سنگ دلی اور شقاوت نبی ﷺ کی میراث نہیں - حافظ یوسف سراج

رسول رحمت کی سیرت مبارکہ رحمدلی کی شاندار اور بے نظیر مثالوں سے بھرا حسین گلدستہ ہے، رسول اقدس کی سیرت رحمت کو قرآن مجید نے صرف ایک آیت میں کس خوبصورتی سے سمو دیا۔

وما ارسلناک الا رحمۃ اللعالمین
"ہم نے تو آپ کو بس تمام جہانوں کے لیے رحمت ہی بنا کے بھیجا ہے۔"

غور فرمائیے تو معلوم ہو، نبی آخر الزماں انسانوں ہی کے لیے رحمت نہ تھے، آپ کسی ایک عہد یا صرف ایک ہی جہان کے لیے رحمت نہ تھے، آپ صرف کسی ایک ہی صنف یا ایک ہی قسم کے لیے بھی رحمت نہ تھے ، بلکہ آپ ہر عہد ، ہر صنف اور ہر جہاں کے لیے رحمت تھے، ماضی اور حال ہی کیلیے نہیں ، آپ مستقبل کے ہر جہان کے لیے بھی رحمت ہیں۔
آپ ان کے لیے بھی رحمت ہیں
جو زمانے ابھی نہیں آئے

ایسے رحیم، نرم دل، نرم خو اور رقیق القلب انسان روئے ارض پر دوسرے کوئی نہیں گزرے۔ آپ کی رحمدلی اور صفت رحمت کا دائرہ زمین و زمن کی ہر چیز کو محیط تھا۔ انسان، جانور، پرندے ، پودے، مسلمان ،کافر ، اپنے پرائے ، بچے بوڑھے، عورت مرد غرض جاندار و بے جان سبھی آپ کی رحمت کے بے کراں دریا سے سیراب ہوئے۔

عہد حبیب کے ایک جمعہ کی بات ہے، سراپا رحمت رسول جمعہ کا خطبہ دینے مسجد نبوی میں کھڑے ہوئے۔ آپ کھجور کے ایک خشک تنے کے ساتھ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے۔ کچھ دیر یہ سلسلہ یونہی چلا ، پھر ایک انصاری خاتون نے جھاؤ کے درخت سے آپ کے لیے منبر بنوا دیا۔ یہ اسی دن کا ذکر ہے، جس دن مسجد میں سے تنا اٹھا کے، اس کی جگہ منبر رکھا جانا تھا، دراصل اس دن اس زمین پر کائنات کے سب سے عجیب واقعہ کا ظہور ہوا۔ دراصل جب کھجور کا وہ تنا اٹھایا گیا تو مارے دردِ جدائی کے وہ بچوں کی طرح رونے ، بلکنے اور سسکنے لگا۔ ساری مسجد نبوی معصوم بچے کی درد بھری روتی کیفیت سے بھر گئی۔ صحابہ حیران و ششدر اک بے جان تنے کے وجود سے پھوٹتی چیخیں اور سسکیاں سننے لگے۔ تب آپ آگے بڑھے ، اور آپ نے اپنے ریشمی ہاتھوں سے اس لرزتے وجود تنے کو یوں سہلایا، جیسے کسی بچے کو پیار کر کے سہلایا اور چپ کروایا جاتا ہے۔ رحمت اللعالمین کے ریشمی ہاتھوں کے لمس سے اس کے وجود میں بہت تسکین اور تاثیر اتری تو تب جا کے وہ چپ ہوا۔ آپ سوچئے کہ خشک تنوں کے اندر جس نبی کی رحمت کی یوں تاثیر اتر گئی ہو، جیتے جاگتے اور سوچتے سمجھتے انسان اس سے کس طرح محروم رہ گئے ہوں گے، یا خشک تنوں نے جس وجودِ مسعود سے یوں رحمت سمیٹ لی ہو، خود انسانوں پر وہ نبی کس طرح رحیم نہ رہے ہوں گے۔

ایک شب آپ قرآن مجید کی ایک آیت پڑھتے رہے، روتے رہے، شب گزرتی رہی مگر آپ نماز میں کھڑے رہے ، روتے رہے ، پڑھتے رہے، اشک بہاتے رہے اور تلاوت فرماتے رہے، کامل شب اور ایک ہی آیت۔۔ سورہ مائدہ کی اس شب پڑھی گئی آیت کا مفہوم کچھ یوں بنتا ہے۔
مولا او میرے مولا!
گناہوں میں لتھڑے، عصیاں میں ڈوبے،
یہ سارے تیرے ہی بندے ہیں،
تیرے ہی عبید ، تیرے ہی غلام،
تو انھیں عذاب دے یا ثواب دے ،
تو انھیں جیسا رکھے ، جہاں رکھے،
یہ سب تیرے ہی بندے ہیں، تیرے ہی غلام،
عذاب دے تو تب بھی تو قادرِ مطلق اور اگر تو انھیں اپنی رحمت کے دریا میں غوطہ دے کر اپنے دامن رحمت میں سمیٹ لے تو تو بھی تیرے لیے کچھ مشکل نہیں،
کہ نہ تجھ سا کوئی غفور
نہ تجھ سا کوئی رحیم!

آج عالم یہ ہے کہ بقول افتخار عارف

کبھی افلاک سے نالوں کے جواب آتے تھے
ان دنوں عالمِ افلاک سے خوف آتا ہے

رحمتِ سیدً لولاک پہ کامل ایمان
امتِ سیدِ لولاک سے خوف آتا ہے​

یہ افتخار عارف نے کہا، مجھے تو بس یہی کہنا ہے کہ سنگدلی اور شقاوت مسلمانوں کے نبی کی میراث نہیں۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.