نکلے تو مسئلہ حل ہوا - کاشف حفیظ صدیقی

اس حقیقت سے کیا انکار کہ شجرہ نسب معلوم کرنے کا اب معتبر ترین ادارہ نادرا بن چکا ہے مگر نادرا میں اگر آپ کا کام ہو جائے تو اس سے اچھا شعبہ کوئی نہیں اور اگر وہ سوالات پوچھنے پر آ جائیں اور آپ سے ڈاکیومنٹس مانگنے پر آجائیں تو پھر آپ پھر دہائیاں ہی دیتے رہ جاتے ہیں اور ۱۰ چکروں کے بعد جاکر کام ہوتا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ پرویز مشرف کے دور میں بنائے گئے ڈجیٹل کارڈز کو بھی نہیں مانا جا رہا تھا۔ 1979ء یا اس سے پہلے کے کاغذات طلب کیے جا رہے تھے۔ ضلع غربی، کراچی میں دو، دو ہجرتیں کیے ہوئے بہاری بہت پریشان تھے۔ ساتھ میں ۳۰، ۳۰ سالوں سے رہائش پذیر بنگالی اور برمیوں کے ساتھ تو اس سے بدتر سلوک تھا۔ بین الاقوامی ایجینسیوں کی بھی اس مسئلے پر نظر تھی۔ UNHCR نے باقاعدہ اس مسئلے پر سروے کروایا اور ان تمام قومیتوں کو Stateless کا نام دیا جو پاکستان کے لیے مزید پریشانی کھڑا کر سکتا تھا۔ ضلع غربی میں تو رات گئے سے لائنیں لگنا شروع ہو جاتی ہیں۔ حد یہ ہے کہ ایک کام یہ شروع ہوا کہ رات گئے سے آپ سے رقم لیکر آپ کی جگہ کھڑے ہو جانے والوں کی ایک قسم دریافت ہوئی تاکہ آپ صبح آئیں تو آپ کا نمبر لگا ہوا ہو۔

سرکاری تو ایک طرف، پرائیوٹ کمپنیوں میں، جو سائیٹ میں واقع ہیں اور جہاں اورنگی ٹاؤن کے بہاری ایک کثیر تعداد میں کام کرتے ہیں، شناختی کارڈ طلب کیا جانے لگا تو ان کے پاس نہ ہونے کی وجہ سے جابس خطرے میں پڑنے لگیں۔ دیہاڑی دار مزدوروں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کو شدید معاشی مشکلات کا شکار ہونا پڑا۔ صورت حال نہایت سنگین تھی کہ جماعت اسلامی نے اس مسئلے کو اٹھایا اور کل ان کے ہیڈ آفس پر ایک بڑے عوامی دھرنے کے دوران مذاکرات میں جہاں دیگر چیزوں کی جانب مثبت پیشت رفت ہوئی وہاں سب سے مثبت ترین کام یہ ہوا کہ

ڈی جی نادرا نے اس مطالبے کو تسلیم کیا کہ جن، جن کے پہلے ۱۳ ہندسوں والے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ بن چکے تھے ان کے کارڈز بغیر کسی حیل و حجت کے ری نیو کر دیے جائیں گے۔ اگر بلاک بھی کیے جائیں گے تو ان کو اسپیشل کیس کے طور پر دیکھا جائے گا۔ باقی مطالبات ایک طرف یہ اقرار ایک طرف، یہ ایک بڑی ڈویلپمنٹ ہے۔

ڈی جی نادرا نے اس بات کا اقرار بھی کیا کہ ان کے اسٹاف کے رویّے بہتر نہیں، اس کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ اگر یہ کام ہو گیا تو اس سے بہاری، بنگالی، برمی اور پختونوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ جماعت اسلامی کو چاہیے کہ اس کی مانیٹرنگ مزید سخت کردے۔ مگر یہ بھی ایک لطیفہ ہے کہ بعض احباب کہتے ہیں کہ اس مطالبے سے اردو اسپیکنگز کو فائدہ نہیں ہوگا۔ تو بھائی جان! ایشیا اور پاکستان کی سب سے بڑی کچی آبادی اورنگی جہاں مشرقی پاکستان سے ہجرت کرنے والے لاکھوں بہاری بستے ہیں، "اردو اسپیکنگ" نہیں؟ تفریق کسی اور نے نہیں ہم نے خود کی ہے اور ہم تو یہ کہتے ہیں اسلام کی بنیاد پہ، کلمہ کی بنیاد پہ، ایمان کی بنیاد پر ہم سب پاکستانی ہیں۔ پاکستان ہمارا ہے۔

Comments

کاشف حفیظ صدیقی

کاشف حفیظ صدیقی

کاشف حفیظ صدیقی معروف سروے کمپنی پلس کنسلٹنٹ، کراچی کے سربراہ ہیں، اسلامی اور معاشرتی موجوعات پر لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */