے۔ لیکن یہ درخواست پرنسپل صاحب کے نام تو نہیں میرا خیال ہے اللہ تعالیٰ کے نام لکھنی ہوگی۔ "

اب تو امی جان کو بہت ہنسی آئی۔۔۔علی نے حیرانی سے امی جان کو دیکھا۔۔۔کیا میں نے غلط کہہ دیا؟ اب امی جان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اس بات کو غلط کیسے کہیں۔ "نہیں نہیں غلط نہیں، بلکہ یہی ٹھیک بات ہے۔جب ہم ارادہ کرتے ہیں تو اللہ سے ہی درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں حج کرنے کے لیے بلا لے۔ پھر اس کے بعد ہم حکومت کو درخواست جمع کرواتے ہیں۔ اب دیکھو نا۔۔۔ اتنے سارے لوگ حج کی درخواست جمع کرواتے ہیں، مگر ان میں کچھ لوگوں کی درخواست منظور ہوتی ہے۔ "

"اوہ!" علی کو بہت دکھ ہوا۔۔۔امی جان نے دلاسہ دیا "دیکھو نا علی بیٹے! حج کی درخواست تو دراصل اللہ تعالیٰ نے منظور کرنی ہوتی ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے اپنے گھر بلا لیتا ہے۔ "

"اچھا۔۔۔ اچھا " علی نے پرخیال انداز میں سر ہلایا۔ امی جان نے دوبارہ بات کا سلسلہ شروع کیا" پھر اس کے بعد بینک میں حج کے پیسے جمع کرواتے ہیں"

"ہیں!" ایک حیرانی کا جہاں علی کےچہرے پر اُمڈ آیا، اس نے دکھ بھرے انداز پوچھا " اللہ تعالیٰ حج کے پیسے لیتے ہیں؟"اب تو امی جان کی ہنسی چھوٹ گئی۔ انہوں نے بے اختیار علی کا گال چوما " بیٹے، ٹکٹ اور ہوٹل اور کھانے کے پیسے"اچھاآآآآآآآآ۔۔۔۔۔ علی بھی مسکرایا۔

اس کے بعد حج کے ٹکٹ اور ویزا آنے میں تو کچھ مہینے لگ جاتے ہیں۔ اس دوران لوگ حج کا طریقہ اور دعائیں سیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ کون کون سی دعا؟ جیسے نماز یاد کرتے ہیں ایسے ہی حج کی دعائیں بھی یاد کرتے ہیں۔ "

علی کو اپنی دعاؤں کی کتاب یاد آئی۔ مگر حج کی دعائیں تو اس میں نہیں لکھیں، وہ کہاں سے یاد کرتے ہیں؟ "اللہ!" امی جان غالباً علی کی سوچ تک پہنچ گئیں۔ "آپ نے یاد کرنی ہیں؟" انہوں نے پوچھا علی شرما کے کہا" وہ میں تو ایسے ہی پوچھ رہا تھا، آپ بتائیں پھر کیا کرتے ہیں؟ "آپ کو حج کے یونیفارم کا تو پتہ ہے نا!" امی جان کو بھی علی سے بات کر کے مزا آرہا تھا۔ علی یونیفارم کے نام پر کچھ حیران ہوا پھر اس نے سوچا اور جلدی سے بولا" اچھا وہ احرام" سفید والا جو دادا اور تایا نے پہنا تھا تصویر میں۔۔۔ "جی وہی۔۔۔ احرام بھی خرید لیتے ہیں اور باقی کچھ عام پہننے والے کپڑے اور استعمال کی چیزیں اپنے بیگ میں رکھ لیتے ہیں۔ "اچھا تو بڑی عید بھی حاجی وہیں کرتے ہیں، دادا جان نے بتایاتھا۔۔۔ بڑی عید کے کپڑے بھی رکھتے ہوں گے۔ " علی نے جوش سے کہا۔

امی جان نے علی کی طرف حیرانی سے دیکھا۔۔۔ پھر مسکرا کے بولیں، " ہاں یہ تو میں بھول ہی گئی تھی"

"اچھا امی جان! مجھے حج کا طریقہ تو بتائیں"

"بیٹے آپ کے بابا آنے والے ہیں، ہم کھانا کھائیں گے پھر کچھ دیر سیر کریں تو سونے کا وقت ہوجائے گا۔ کل ان شاء اللہ"

"ابھی کیا وقت ہوا ہے؟" علی نے پوچھا

"آٹھ بجے ہیں" اس نے امی جان کے جواب دینے سے پہلے ہی تجزیہ بھی کر لیا۔ ابھی ان کے آنے میں کچھ وقت ہے۔۔۔ " پلیز۔۔۔ امی جان نے اس کے شوق کو دیکھتے ہوئے حج کا طریقہ بتانا شروع کیا " سب سے پہلےغسل کر کے احرام باندھتے ہیں پھر نیت کرتے ہیں۔ احرام گھر سے باندھ کر جاتے ہیں نا!"

