سوچیے! یہ پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ ہے - فیصل ندیم

خبر ہے کہ صدر پاکستان جناب ممنون حسین صاحب نے ایک آرڈیننس جاری کیا ہے جس کی رو سے وہ تنظیمیں جن پر اقوام متحدہ نے پابندیاں لگائی ہیں یکساں طور پر انہیں پاکستان میں بھی کالعدم قرار دیا جائے گا۔ یہاں چند امور انتہائی قابل توجہ ہیں۔

۱۔ اقوام متحدہ کی پابندیوں کے پیچھے امریکہ برطانیہ اور بھارت جیسے ممالک موجود ہوتے ہیں جن کی تقریباً ہر پابندی پاکستان کے مفاد کے خلاف ہی ہوا کرتی ہے اس لیے یہ فطری بات ہے کہ اس آرڈیننس کے ذریعہ جن جماعتوں یا تنظیموں کو پابند کیا جائے گا ان پر پابندیاں بھی پاکستان نہیں پاکستان دشمنوں کے مفاد میں ہوگی

۲۔ اگر مذکورہ بالا جماعتیں یا تنظیمیں کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہوتیں تو پاکستان خود ان پر پابندی لگا چکا ہوتا لیکن ایسا نہیں ہے اور یہ پابندیاں صرف بیرونی دباؤ پر لگائی جا رہی ہیں۔

۳۔ ان پابندیوں سے پاکستان کے ہزاروں نہیں لاکھوں شہری متاثر ہوں گے جو کہ ان جماعتوں اور تنظیموں کے زیراہتمام چلنے والے فلاحی منصوبہ جات سے مستفید ہوتے ہیں۔

۴۔ ان جماعتوں اور تنظیموں کے قائدین و کارکنان پاکستان کے قوانین کا ہمیشہ احترام کرتے ہیں جس کا سب سے بڑا ثبوت پاکستان میں ان کا صاف ستھرا کردار ہے یہی وجہ ہے امریکی دباؤ پر اگر ان کے خلاف کبھی بھی کوئی کاروائی کی گئی تو پاکستانی عدالتوں نے ہمیشہ ان کے حق میں فیصلے کیے ہیں ایسے میں ان کے خلاف کاروائی آئین پاکستان کے تحت کسی بھی پاکستانی شہری کو حاصل حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

۵۔ پانچویں اور انتہائی اہم بات اس قانون کا وہ خطرناک ترین پہلو ہے کہ جس کے ذریعہ مستقبل میں اس قانون کا نشانہ پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات،میزائل ٹیکنالوجی اور پاکستان کی افواج ہوسکتی ہیں کیونکہ ابھی ہمارا اپنا ملکی قانون سپریم ہے اور ہم اس کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں لیکن اگر یہی سپر میسی اقوام متحدہ کو حاصل ہوجاتی ہے اور پاکستان دشمن سلامتی کونسل سے ہمارے ایٹمی پروگرام، میزائل ٹیکنالوجی اور پاکستان افواج کے خلاف کوئی قانون پاس کروا لیتے ہیں تو کیا پاکستان اس قانون پر عملدرآمد کرنے پر مجبور نہیں ہوگا؟

ہماری سیاسی حکومت ماضی میں بھی ثابت کر چکی ہے کہ اسے پاکستان سے زیادہ اپنی نااہل قیادت کے مفادات زیادہ عزیز ہیں کیا وہ اس دباؤ کا سامنا کر پائے گی؟سوچیے اور آواز بلند کیجیے کہ یہ مسئلہ کسی شخصیت کسی جماعت یا تنظیم کا نہیں بلکہ پاکستان کی سالمیت کا ہے۔