اور کافری کیا ہے؟ - عثمان حبیب

یہ بات 17 مئی 1984ء سے شروع ہوتی ہے، جب عاصمہ جہانگیر، عاصمہ جیلانی کہلاتی تھی۔ تب اسلام آباد میں آوارگی نسواں کی علمبردار عورتوں کا ایک سیمینار شریعت بل کی مخالفت میں ہورہا تھا، پھر سے پڑھیے کہ سیمینار شریعت بل کی مخالفت میں ہورہا تھا۔ اس سیمینار میں عاصمہ جہانگیر نے ہفوات بکتے ہوئے، محسن انسانیت ﷺ کی شان مبارک میں گستاخی کی اور آپ ﷺ کو نعوذباللہ ثم نعوذباللہ العیاذ باللہ! "ان پڑھ (Illiterate) اور "تعلیم سے نابلد" جیسے نازیبا گستاخانہ اور توہین آمیز الفاظ بکے تھے۔

جس پر اس وقت کے راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے اراکین میں سے عبد الرحمٰن لودھی اور ظہیر احمد قادری ایڈووکیٹ نے سخت احتجاج کیا اور اس سے مطالبہ کیا کہ وہ ان توہین آمیز الفاظ کو واپس لے کر اس گستاخی پر معافی مانگے۔ لیکن اس نے انکار کیا جس پر سیمینار میں ہنگامہ برپا ہوگیا تھا۔ بلاشبہ ملعونہ عاصمہ جہانگیر کی یہ ہفواتی بکواس تمام اُمت ِمسلمہ کی دل آزاری کا باعث تھی۔ جس پر پورے ملک میں غم وغصے کا اظہار کیا گیا اور پھر 1986ء میں ناموس رسالت کے حوالےسے قانون سازی کی گئی۔ (مزید دیکھیے: جناب محمد اسمٰعیل قریشی کی تصنیف "ناموسِ رسولؐ اور قانونِ توہین رسالت")

اس ملعونہ نے معافی کیا مانگنی تھی، اس سے یہ قانون سازی تک ہضم نہیں ہوئی اور اگلے ہی سال 1987ء کو اپنے مغربی آقاؤں کی پشت پناہی میں جسٹس درّاب پٹیل کے ساتھ مل کر "پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن" کی بنیاد رکھی۔ جس کا اولین مقصد ناموس رسالت کے حوالے سے کی گئی قانون سازی کو ختم کردینا تھا۔ نیز قادیانی حقوق کا تحفظ اس کمیشن کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ جسے ہمارے نادان "انسانی حقوق " کی تنظیم سمجھ رہے ہیں، وہ دراصل قادیانی حقوق کی تنظیم ہے اور عملا بھی وہ "ایمنسٹی انٹر نیشنل" کے ساتھ مل کر اس قانون کے خلاف ہرزہ سرائی کرتی رہی، جسے کوئی خاص لفٹ نہیں کرائی گئی۔

وطن عزیز میں جہاں بھی توہین رسالت کا کوئی بد بخت مرتکب ہوتا، ملعونہ عاصمہ جہانگیر اس کا دفاع کرنے اور اس کا مقدمہ لڑنے پہنچ جایا کرتی تھی۔ 1994ء میں سلامت مسیح اور رحمت مسیح نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا اور اس قبیح جرم میں جب گرفتار ہوئے تو مقدمہ لڑنے عاصمہ جہانگیر اور اس کی بہن حنا جیلانی دوڑی دوڑی چلی آئیں۔ اس کے بعد ایوب مسیح کیس میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ یہاں تک توہین رسالتؐ کی مجرمہ ملعونہ آسیہ مسیح کے دفاع میں بھی پیش پیش رہی، شیطان تاثیر کا بھر پور ساتھ دیا اور ایک نہیں، کئی بارتوہین رسالت بارے قانون کو انسانی (قادیانی) حقوق کے منافی اور فتنہ قرار دیتی رہی۔

