چیزوں کو ان کی اصل جگہ پر رکھنا - محمد عامر خاکوانی

یہ انھی دنوں جیسی ایک خنک شام تھی۔ سردیوں کا زور ٹوٹ چکا تھا، دن کی دھوپ میں تمازت در آئی، مگر شام کے لمس میں ابھی بھیگا بھیگا، نرم، خنک تاثر موجود تھا۔ لاہور کی ماڈل ٹاؤن لائبریری کی اپنی ہی کشش، خوبصورتی اور سحر ہے۔ ویسے تو گھنے درختوں سے آراستہ ماڈل ٹاؤن کا اپنا ہی ایک فسوں خیز ہالہ ہے، لائبریری اس لحاظ سے منفرد کہ وہاں موجود ہزاروں کتابیں اسے زیادہ بیش قیمت بنا دیتی ہیں۔ ماڈل ٹاؤن لائبریری میں ایک چھوٹا سا سیشن چل رہا تھا۔ لاہور کے ایک معروف قانون دان، استاد اور دانشور لیکچر دے رہے تھے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں قوم کی تعمیر (Nation Building) کے لیے آٹھ مختلف اصول بیان کیے، جن کو اپنے اندر سموئے بغیر قومیں یا تہذیبیں ترقی کے زینے طے نہیں کر سکتیں۔ ایک اصول یہ بھی تھا کہ قوموں کو اپنا ردعمل غیر متناسب (Disproportionate) نہیں دینا چاہیے۔ لیکچر کے بعد سفید بالوں والے پروفیسر سے پوچھا گیا کہ اس نکتے پر اس قدر اصرار کیوں؟ دھیمے لہجے میں انہوں نے وضاحت کی کہ جب قومیں کسی بھی اہم واقعے، ایشو یا خبر پرمتناسب ردعمل نہیں دیتیں، ان کا ردعمل ہمیشہ انتہاؤں پر ہوتا ہے، شدید ترین یا پھر بہت ہی ہلکا۔ ایسی قوم معاملات ، واقعات کا تجزیہ غلط کرتی ہے اور پھر نتائج بھی غلط اخذ کیے جاتے ہیں۔ پروفیسر ہمایوں احسان کی اس بات پر بعد میں سوچتا رہا، برسوں بعدمیں یہ بات مزید واضح ہوئی کہ چیزوں کو ان کی اصل جگہ پر رکھنا چاہیے۔ جس کا جو تناظر ہے، جتنا سائز ہے ، اتنی جگہ اسے ملے۔ کہتے ہیں عرب دانشور چیزوں کوان کی اصل جگہ پر نہ رکھنے کو ظلم سے تشبیہہ دیتے تھے۔

ایسا ہی ظلم محترمہ عاصمہ جہانگیر کے حوالے سے بھی روا رکھا جا رہا ہے۔ ان کے مخالف بھی گاہے تنقید میں تجاوز کر رہے ہیں، مگر اصل ظلم ان کے حامی، چاہنے والے کر رہے ہیں۔ وہ عاصمہ جہانگیر کو ان کے اصل قد وقامت سے بہت بڑا بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سوں کی جذباتی، پرجوش تحریروں، تقریروں سے لگتا ہے جیسے کسی دیوی ماں چلی گئیں یا اس عہد کی جون آف آرک دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ یہ بات درست نہیں۔ جو بات جتنی ہے، اتنی ہی کہنی چاہیے۔ عاصمہ جہانگیر دنیا سے چلی گئیں۔ ایک اس کا انسانی پہلو ہے۔ اس پر افسوس کا اظہار کیا جانا فطری ہے۔ ان کے پسماندگان کی زندگیوں میں ایک خلا پیدا ہوگیا۔ ماں کی کمی کون پوری کر سکتا ہے؟ یہ دکھ ہر ایک سمجھ سکتا ہے۔ کسی کے ایمان اور اعمال پر رائے دینا ایک الگ پہلو ہے۔ ذاتی طور پر میں کسی کی عاقبت کے حوالے سے کوئی رائے دینے کا قائل نہیں۔ جو شخص دنیا سے رخصت ہوگیا، اس کا اور رب کریم کا معاملہ ہے، وہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ کسی کے ایمان کے حوالے سے بھی خاکسار کوئی رائے نہیں دے سکتا۔ علمائے کرام کا معاملہ مختلف ہے، ان سے بعض اوقات مفروضہ سوالات پر فتوے بھی طلب کر لیے جاتے ہیں۔ ہم خود گناہگار لوگ ہیں، دوسروں کے متعلق فیصلہ کیسے سنا سکتے ہیں؟ ماسوائے اس کے کسی کا کفر اعلانیہ ہو، وہ اس پر اصرار کرتا ہو اور اس نے کبھی چھپانے کی کوشش نہ کی ہو۔ کسی برسوں پرانے اخباری بیان یا ٹی وی کی طوفانی نشریات میں زبان سے پھسلنے والے کسی جملہ کی بنیاد پرایمان کا فیصلہ کرنا بہت رسکی کام ہے، اس کے بجائے حسن ظن سے کام لینے کو ترجیح دیں گے۔

