منافع اسکیمیں بند کرو - سدرہ سحر عمران

عاصمہ جہانگیر ایک للکار تھی۔ نہ ڈری، نہ سہمی، نہ جھکی نہ جھجکی۔ اس نے ببانگ دہل کہا مارنا ہے؟مارو، چلاؤ گولی۔ جتنی دیر جیتی رہی، ڈنکے کے چوٹ پر جی کر دکھایا لیکن اس نے یہ نہیں کہا اسے جنت یاجہنم کا ٹکٹ چاہیے۔ اسے فردوس برّیں یا دوزخ سے واسطہ نہیں تھا۔ وہ "دقیانوسی" نہیں تھی جو مذہب کا ٹنٹنا پالتی۔ وہ بغیر مذہب کے آسودہ تھی، خوشحال تھی۔ 66 سال تک وہ خدا کی زمین سے قہر کی طرح چمٹی رہی لیکن مذہب کو کبھی ہوّا نہیں بنایا۔ مذہب اس کا مسئلہ تھا ہی نہیں لیکن لوگوں کو چین نہیں پڑتا۔ اپنی قبروں کی مٹی سات بار اکھڑتی ہے دن میں لیکن عاصمہ جہانگیر کی قبر سے زیادہ انسیت ہے۔ جب تک وہ زندہ رہی اس کے مذہب کا اتا پتہ لیا کسی نے، نہ اس کی خدا سے رشتے داری پر غوروخوض کیا، سوچ بچارکی… ہاں! جب جنازہ ختم ہوا تو ہنگامے پھوٹ پڑے، فساد فی الارض کا ڈنکا بج گیا۔

لوگ گروہوں میں بٹے ہوئے تو ہیں ہی، مزید فرقہ واریت ہوئی ایک طرف اسلام خطرے کےنشان تک پہنچ گیا جہنم کی سیڑھیاں عاصمہ کی قبر سے لگا دی گئیں۔ دوسر ی طرف ملّا خوروں نے عاصمہ جہانگیر کو جنت میں پلا ٹ لیز کروانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگالیا۔ ہزاروں اسٹیٹ ایجنسیاں کھل گئیں۔ سمجھ نہیں آتی بحیثیت قوم ہم دو انتہاؤں پر کیوں ہیں؟ کوئی مرتا ہے تو ہمیں اس کی جنت دوزخ کی فکریں گھیر لیتی ہیں؟ وہ طبقہ جو خدا کی غیبتوں سے باز نہیں آتا وہی جنت کو ناک کا مسئلہ بنالیتا ہے۔ جنہیں جنازے سے یہ بھی سروکار نہیں ہوتا کہ میت دفنائی جائے گی، جلا کر راکھ کی جائے گی، قبر میں سیدھی کھڑی کی جائے گی یا مسالے لگا کر سنبھال لی جائے گی؟ وہ بھی اس غم میں ادھ موئے ہوئے جاتے ہیں کہ اسے جہنمی کیوں کہہ دیا؟ وہ ملّاؤں یا مذہب پرستوں کی سات پشتیں کھنگالتے ہوئے جنت پر اجارہ داری قائم کر لیتے ہیں۔ کوئی پوچھے جب بن دیکھے ایمان ہی نہیں تو جانتے بوجھتے آنکھیں کیوں نچاتے ہو؟ تمہاری لغت میں نہ خدا نہ اس کی جاگیر و عقوبت خانہ؟ تو بھائی جھگڑا کس بات کا ہے ؟ کوئی جنت میں جھولا ڈالے یا بھاڑ جھونکے، تم کیوں اخلاقیات کا جلوس نکالتے ہو؟ تمہیں کیا مطلب؟ کیا غرض؟ کیا واسطہ؟ اکیس توپوں کی سلامی دو یا کانفرنسیں منعقد کر کے خراج تحسین پیش کرو۔ مذہب کو بیچ میں کیوں رگڑتے ہو؟چھوڑ دو یہ احساس کمتری! یہ نفسیاتی مسائل ہیں، ان پرلعنت بھیجو!

اور جنہوں نے سجدوں سے اپنی پیشانیاں بچا بچا کر زنگ آلود کرلیں مگر چونکہ سچے پکے مسلمان ہیں، اس لیے جنت جہنم کی پرچیاں تو یہی ڈالیں گے اور ہر پرچی پر آنکھ بچا کر صرف جہنم کی قسمیں اور درجے ہی لکھیں گے، وہ مجنون بھی عاصمہ جہانگیر کے آخری ٹھکانے کو انا کا مسئلہ بنا بیٹھے ہیں، جیسے اس سے زیادہ نیک کام تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ خدا کے بندو! یہ فیصلے بھی تمہی نے کرنے ہیں تو قیامت کادن ہی ختم کر دیتے ہیں!

دنیا کے پتلی تماشوں میں خداکے فیصلوں اس کی منشا و منطق کو کیوں لے آتے ہو؟

عاصمہ کے چہرے پر سکون تھا یا وحشت، تم رب سے اپنے چہروں کی گارنٹیاں طلب کرو اور اپنی دکانوں کے شٹر گرادو!

Comments

سدرہ سحر عمران

سدرہ سحر عمران

سدرہ سحر عمران کی شخصیت کئی رنگو ں کا امتزاج ہے۔ ان کے باغی خیالا ت مصنوعی رسم و رواج، نمائشی مذہبیت اور معاشرے کی غیر منصفانہ تقسیم سے متصادم ہیں۔ ان کی نظموں کے مزاج میں بلا کی سفاکیت، کاٹ اور شدت پسندی ہے تو ایک اسکرپٹ رائٹر کے بطور یہ رنگ جذبات و احساسات، محبت اور سماجی رویوں کے عکاس ہیں۔ ان کی نثر میں طنز و مزاح بھی ہے، برجستگی اور روانی بھی۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.