اسی پر بس نہیں بلکہ اس پوری کائنات کے مالک اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے نازل کردہ قوانین کا مذاق اڑانا تو اس ملعونہ کا معمول بن چکا تھا۔ حدود اللہ کو انسانی حقوق سے متصادم کہتی رہی۔ پردہ، داڑھی، جہاد اور علماء کرام کا کھلم کھلا مذاق اڑایا کرتی تھی، اس ملعونہ کا کوئی انٹرویو، پریس کانفرس یا ٹاک شو، شعائر اللہ کا مذاق اڑائے بغیر مکمل نہیں ہوتا تھا۔

ایک ٹاک شو میں خود اقرار کیا کہ " میں تو ایک سیکولر انسان ہوں میرا اپنا کوئی مذہب ہے ہی نہیں"۔ ایک اور ٹاک شو میں تو قرآن کریم کی تعلیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہتی ہے کہ " آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ اپنے بچوں کو قرآن پڑھائیں"۔

یہ وہی ملعونہ عورت ہے جس نے گستاخ ملعون اور ملحد ایاز نظامی والے کیس کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے بارے میں کہا تھا کہ اس کو تو مسجد کا امام ہونا چاہیے یہ ادھر عدالت میں کیا کررہا ہے؟ اور یہ بات اس نے اس لیے کہی تھی کیوں کہ شوکت عزیز صدیقی نے ناموس رسالت بارے میں اچھے ریمارکس دیے تھے، جو اس ملعونہ سے برداشت نہ ہوئے اور ہفوات بکی۔ ممتاز قادری صاحب والے کیس کے دوران واضح الفاظ میں کہا تھا کہ اسلامی قانون کالا قانون ہے۔ اور یہ ملعونہ عورت اسی باطل افکار ونظریات پر ہی مردار ہوئی، کوئی توبہ نہیں کی اس نے اور نہ ہی ان باطل افکار سے اس کی توبہ منقول ہے کہیں۔

اس کے مردار ہونے پر الحمدللہ مؤمن مسلمانوں نے خوشیاں منائیں جوکہ بالکل درست، صائب اور کیا جانے والا عمل تھا۔

اب جناب والا ہمارے یہاں کا وہ " مخصوص طبقہ" جس کے پیٹ میں وقتا فوقتا اسلام اور اہل اسلام کے خلاف مروڑ اٹھتا رہتا ہے، اس موقع کو وہ ہاتھ سے کہاں جانے دیتے، سو یہاں بھی موقع ملا اور اپنی اصلیت دکھاتے رہے۔

گلہ ان سے نہیں، شکوہ تو اپنے ان حضرات سے ہے جو اسلام کے نام لیوا ہیں۔ معذرت کے ساتھ ہمارے ان حضرات سے سیرت اور اسلام کا مطالعہ نہ ہونے کی بنا پر مسلمانوں کی یہ خوشی برداشت نہ ہوئی اور لبرلز کے سامنے معذرت خواہانہ رویہ اپنا کر ہمیں کوستے رہیں۔

ایک صاحب کہنے لگے کہ "آپ کے خوش ہونے کا یہ مطلب ہوا کہ آپ اس سے دلیل میں ہار گئے تو زچ ہوکر اب اس کی موت پر خوش ہو رہے ہیں۔ "

بھائی میرے! دلیل میں ہم نہیں، تم ہارے ہو، تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں خوشی منانے کی، لبرلز کے سامنے لاجواب ہوگئے تو ہمیں کوسنے آگئے۔ ہم خوش ہیں اس لیے کہ ہمارے آقا رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنے گستاخ کے جہنم واصل ہونے پر خوشی سے "الحمدللہ" فرمایا تھا اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان فرمائی۔ اور جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا انہیں شاباش دی اور فرمایا کہ "افلحت الوجوہ۔ الحدیث۔

ایک صاحب کہنے لگے کہ " کسی کے مرنے پر خوش ہونے کی مذہب بھی اجازت نہیں دیتا۔ "