تیسر اپہلو افکار ونظریات کا ہے۔ اس پر بات ہوسکتی ہے۔ خاص طور رپر اس وقت جب ان افکار ونظریات کو آگے بڑھانے والے موجود ہوں اور دنیا سے جانے والے کی آرا بطور سند پیش کی جائیں۔ ان کی پیروی کرنے اور اسی راستے پر چلنے کا عزم کیا جائے۔ تب ان افکار اور نظریات سے اختلاف کرنے والوں کاحق ہے کہ وہ اپنا مؤقف سامنے رکھیں۔ مرحومین کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنی بات کہیں۔

عاصمہ جہانگیرکے انتقال کے حوالے سے چار پانچ قسم کے ردعمل سامنے آئے۔ ایک تو وہ لوگ تھے جو زندگی میں ہی عاصمہ جہانگیر کی بہت عزت کرتے اور کئی حوالوں سے انہیں فالو کرتے تھے۔ عاصمہ جہانگیر ان کے نزدیک ایک آئیکون، عظمت کا استعارہ اور بلندیوں کی علامت تھیں۔ ان میں عمومی طور پر لیفٹ ونگ، لبرل، سیکولر حلقوں کے لوگ شامل ہیں۔ پیپلزپارٹی، اے این پی، بلوچ پشتون قو م پرست، مسلم لیگ ن کا بھی آج کل عاصمہ جہانگیر جیسا بیانیہ ہے، اس لیے یہ بھی اسی کیمپ میں ہے۔ دوسرا ردعمل ان ’’سوئنگ ووٹرز‘‘ کا ہے جو میڈیا کی لہر کے ساتھ بہتے اور اپنی رائے بناتے ہیں۔ میڈیا پر عاصمہ جہانگیر کو عظمت کے سنگھاسن پر براجمان کیا گیا تو یہ لوگ بھی متاثر ہوگئے اور وہی راگ الاپنے لگے۔ باقی تین قسم کے ردعمل مذہبی سوچ یا ذوق رکھنے والے حلقوں میں سے آئے۔ ایک حلقہ وہ تھا جو جذباتی ہو کر فوری طور پر تنقید کرنے لگا، سوشل میڈیا پر اس کے مظاہر زیادہ واضح ہوئے۔ اس تنقید میں کچھ لوگ حد سے بھی گزر گئے، جس کی تحسین نہیں کی جا سکتی۔ دوسرا حلقہ وہ تھا جس نے اپنے شدید تحفظات کے باوجود انتقال پر سکوت اختیار کیا اور مرنے والوں کی برائیوں کے بجائے ان کے محاسن یاد کرو والے اصول کی پیروی کی۔ اسی رائٹ ونگ یا اسلامسٹوں کا تیسرا حلقہ وہ تھا جس نے بڑے زور شور سے عاصمہ جہانگیر کی داد وت حسین کی اور اس میں شدید مبالغہ کی حدوں کو چھو لیا۔ یہ پہچاننا مشکل ہوگیا کہ ایسی گفتگو کرنے اور لکھنے والے کوئی سیکولر صاحب ہیں یا رائٹ ونگ ان کی شناخت ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ گہرائی سے دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ آخری حلقہ وہ تھا، جس پر ملک کی سیاسی تقسیم غالب آ چکی ہے اور تقریباً یہ تمام لوگ مسلم لیگ ن کے سیاسی مؤقف کے بھرپور حامی ہیں یا اس طرف نرم گوشہ رکھتے ہیں۔