اوہ! احرام تو ایئر پورٹ پر ہی باندھ لیتے ہیں " ایئر پورٹ پر!" علی بہت حیران ہوا پھر کیا ہوا کہ امی جان نے کاغذ قلم پکڑا اور نقشہ بنانا شروع کیا اور بتایا کہ بیت اللہ کی حدود سے باہر کون کون سی جگہ سے احرام باندھتے ہیں اور یہ کہ اس جگہ کو میقات کہتے ہیں۔ " مکہ تو پاکستان سے بہت دور ہے، اس لیے ضروری ہے کہ جہاز جب میقات سے گزرے تو ہم احرام باندھے ہوئے ہوں۔ "

"اچھا ایئر پورٹ پرغسل کرتے ہیں؟ واش روم ہوتے ہیں نا ایئر پورٹ پر" علی نے پوچھا "بھئی غسل تو گھر سے ہی کر لیتے ہیں۔ " امی جان نےبتایا "اچھا ٹھیک ہے پھر احرام باندھ کر کیا کرتے ہیں؟"

"میقات سے ہم نیت کرتے ہیں اور تلبیہ پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ "

"تلبیہ لبیک ہوتا ہےنا!، وہ تو مجھے سارا یاد ہے" علی نے اطمینان ظاہر کیا۔ امی جان نے بتانا شروع کیا "جہاز سے اتر کر۔۔۔ " علی نے ٹوکا "جہاز مکہ جاتا ہے؟ " امی جان کچھ خفا ہوئیں۔۔۔ علی بات کاٹتے ہیں؟ معاف کیجیے گا، آئندہ نہیں ہوگا۔۔۔ علی شرمندہ ہوا جہاز جدہ ایئر پورٹ پر اتارتا ہے۔۔۔ پھر وہاں سے بس میں مکہ جاتے ہیں۔ مکہ پہنچ کر ہوٹل میں اپنا سامان رکھتے ہیں اور بیت اللہ جاتے ہیں۔ "

بس سے اُتر کر سیدھا بیت اللہ نہیں جا سکتے۔ علی کی بے چینی دیکھنے والی تھی۔ امی جان نے حیرانی سے علی کے چہرے کو دیکھا، ایک انوکھے جوش سے چہرہ تمتما رہاتھا۔ بیت اللہ کو دیکھنے کا شوق۔۔۔ لہجے سے عیاں تھا۔ "اللہ " ان کے منہ سے نکلا اور دل سے دعا۔۔۔ بے لفظ دعا، جس سے کی گئی وہ بھلا لفظوں کا کب محتاج ہے۔

ٹرن ٹرن۔۔۔دروازے کی گھنٹی بجی، " لو آپ کے بابا آگئے" امی جان نے کہا "امی بیت اللہ جانے کے بعد۔۔۔ پھر۔۔۔ " علی کی بے تابی عروج پر پہنچ گئی۔ ٹرن ٹرن۔۔۔گھنٹی دوبارہ بجی۔ امی جان نے دروازے کی طرف جاتے ہوئے علی کو تسلی دی" ابھی بتاتی ہوں۔"

انہیں علی کی بے تابی نے سمجھا دیا تھا کہ بات کل پر نہیں چھوڑی جا سکتی۔ علی بھی دروازے کی طرف چلا، بابا اندر داخل ہوئے تو خوشی چہرے سے عیاں تھی۔انہوں نے سلام کیا" السلام علیکم" پھر علی کو گلے لگایا، " کیا حال ہے بیٹے؟

الحمد للہ، بابا آپ کیسے ہیں؟" علی پوچھا

"اللہ کا بہت احسان ہے، اس کا کرم ہے، اس کی عطا ہے" ان کےخوشی سے چمکتے چہرے پر علی کی امی جان نے نظر ڈالی اور سوچا، آج کچھ خاص بات لگ رہی ہے۔

"اندر آئیے! بھوک تو لگ رہی ہوگی۔ کھانا تیار ہے، میں لگاتی ہوں" امی جان نے کہا

علی بابا کے ساتھ چلتے ہوئے آرہا تھا، دونوں نے اندر کی طرف قدم رکھا ہی تھا کہ اچانک علی رکا اور بابا کی طرف منہ کر کہ کہنے لگا "بابا آپ کو پتہ ہے میں امی جان سے حج کا طریقہ سیکھ رہا تھا آپ کے آنے سے پہلے"بابا بھی رک گئے " حج کا طریقہ؟ " "جی جی۔۔۔ حج کا طریقہ، ہم بیت اللہ پہنچ گئے تھے۔"

"اللہ تیری شان!" بابا کے منہ سے نکلا

" وہ احمد کے ماما، بابا اور آپا جا رہے ہیں نا، تو علی مجھ سے سمجھ رہا تھا حج کا طریقہ۔۔۔ " امی جان نے بات میں ربط قائم کیا۔ "احمد کے ماما، بابا نہیں۔۔۔ " بابا نے ابھی بات شروع ہی کی تھی کہ علی نے بے تابی سے بات کاٹی، "وہ جارہے ہیں۔۔۔ مجھے احمد نے خود بتایا"موقع ایسا تھا کہ بات کاٹنے والی غلطی نظر انداز ہوگئی اور وہ نیچے جھکے اور علی کے گال پر بوسہ دیا اور بولے "صرف احمد کے ماما، بابا نہیں، ہم سب بھی جا رہے ہیں۔ "

امی جان الٹے قدموں واپس لوٹیں " ہیں! کیا؟" بے ربط جملے، علی کا حیران چہرہ، اپنی بے لفظ دعا۔۔۔ کیا کیا نہ یاد آگیا انہیں۔۔۔ "الحمد للہ " بھیگے لہجے میں انہوں نے کہا۔ علی کافی دیر سے چپ تھا، ایسی خوشی، ایسی حیرانی کہ بس۔۔۔امی جان نے جلدی سے علی کو گلے لگایا " چلیں اب مل کےحج کا طریقہ سیکھتے ہیں۔ " بابا نے کہا۔۔۔