پیارے بھائی! آپ کس مذہب کی بات کررہے ہیں؟ اسلام میں تو اللہ تعالیٰ قرآن کریم، سورۃ التوبہ، آیت 14میں کافروں کی موت کو مؤمنین کے سینوں کی ٹھنڈک ارشاد فرماتے ہیں، اور سینے غم سے نہیں خوشی سے ٹھنڈے ہوتے ہیں۔ آپ کو اس آیت کا نہیں پتہ تو معذرت خواہانہ لہجہ کیوں اپنایا ہوا ہے خاموش رہیں نا۔ایک "مولانا" صاحب فرمانے لگے کہ آپ میں سے کتنے لوگ گئے ہیں عاصمہ جہانگیر کو دعوت دینے، اسے سمجھانے۔

مجھے تو حیرت یہ ہوئی کہ اس مولانا صاحب کو یہ تک نہیں پتہ کہ عام مخالف کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا جاتاہے اور "معاند" کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ ملعونہ عاصمہ جہانگیر اسلام کے خلاف معاند کا حکم رکھتی تھی۔ اور معاند کو دعوت نہیں دی جاتی بلکہ اس کے ساتھ کعب بن اشرف اور ابو رافع ملعونوں والا کام کیا جاتا ہے۔ جس شخص کو اسلام کے احکامات اور قوانین کا علم ہو اور وہ اس کا مذاق اڑائے تواسے دعوت دینے کا کیا مطلب؟ وہ تو پہلے سے ہی سب جانتا ہے مزید انہیں کیا دعوت دی جائے؟

یہاں بعض حضرات یہ بھی کہتے سنائے دیتے ہیں کہ مُردوں کو برا بھلا کہنے سے منع کیا گیا ہے۔ اور اس پر حدیث بھی پیش کرتے ہیں۔

بالکل تسلیم ہے، حدیث بالکل صحیح حدیث ہے۔ ہمارا ایمان ہے۔ مگر حدیث کا مصداق بھی پتہ ہے یا ہر کسی پر حدیث فٹ کرتے پھریں گے آپ؟یہ حدیث اہل اسلام کے بارے میں ہے۔ نہ کہ اسلام دشمنوں کے بارے میں۔ علامہ عینی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ مردوں کی برائی کرنا کیسے جائز ہے جبکہ حدیث میں اس سے منع آیا ہے؟

تو آپ نے جواب دیا کہ یہ منع کسی منافق، کافر اور مجاہر (اعلانیہ گنا ہ کرنے والے) کے بارے میں وارد نہیں ہوا ہے۔ ان کے شر کو بیان کیا جائے گا تاکہ لوگ ان کی اقتداء سے بچیں۔

اور ہم بھی اسی لیے اسے برا بھلا کہہ رہے ہیں تاکہ اور لوگوں کے لیے عبرت بنے اور اس کے انجام کو سامنے رکھ کرکوئی لبرل ہونے سے پہلے ہزار بار سوچے ورنہ عاصمہ ملعونہ سے ہماری ذاتی دشمنی کیا ہے؟

ایک محترم فرمانے لگے کہ "اگر آپ کو اس کے کُفر پر مرنے کی شرعی شھادتیں مل گئی ہیں تو ضرور بالضرور اسے جہنم کے سب سے نچلے درجے میں پہنچائیں۔ "میرا انہیں جواب ہے کہ اگر آپ کو اس کے اسلام پر مرنے کی شرعی شہادتیں مل گئی ہیں تو ضرور بالضرور اسے جنت کے سب سے اعلیٰ درجے میں پہنچائیں۔

بلاشبہ وہ جب زندہ تھی تو اس کے افکار نہایت ہی غلیظ اور کافرانہ تھے۔ اور اپنے اسے نظریات پر وہ مردار ہوئی ہے، توبہ کہیں منقول نہیں ہے۔ اور ہم تو اس کے ظاہر کے مکلف ہیں۔ ظاہر میں وہ جن افکار ونظریات کی حامل تھی وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔

لبرل کہتے ہیں کہ تم کون ہوتے ہو جہنم کے ٹکٹ بانٹنے والے؟ ہم پوچھتے ہیں کہ تم کون ہوتے ہو جنت کے ٹکٹ بانٹنے والے؟ جنت تمہارے جیسے رذیلوں اور بے غیرتوں کی جگہ ہے ہی نہیں۔ نیز جسے اللہ تعالیٰ جہنمی قرار دے چکا ہو ہماری کیا مجال جو اسے جنت میں داخل کردیں؟