عاصمہ جہانگیر کی فکر کی کئی جہتیں تھیں۔ وہ سخت اینٹی اسٹیبلشمنٹ تھیں، اس قدر سخت کہ کئی بار یوں لگتا جیسے وہ پاک فوج ہی کی مخالف ہیں۔اس میں شدت تب آ جاتی جب وہ ہر اس مؤقف کی مخالف ہوجاتیں، جن کی حامی پاک فوج ہوتی۔ وہ ہمیشہ مخالف کیمپ میں پائی گئیں۔ مذہب بیزاری کا رویہ ان کی فکر میں عام جھلکتا تھا۔ وہ مسلمات جن کو پاکستانی مسلم سماج بہت عزیز رکھتا ہے، عاصمہ جہانگیر ان میں سے بیشتر کی شدید ناقد تھیں بلکہ وہ تنقید کرتے ہوئے اکثر حدود سے تجاوز کر جاتی تھیں۔ مذہب اور اہل مذہب ان کی تلوار کی زد پر رہتے اور یہ ماننا چاہیے کہ یہ تلوار انہوں نے خوب چلائی۔ بڑی بےرحمی اور سفاکی سے تاک تاک کر مذہبی حلقوں کو نشانہ بنایا، ان کا مضحکہ اڑایا، سخت تنقید کی اور طنز کے کٹیلے تیر چلاتی رہیں۔

توہین رسالت کے قانون کی پاکستانی سماج میں غیر معمولی حساسیت ہے، عاصمہ جہانگیر اور ان کے فکری پیروکار ہمیشہ اس قانون کے مخالف رہے، نہ صرف قانون میں ترمیم بلکہ ان میں سے اکثر سرے سے توہین رسالت کی سزا ہی کی نفی کرتے ہیں۔ مغرب کی ہمارے اس قانون کے بارے میں جو سوچ ہے، اس کے حامی پاکستان میں موجود ہیں، بدقسمتی سے عاصمہ جہانگیر اسی کیمپ کی ایک لیڈر تھیں۔ وہ ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ تھیں، مگر اس حوالے سے بھی ان پر سلیکٹو ہونے کی تنقید کی جاتی۔ دنیا بھر میں مسلمانوں پر امریکیوں یا مغرب کے ڈھائے مظالم ان کی نظر سے اوجھل رہتے۔ افغان طالبان کی مذمت، مگر امریکیوں نے جو ایک ملین افغان مارے، ان کی پروا نہیں۔ لوگ طعنے دیتے رہتے کہ پروانڈیا سوچ کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم پر بات نہیں کرتیں۔ یہ تنقید بلاجواز نہیں تھیں۔ جتنی تنقید انہوں نے پاکستانی فوج کے آپریشنز پر کیں، ان سے سو گنا کم تنقید بھارتی فوج کے مظالم پر کی۔ فوجی آمروں کی وہ مخالف رہیں، جنرل ضیا کے خلاف بھرپور لڑائی لڑی۔ البتہ جنرل پرویز مشرف کے خلاف ابتدائی برسوں میں اتنی مزاحمت نظر نہیں آئی۔ ان کے ایک مداح نے لکھا کہ عاصمہ جہانگیر نے ملک میں مثبت اقدار کو فروغ دیا۔ معذرت کے ساتھ یہ بات درست نہیں۔ انہوں نے تقسیم بڑھائی اور وہ پاکستانی سماج کے بنیادی فیبرک کو نہ سمجھ پائیں۔ اقلیتوں، خاص کر قادیانیوں کے لیے انہوں نے آواز ضرور اٹھائی، مگر اس قدر درشت لہجہ اپنایا کہ عملی طور پر ان کی جدوجہد کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ پہنچا۔

عاصمہ جہانگیر پاکستان کے متنازع کرداروں میں سے ایک ہیں۔ ان کے محاسن بھی بڑے تھے اور کمزوریاں بھی بڑی تھیں۔ وہ غیر متنازع شخصیت نہیں اور انہیں یک طرفہ طور پر گلوریفائی کرنا درست نہیں۔ جو بات جتنی ہے، اتنی کہنی چاہیے۔ جس کا جو مقام بنتا ہے، وہ ضرور دیا جائے، ایسا کرتے ہوئے ظلم سے کام نہ لیں۔ عاصمہ جہانگیر پر تنقید کرنے والوں کو یہ جواب دیا جاتا ہے کہ ان کے قد کا فیصلہ تاریخ کرے گی۔ بات درست ہے، مگر پھر اتنی عجلت کاہے کی؟ مؤرخ کا کام اپنے ہاتھ میں کیوں لیا جا رہا ہے؟ بہتر یہ نہیں کہ تاریخ کے فیصلے کا انتظار کریں، ہم بھی اور آ پ بھی؟